اردوئے معلیٰ

نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے

انہی کے در پر میں جاکے سمجھا کہ میرے دامن میں کیا نہیں ہے

 

عطا ہے ان کی، عنایتیں ہیں، شفاعتیں ہیں، کفالتیں ہیں

کرم کی بارش برس رہی ہے یہ سلسلہ تو رکا نہیں ہے

 

عطائے ربی کے وہ ہیں قاسم سو ان کے در پر کمی ہو کیسے

شہ و گدا میں کوئی بھی منگتا وہاں سے خالی مڑا نہیں ہے

 

نبی کے در سے جو لو لگاؤ تو استقامت ہے شرطِ اول

محبتوں کا عبث ہے دعو یٰ جو خوں میں شامل وفا نہیں ہے

 

انہی کا در ہی خدا کا در ہے کہ ان کی طاعت خدا کی طاعت

خدا کے در سے پھرے گا خالی جو ان کے در پر جھکا نہیں ہے

 

بدن نبی کا لہو سے تر ہے جو اہلِ طائف نے ظلم ڈھائے

مگر کسی کا برا نہ چاہا زبان پر بد دعا نہیں ہے

 

جو بے ادب آلِ پاک کے ہیں، یہاں بھی رسوا وہاں بھی رسوا

کہ نظریں ان کی حیا سے عاری ،دلوں میں خوفِ خدا نہیں ہے

 

جلیل ان پر کرم ہوا ہے جو خلوتوں میں جمے رہے ہیں

خدا کا اترے گا نور کیسے وہ دل جو غار حرا نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات