اردوئے معلیٰ

نصیب اوج پہ میرا بھی ہو گیا صاحب

تصوّراتِ مدینہ میں کھو گیا صاحب

 

عطائے خاص ہوئی مجھ پہ رب تعالیٰ کی

درود پڑھ کے میں جس وقت سو گیا صا حب

 

دیارِ سیّد والا میں حاضری کے لیے

جسے بلایا گیا ہے سو وہ گیا صاحب

 

وہ جانے والا گیا شہرِ مصطفیٰ لیکن

گلے سے مل کے وہ آنکھیں بھگو گیا صاحب

 

حرم سے طیبہ کی جانب جو میں روانہ ہوا

سفر وہ میرے گناہوں کو دھو گیا صاحب

 

درِ رسول کے سارے حسیں مناظر کو

نظر کے راستے دل میں سمو گیا صاحب

 

وہیں پہ بارشِ انوار کا نزول ہوا

جہاں بھی ذکر مدینے کا ہو گیا صاحب

 

جو اُن کو صرف بشر مانتا ہے نور نہیں

وہ شخص اُن کی شفاعت سے تو گیا صاحب

 

وہ اپنے خاکیؔٔ بے کس کو بخشوائیں گے

اِسی خوشی میں یہ خاکی بھی رو گیا صاحب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ