اردوئے معلیٰ

پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر

حضرتِ قیس آئے ہیں ، دشتِ جنوں! سلام کر

 

سینہ نہ پِیٹ، ہجر ذاد! سینے میں دل مُقیم ہے

دل میں جنابِ یار ہیں ، اُن کا تو احترام کر

 

مصرعۂ چشم و لب سُنا ، نغمۂ حُسن گُنگُنا

تُو ہے مری غزل کی جان ، جانِ غزل! کلام کر

 

کوئی دوا بتا مجھے ، تھوڑا سکوں دِلا مجھے

آگ ہوں مَیں ، بُجھا مجھے ، وحشی ہوں، مجھ کو رام کر

 

عشق کا مُقتدی ہے تو ، جیسے پڑھائے ویسے پڑھ

اپنی نماز بھول جا ، پیرویٔ اِمام کر

 

سائیں جی! کھو گیا تھا میں ، شکر ہے آپ مل گئے

پہنچا ہوں اپنے آپ تک آپ کا ہاتھ تھام کر

 

ہجر قدیم بھید ہے ، وصل عظیم بھید ہے

ہجر کی رمز کھول دے ، وصل کا راز عام کر

 

اچھا نہیں ہے اتنا جوش ، اُڑنے لگے ہیں سب کے ہوش

فارسِ بے ادب ! خموش ، اب یہ غزل تمام کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات