وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

وہ الگ ہے ذات نماز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا زمیں سے حسیں کوئی مرے مصطفےٰ سے بھی بڑھ کے ہے

تو کہا یہ عجز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا فلک سے کہ اور کوئی تیری رفعتوں سے ہے آشنا

تو کہا یہ اس نے بھی راز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا زمیں سے کہ معتبر درِ مصطفےٰ سی کوئی جگہ

تو کہا یہ اس نے بھی ناز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا فلک سے کہ رفعتیں کسی اور نبی کو بھی یوں ملیں

تو کہا یہ صیغۂ راز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا زمیں سے صعوبتیں کسی اور کی آل کو یوں ملیں

تو کہا یہ سوز و گداز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا فلک سے کہ کہکشاں کسی اور کی گردِ سفر بھی ہے

تو کہا یہ آس کو ناز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شمس الضحیٰ سا چہرہ قرآن کہہ رہا ہے
اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہؐ
شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ
اے مرکز و منبعِ جود و کرمؐ ، اے میرؐ اُممؐ
ہوگی کب خدمت سرکار میں میری طلبی
ہادیؐ و رہبرؐ سرورِ عالمؐ
جادہء مدینہ ہے اور کارواں اپنا
حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کردیں

اشتہارات