اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

چاند اشارے سے توڑ دیتے ہیں

چاند اشارے سے توڑ دیتے ہیں

توڑ کر پھر سے جوڑ دیتے ہیں

 

سیر چشمی جسے نہیں دیتے

اس کو ہر شے کی تھوڑ دیتے ہیں

 

ان کی اطاعت کی رہگزاروں پر

لاکھ خرچو کروڑ دیتے ہیں

 

پورا پورا حصار میں لے کر

اپنے دشمن کو چھوڑ دیتے ہیں

 

یہ بھی ان کے کرم کی صورت ہے

جتنی ہوتی ہے لوڑ دیتے ہیں

 

ان سے مانگو تو میکدے مانگو

ساغر و جم وہ پھوڑ دیتے ہیں

 

ناز دیکھو صبا کے جھونکوں سے

زور آندھی کا توڑ دیتے ہیں

 

لطف دیکھو کہ دشت وصحرا پر

سارے بادل نچوڑ دیتے ہیں

 

وہ تو ان کے بھی نا خدا ہیں نذر

بیڑیاں ہی جو روہڑ دیتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کُھلتے رستے جنگل صحرا جو ہے سب کچھ ان کا ہے
مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
رکھا بے عیب اللہ نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا نسب نامہ​
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو