نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا کا یوم وفات

آج نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا کا یوم وفات ہے

مرزا محمد ہادی رسوانام محمد ہادی، تخلص مرزا، فرضی نام رسوا تھا۔ لکھنو کے محلہ ’’بگٹولہ‘‘میں 1857ء میں پیدا ہوئے۔ مرزا محمد ہادی رسوا کے مورث اعلیٰ ماڑ ندران سے دلی آئے اور وہاں سے لکھنو آ کر مستقل سکونت اختیار کرلی۔
مرزا محمد ہادی رسوا کے والد کا نام آغا محمد تقی تھا۔ والدین کا سایہ سولہ سال کی عمر میں ہی سر سے اٹھ گیا۔ رشتے کے ایک ماموں نے پرورش کی لیکن تمام خاندانی ترکے پر قابض ہوگئے۔
فارسی کی درسیات اور ریاضی و نجوم کی تحصیل اپنے والد سے کی۔ اس کے بعد عربی اور مذہبی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انگریزی پڑھنی شروع کی۔ انٹر کا امتحان پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیا۔ اس کے بعد رڑکی چلے گئے۔ وہاں سے اوورسیئری کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے منشی کامل کا امتحان بھی پاس کیا۔
بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیوٹ طور پر بی۔اے کیااور امریکہ کی اورینٹل یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
ایک دن اتفاقاً کیمسٹری کا ایک عربی رسالہ ہاتھ آگیا۔ اس کے مطالعہ کے بعد علم کیمیا کا شوق اس حد تک دامن گیر ہوا کہ ملازمت سے مستعفی ہو کر لکھنوچلے آئے۔ یہاں نحاس مشن اسکول میں فارسی کے استاد مقرر ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاضل اوقات میں کیمیا سازی کے تجربے کرتے رہے۔ اسی زمانے میں ایک لوہار کے لڑکے کو ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔ معاوضے میں اس کی بھٹی استعمال کرتے اور کیمیا سازی کے آلات تیار کرتے۔
’’اشراق‘‘نام کا ایک پرچہ بھی اسی زمانے میں نکالا۔ بعد میں لکھنوکے ’’ریڈ کرسچین کالج‘‘میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ یہاں کے پرنسپل بریڈے صاحب مرزا محمد ہادی رسوا کے بڑے معتقد تھے۔ اس کالج میں وہ عربی، فارسی، تاریخ، فلسفہ سبھی کچھ پڑھاتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی شام کے وقت ’’ازابیلا تھوبر من گرلز کالج‘‘میں تدریس کی خدمت انجام دیتے۔
کچھ دنوں بعد علم نجوم کا شوق اس طرح مسلط ہوگیا کہ دونوں کالجوں کی ملازمت چھوڑ کر اس علم کے پیچھے پڑ گئے اور ’’زیح مرزائی’’کے نام سے ستاروں کا ایک چارٹ تیار کر ڈالا۔ تین چار سال بعد بریڈے صاحب انھیں دوبارہ ریڈ کرسچین کالج میں لے آئے۔
1919 ء کے آس پاس عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد کے دارالترجمہ سے وابستہ ہوئے اور وہاں پر بہت سی کتابیں تصنیف و ترجمہ کیں۔ مرزا محمد ہادی رسوا کو مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق تھا۔ چنانچہ عربی، عبرانی، یونانی، انگریزی، فارسی، ہندی، سنسکرت زبانوں پر اچھا خاصا عبور حاصل تھا۔ منطق و فلسفہ اور ریاضی میں مہارت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مشرقی و دنیوی علوم پر آپ کو دسترس حاصل تھی۔
آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے لیکن بحیثیت ناول نگار آپ کی شہرت نے آپ کے فضل و کمال کے دوسرے پہلوؤں کو دبا لیا۔ شاعری میں مرزا اوج سے اصلاح لیتے تھے ،جو مرزا دبیر کے شاگرد تھے۔
غالب کے خاص مداح تھے۔ بعد میں مومن کو پسند کرنے لگے تھے۔ حالی، نذیر، محمد حسین آزاد اور شبلی وغیرہ ان کے معاصرین میں تھے۔ مذہبی مناظروں کا بھی شوق رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک کتاب بھی لکھی ۔
یوں تو آپ نے کئی ایک ناول لکھے ہیں لیکن ’’امراؤ جان ادا’’آپ کا شاہکار ناول ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے ۔
بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972) اور دو بھارتی فلموں امراؤ جان (1981) اور امراؤ جان (2006) کے لیے بنیاد بنا ۔ 2003 میں نشر کیے جانے والے ایک پاکستانی ٹی وی سیریل کی بنیاد بھی یہی ناول تھا ۔
چہار شنبہ 21 اکتوبر 1931ء کو حیدرآباد میں انتقال فرمایا اور قبرستان باغ راجہ مرلی دھر تڑپ بازار، حیدرآباد میں دفن ہوئے۔
آپ کے مزاج میں استغنا، لاابالی پن اور لاپرواہی حد سے زیادہ تھی۔ اس لیے آپ کا شعری سرمایہ پوری طرح یکجا نہ ہوسکا اور جو یکجا ہوا ، محفوظ نہ رہا۔ اس کے علاوہ بہت سی تصانیف بھی دستبرد زمانہ کا شکار ہوگئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : بس ایک بار ہی دیکھیں نقاب میں آنکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتے تھے مگر جب کبھی اصرار ہوتا تھا تو ضرور جاتے تھے۔غزل گوئی میں اپنا زیادہ وقت صرف نہیں کرتے تھے۔مشاعرہ کے دو ایک گھنٹے پیشتر غزل کہنا شروع کرتے تھے۔مقررہ وقت تک کافی تعداد اشعار کی ہو جاتی تھی۔
ایک مشاعرہ میر تقی میرؔکی فاتحہ صد سالہ کے نام سے ہوا تھا جس میں مرزاؔ صاحب نے میرؔ کی شاعری پر ایک پر مغز تقریر کی تھی اور ذیل کی غزل طرح میں پڑھی تھی جس کے اکثر شعر لکھنؤ میں زبان زد عام ہو گےٗ۔ اس طرح میں میرؔ و غالبؔ کی معرکہ آرا غزلیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن شاہد ہے مری رنگینیٔ تحریر کا
ایک ادائے شوخ ہے جو رنگ ہے تصویر کا
فطرت انسان کی کمزوری دکھاتے ہیں
ضعف میں شکوہ عبث ہے گردشِ تقدیر کا
بن پڑا وہ ہم سے کب جو کام تھا تقدیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر کا انداز دیکھیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ میرا حال، اگر تو جھوٹ سمجھے عشق کو
سن میری فریاد، اگر قائل نہ ہو تاثیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر نہیں عبرت کا دفتر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد کر لینا کہ اکثر بستیاں ویراں ہوئیں
اس خرابے میں خیال آئے اگر تعمیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر کی گہرائی دیکھیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھم گئے آنسو نمائش جب ہوئی مدنظر
رک گیا نالہ جو اندیشہ کیا تاثیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبان اور انداز بیان دیکھیے ۔ اس رنگ کے شعر مرزاؔ کی خاص پسند کے تھے۔ مشاعروں میں انھوں نے ایک خاص انداز سے اس کو پڑھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحذر کام دنیا میں تمھیں سے ہو سکا
چاہنے والے پہ اپنے کھینچنا شمشیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشقانہ شعر ہے مگر وہی ندرت بیان اور خوبی زبان کا پہلو لیے ہوےٗ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طبع نازک پر گراں ہے کیوں مرا سر پھوڑنا
ہم نہ کہتے تھے نہ چھیڑو تذکرہ تقدیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شعر بیت الغزل ہے اس کا زور دیکھیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وضع کے پابند ہم دیوانگی جدت پسند
پھر گلایا جاےٗ لوہا قیس کی زنجیر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : یہ نارسائی کی ڈوریں تو کٹ گئیں مجھ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غرض مشاعرہ ملحوظ رکھتے ہوےٗ مقطع کہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس غزل گوئی میں وہ تاثیر ہے مرزاؔ آج
سو برس کے بعد عالم نوحہ خواں ہے میرؔ کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا کی شاعری کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات و خیالات نظم کرتے تھے جو ایک فطری شاعر میں ہونا چاہیےٗ۔غالبؔ کی زمینوں میں انھوں نے خوب خوب گل کھلاےٗ ہیں،افسوس کہ وہ سب کلام دستیاب نہیں ہو سکا مگر جس قدر ملا ہے وہ ملاحظہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسے ہو حسن ظن تم سے کسی سے بدگماں کیوں ہو
تمھارے عہد میں بدنام دورِ آسماں کیوں ہو
کسی پر جان جاتی ہے تو ضبط شوق مشکل ہے
نہ ہو قابو اگر دل پر تو کہنے میں زباں کیوں ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر میں جو ٹکڑے ہیں یہ مرزاؔ صاحب کی خاص پسند کے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو دل مطلوب ہے اچھا۔یہ تمھید وفا کیسی
ستم مقصود ہے بہتر،فریب امتحاں کیوں ہو
مری بیتابیوں کا حال غیروں سے نہ کہنا تھا
تم ایسے ہو تو پھر کوئی کسی کا رازداں کیوں ہو
دل آزاری کو جس کی دلربائی ہم سمجھتے ہوں
توقع اس سے کیسی،پھر وہ ہم پر مہرباں کیوں ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دونوں شعر دیکھیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت میں مخاطب ہو تمھیں شکوہ شکایت کے
تمھیں جس کے ہو وہ شکوہ سنج آسماں کیوں ہو
فرشتو! جب کسی سے ہو وقوع سعئ لاحاصل
مرے اعمال میں لکھدو وہ محنت رائیگاں کیوں ہو
کہیں گے حالِ دل مرزاؔ کبھی رمز و کنایت میں
ملالِ خاطرِ احباب اندازِ بیاں کیوں ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزاؔ غالبؔ کی مشہور غزل پر مرزاؔ کی طبع آزمائی دیکھیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحتیں طول مرض کی صرف درماں ہو گئیں
زندگی جن مشکلوں سے تھی وہ آساں ہو گئیں
صورتیں امید کی خوابِ پریشاں ہو گئیں
سامنے آنکھوں کے آئیں اور پنہاں ہو گئیں
اُن سے کیا لطف تعلق اُن سے کیا دل بستگی
غیر کے ماتم میں جو زلفیں پریشاں ہو گئیں
ناخن وحشت نے سینے پر جو کیں گلکاریاں
فصل گل میں زینتِ چاکِ گریباں ہو گئیں
سیکڑوں رخنے کیے پیدا در و دیوار میں
شوق کی نظریں رقیب چشم درباں ہو گئیں
بے مرمت سی جو قبریں کوچہٗ وحشت میں تھیں
وہ بھی آخر صرف استحکام زنداں ہو گئیں
کُھل گےٗ چینِ جبیں سے ان کی بدخوابی کے بھید
جن اداؤں کو چھپاتے تھے نمایاں ہو گئیں
دل میں اب کیا رہ گیا ہے، ناامیدی کے سوا
آرزوئیں خون ہو کر نذرِ مژگاں ہو گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقطع ملاحظہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند باتیں وہ جو ہم رندوں میں تھیں ضرب المثل
اب سُنا مرزاؔ کہ وردِ اہلِ عرفاں ہو گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگاہِ مہر ہے عالم کے اجزاےٗ پریشاں پر
ہر اک ذرے کا حق ثابت ہے خورشید درخشاں پر
فنا کے بعد بھی چھوٹا نہ میں قید تعلق سے
مری تصویر کھنچوائی گئی دیوارِ زنداں پر
بہل ہی جاےٗ گا دل شہر کی گلیوں میں اے ناصح
نہیں آوارگی موقوف کچھ سیرِ بیاباں پر
کبھی تو اس طرف بھی کوئی بھولے سے نکل آےٗ
کہاں تک بیکسی رویا کرے گورِ غریباں پر
دکھاتے جوشِ وحشت کے مزے تجھ کو بھی اے ناصح
مگر کیا کیجیےٗ قابو نہیں بندِ گریباں پر
مجھے ذوقِ جنوں نے دے کے رخصت ذوقِ خواری کی
کیے ہیں بار ہا احسان اطفالِ دبستاں پر
سمجھتے کافرانِ عشق کی دشواریاں یہ بھی
اگر طاعت بتوں کی فرض ہوتی اہلِ ایماں پر
کہیں ہم اب کچھ ایسے شعر مرزاؔ جس میں جدت ہو
کہاں تک حاشیے لکھا کریں غالبؔ کے دیواں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی بحروں میں مرزاؔ کی روانی طبیعت کا اندازہ کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابر جب جھوم جھوم کر آےٗ
دل جو اُمڈے ہوےٗ تھے بھر آےٗ
دل میں طوفاں اٹھاتے تھے نالے
لب تک آےٗ تو بے اثر آےٗ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیل کے شعر میں کوٹھے کا استعمال اور مصرع کی بلندی دیکھیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیے کیا آسمان سے ٹھری
آپ کوٹھے سے کیوں اُتر آےٗ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند شعر ایک طرح میں اور سنیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتے مرتے نہ قضا یاد آئی
اسی کافر کی ادا یاد آئی
تم جدائی میں بہت یاد آےٗ
موت تم سے بھی سوا یاد آئی
لذت معصیتِ عشق نہ پوچھ
خلد میں بھی یہ بلا یاد آئی
چارہ گر زہر منگا دے تھوڑا
لے مجھے اپنی دوا یاد آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ردیف وہی، قافیہ و بحر مختلف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشِ وحش و طیر یاد آئی
دشت وحشت کی سیر یاد آئی
ذاہدو آج ہم کو پھر وہ شے
جس سے ہے تم کو بیر یاد آئی
دیکھ کر مشہدِ ادا اُن کو
لالہ و گل کی سیر یاد آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب چند منتخب غزلیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑ کے جاتے ہو تو ایک تیغ لگاتے جاؤ
ہاتھ اٹھاتے ہو تو یوں ہاتھ اُٹھاتے جاؤ
حالِ دل سچ بھی کہوں میں تو مجھے جھٹلا دو
بھید کھلتے ہوں تو کچھ بات بناتے جاؤ
وعدۂ شام کرو، صبح کو جاتے ہو اگر
کوئی بے وقت جو سوےٗ تو جگاتے جاؤ
کہیں بدنام نہ ہو جاؤ پشیماں کیوں ہو
ہاتھ ملتے ہو تو مہندی بھی لگاتے جاؤ
یوں چلو راہ وفا میں کہ نہ پاےٗ کوئی
جو نشاں راہ میں ہیں ان کو مٹاتے جاؤ
میرؔ کا نام تو روشن ہے مگر اے مرزاؔ
ایک چراغ اور سرِ راہ جلاتے جاؤ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چارہ گر مشورۂ ترکِ وفا دیتے ہیں
زہر دیتے ہیں یہ ظالم کہ دوا دیتے ہیں
مجھ کو یہ خوف کہ تم بھی کہیں اُن میں سے نہ ہو
چاہنے والے کو جو لوگ دغا دیتے ہیں
کان تک اُس کے نہ پہنچے تو نہ پہنچے فریاد
سننے والوں کا کلیجا تو پکا دیتے ہیں
الحذر شیخ بُرے ہوتے ہیں پینے والے
اچھے اچھوں کو یہ دھوکے سے پلا دیتے ہیں
تنگیٔ عیش میں ممکن نہیں ترکِ لذت
سوکھے ٹکڑے بھی تو فاقوں میں مزا دیتے ہیں
یادِ ایام جوانی ہے بہت درد انگیز
وہی اچھے جو افسانے بُھلا دیتے ہیں
جب غزل کوئی نئی کہتے ہیں مرزاؔ صاحب
کسی حیلے سے انھیں جا کے سنا دیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بُرے یا بھلے لہو رونے والے
یہی لوگ ہیں سرخرو ہونے والے
تہِ چرخ برپا ہوئے حشر کیا کیا
مزاروں میں سویا کیے سونے والے
زہے خوش نصیبی شہیدانِ غم کی
مزاروں سے ہنستے اٹھے رونے والے
شب وعدہ چیخیں گے ہم بھی سحر تک
ذرا سُن رکھ او شام سے سونے والے
کہاں تک تو برسے گا اے ابر کُھل جا
ابھی دیر تک روئیں گے رونے والے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نالہ رکتا ہے تو سر گرم جفا ہوتا ہے
درد تھمتا ہے تو بے درد خفا ہوتا ہے
پھر نظر جھینپتی ہے آنکھ جھکی جاتی ہے
دیکھیے دیکھیے پھر تیر خطا ہوتا ہے
عشق میں حسرت دل کا تو نکلنا کیسا
دم نکلنے میں بھی کم بخت مزا ہوتا ہے
حال دل ان سے نہ کہتا تھا ہمیں چوک گئے
اب کوئی بات بنائیں بھی تو کیا ہوتا ہے
آہ میں کچھ بھی اثر ہو تو شرر بار کہوں
ورنہ شعلہ بھی حقیقت میں ہوا ہوتا ہے
ہجر میں نالہ و فریاد سے باز آ رسواؔ
ایسی باتوں سے وہ بے درد خفا ہوتا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ممتاز شاعر ڈااکٹر معین احسن جذبیؔ کا یومِ پیدائش
نامور شاعرہ رحمت النساء نازؔ کا یوم وفات
نامور افسانہ و ڈرامہ نگار میرزا ادیب کا یوم وفات
معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا یومِ پیدائش
معروف شاعرہ پروین فنا سید کا یوم پیدائش
مشہور و معروف شاعر افتخار نسیم افتی کا یومِ پیدائش
معروف ادیب غلام حسن شاہ کاظمی کا یوم وفات
اردو کے مشہور شاعر ڈاکٹر یونگ وان لئیو شیدا چینی کا یوم پیدائش
کینیڈا میں رہنے والے پاکستانی شاعر حامد یزدانی کا یومِ پیدائش
نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کا یومِ پیدائش