نقشِ پا اُن کا لا کلام تمام

نقشِ پا اُن کا لا کلام تمام

اور سارے نقوش خام تمام

 

نور جن کا ہے اَوّلیں تخلیق

کائنات ان کا فیضِ عام، تمام

 

تھا تو پیغام ہر نبی علیہ السلام کا وہی

اُن پہ ہونا تھا یہ نظام تمام

 

راہِ دیں پر ہر اک رسول چلا

مصطفیٰ نے کیا خِرام تمام

 

آپ نے در گزر کا درس دیا

عفو کی، رسمِ انتقام تمام

 

روشنی کے منار ہیں بیشک

اُن کے اصحابؓ خاص و عام تمام

 

اُسوۂ مصطفیٰ کو اپنا کر

ہو گئے فائز المرام تمام

 

پیرویٔ رسول میں جو مٹے

ہیں رہِ عشق کے امام تمام

 

آرزو صرف ایک باقی ہے

اُن کی دہلیز پر ہو کام تمام

 

نعت اُن کی اُنہیں سناتے ہوئے

کاش ہو جائے یہ غلام تمام

 

آپ کے فیض مکرمت سے ہوئی

نسلِ آدم ذوالاحترام تمام

 

پیروی جن کی فرض ہے احسنؔ

اُن کی مدحت پہ ہو کلام تمام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ