اردوئے معلیٰ

یہ نارسائی کی ڈوریں تو کٹ گئیں مجھ سے

مگروہ رونقیں کچھ دور ہٹ گئیں مجھ سے

 

تمہارا قرب بھی کیا چیز تھا مگر افسوس

اخیر وقت میں سانسیں بھی گھٹ گئیں مجھ سے

 

میں اک غبار ِتمنائے سوز ِ غم طلبی

تمام شہرکی دیواریں اٹ گئیں مجھ سے

 

وہ ہاتھ شرم و حیا کے سبب بندھے ہوئے تھے

سو یوں ہوا کہ وہ آنکھیں لپٹ گئیں مجھ سے

 

یہی ہوا کہ میں دیوار ہو گیا آخر

تمھاری یاد کی بیلیں لپٹ گئیں مجھ سے

 

یقین کرنا پڑا، ہو گیا ہوں میں پتھر

صدائیں چھو کے تری جب، پلٹ گئیں مجھ سے

 

میں ایک دشت میں غم چھوڑنے گیا تھا زبیرؔ

کسی کی چھوڑی بلائیں چمٹ گئیں مجھ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات