اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

 

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

مرحبا رنگ ہے کیا سب سے نرالا تیرا

جھوم اٹھا جس نے پیا وصل کا پیالا تیرا

اولیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اجالا تیرا

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

 

جیسے چاہے تری سنتا ہے سناتا ہے تجھے

حسبِ تدبیر سلاتا ہے جگاتا ہے تجھے

اپنی مرضی سے اٹھاتا ہے بٹھاتا ہے تجھے

قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے

پیارا اللہ ترا چاہنے والا تیرا

 

بخدا مملکتِ فقر کا تو ناظم ہے

تاجداروں پہ سدا دھاک تری قائم ہے

کیوں نہ راحم ہو کہ اللہ ترا راحم ہے

کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابن ابی قاسم ہے

کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا

 

میں کہاں اور کہاں تیرا مقامِ قربت

میری اوقات ہی کیا تھی کہ یہ پاتا رفعت

تیری چوکھٹ نے عطا کی یہ مسلسل عزت

تجھ سے در ، در سے سگ ، سگ سے ہے مجھ کو نسبت

میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جہان بھر میں نمایاں ہے اِک نظارۂ خیر
گُلاب موسم ہے اور نکہت کا سلسلہ ہے
احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا
میں رہوں نغمہ طرازِ شہِ دیں حینِ حیات
کم ہے محیطِ فکر اور تنگ ہے ظرفِ آگہی
کیسے لکھوں نعتِ مزین
ذرۂ ناچیز خاکِ کفشِ پائے مصطفیٰؐ
جب سے کچھ ہوش سنبھالا ہے جبھی سے ہم کو
محمدؐ مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں