اردوئے معلیٰ

وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

وہ الگ ہے ذات نماز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا زمیں سے حسیں کوئی مرے مصطفےٰ سے بھی بڑھ کے ہے

تو کہا یہ عجز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا فلک سے کہ اور کوئی تیری رفعتوں سے ہے آشنا

تو کہا یہ اس نے بھی راز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا زمیں سے کہ معتبر درِ مصطفےٰ سی کوئی جگہ

تو کہا یہ اس نے بھی ناز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا فلک سے کہ رفعتیں کسی اور نبی کو بھی یوں ملیں

تو کہا یہ صیغۂ راز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا زمیں سے صعوبتیں کسی اور کی آل کو یوں ملیں

تو کہا یہ سوز و گداز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

 

یہ کہا فلک سے کہ کہکشاں کسی اور کی گردِ سفر بھی ہے

تو کہا یہ آس کو ناز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات