اردوئے معلیٰ

وقت جیسے کٹ رہا ہو جسم سے کٹ کر مرے

کوئی مرتا جا رہا ہے جس طرح اندر مرے

 

اب مری وحشت تماشہ ہے تو ایسے ہی سہی

اب تماشائی ہی بن کے آ ، تماشہ گر مرے

 

روکتا ہی رہ گیا کہ عشق کو مت چھیڑنا

یہ بلا بیدار ہو کر آن پہنچی سر مرے

 

پھونک دی نہ روح آخر تم نے اندیشوں میں بھی

سچ ہوئے جاتے ہیں سارے خوف سارے ڈر مرے

 

شہر بھر میں کوئی بھی تنہا نہ تھا میرے سوا

لوٹ آئی ہے تھکی ہاری اداسی گھر مرے

 

عشق پیشہ لوگ تو ہیں عشق پیشہ آج بھی

تو سنا کس حال میں زندہ ہے پیشہ ور مرے

 

اٹ گئی ہیں دھول سے روزن میں ہی آنکھیں مری

دستکوں کی آس میں پتھرا گئے ہیں در مرے

 

داؤ پر جیسے لگا ہو آسمانوں کا بھرم

خوف کے مارے وہ کاٹے جا رہا ہے پر مرے

 

بدنمائی موت ہے تیرے لیئے تو میں سہی

جا تجھے آزاد کرتا ہوں پری پیکر مرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات