نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

 

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا

 

لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا

میرے مولیٰ مرے آقا ترے قربان گیا

 

آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہی رہی

ہائے وہ دل جو ترے در سے پُر ارمان گیا

 

دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

 

اور تم پر مرے آقا کی عنایت نہ سہی

پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

 

آج لے اُن کی پناہ ، آج مدد مانگ ان سے

پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

 

اف رے منکر یہ بڑھا جوش تعصب آخر

بھیڑ میں ہاتھ سے کم بخت کے ایمان گیا

 

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینہ پہنچے

تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات