چودہ اکتوبر کے نام

ایک دن ۱۴ اکتوبر کے نام
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے
..
.
.
.
یہ حوضِ کوثر بہتا ہے ….. اسکا پانی ٹھنڈا میٹھا اور شفاف ہے … اور پینے والا خوبصورت سنہری آنکھوں والا نوجوان
وہ گھنے باغات میں رہتا ہے جہاں یخ بستہ ہوائیں چلتی ہیں … جہاں نہریں ہیں کہیں دودھ کی اور کہیں شہد کی
ان سنہری آنکھوں میں خوشی چمکتی ہے اور شاید انتظار ….. یا ان خوبصورت باغات میں وہ کسی کی راہ نہیں تکتا … سنا ہے ان باغوں میں کوئی خاہش تشنہ نہیں رہتی پھر اسکی آنکھوں میں کوئی حسرت کیسے ہوگی
وہ خوش ہے بہت خوش …. سنہری آنکھیں دمکتی ہیں سنہری رنگت سے شعائیں پھوٹتی ہیں اسے ہاتھ لگاؤ تو میلا ہوتا ہے …. حسین وجیہہ جوان …. کہتے ہیں ان باغات میں سب جوان ہوتے ہیں … اور کیوں نہ ہوں گے سدا بہار خوشی انسان کو جوان رکھتی ہے
لیکن دور کہیں کسی بستی میں بھوری آنکھوں کی اداسی اضطراب ختم ہونے میں نہیں آتا …. ہوتے ہیں نا کچھ لوگ ایسے کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے
یہ بھوری آنکھیں نیلے رنگ کے گیٹ والے اسکول سے گزریں تو آوازیں آتی ہیں … خالہ چھٹی ہوگئی اب پتنگ خرید کے دیجیے نا ….. خالہ پتنگ ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں لیکن وہ دوننھے ہاتھ نہیں ہیں جو انھیں اڑا سکیں
خالہ آپکے گھر میں ہوا نہیں چلتی چلیے دریا کنارے چلتے ہیں وہاں سب لڑکے پتنگ اڑاتے ہیں آپ جانتی ہیں میرے دوست ایسا کہتے ہیں
خالہ تنبیہی نگاہوں سے گھور تی ہیں
خالہ آپ ڈرتی ہیں نا دریا کے پاس میں ہوں نا آپکے ساتھ
آج خالہ خوف میں مبتلا دریا کنارے کھڑی ہیں شفق پہ سرخی چھائی ہے لیکن ساتھ کوئی نہیں ….ڈر تو نہیں لگ رہا …. بس بیلا کے پانی میں چند قطروں کا اضافہ ہوتا ہے
خالہ میں نے تیرنا سیکھ لیا ہے
پھر چلیں دریا پہ
ارے خالہ ابھی تو فرش پہ تیرنا سیکھا ہے
اسے پانی سے بے حد ڈر لگتا تھا لیکن سنا ہے باغوں میں ڈر نہیں ہوتا …یہ تو بیابان کی باتیں ہیں …. اسے پانی کا نظارہ پسند تھا فقط دور سے …پاس تو وہ پھٹکتا بھی نہ تھا ….. خالہ کے پاؤں پانی کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہیں
آج راستے میں دو بچوں نے اسے روک کے پوچھا ہے … آپکا بھانجا اسکول کیوں نہیں آتا
وہ بڑا افسر ہوگیا ہے نا بیٹا اب پڑھ کر کیا کرے گا
وہ افسر کیسے بنا
صبر کر کے کلمہ پڑھ کے
کبھی سات سال کے بچے کو دیکھا ہے آخری سانس پہ کلمہ پڑھتے؟
میں نے دیکھا ہے ہر تکلیف پہ کلمہ پڑھنے والا سات سالہ بچہ
کیا وہ اب اسکول کبھی نہیں آئے گا؟ سر کہتے ہیں وہ اپنی ٹرافی لینے بھی نہیں آیا تھا
اسکو ٹرافی مل گئی تھی بیٹا … وہ کسی اور اسکول جا چکا ہے … اب وہ وہیں پڑھے گا
وہ تیز قدموں سے چلتی ہے
آوازیں تعاقب کرتی ہیں … خالہ رکیے … میں آپکے ساتھ جاؤنگا ….. ہر گز نہیں تم مما کے پاس رک کر پڑھنا …. نہیں خالہ میں نے آپکے پاس سونا ہے
اس رات خالہ نے ساتھ نہیں سلایا اور اسکے بعد زندگی میں وہ آخری رات آئی جب وہ رات خالہ کی گود میں سویا دوپہر تک خالہ کی گود میں رہا
اور دوپہر ایک بجے خالہ چیخ پڑیں
نہیں مجھے اسے گود میں نہیں لینا
مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے
اسے اٹھا لیں
وہ آتے ہیں سفید کپڑوں میں ملبوس …..اسے اٹھا لے جاتے ہیں … جاتے جاتے اپنے ننھے ہاتھوں سے وہ خالہ کے آنسو پونچھتا ہے …. نہ خالہ رونا نہیں
پھر آج اکتوبر آیا ہے …. خالہ کے آنسو رکتے نہیں
پر ننھے ہاتھ انھیں پونچھتے نہیں
پیارے اکتوبر شکریہ
ان سات خوبصورت سالوں کا شکریہ
تم ہمیشہ آنا
ہم تمھیں منائیں گے
پیارے فرشتے کیک ضرور کاٹتے ہونگے
پیارے اکتوبر تم خوشی کی نوید لے کر آئے تھے
تم ہر سال ضرور آنا
میں نے کیک بنا کے رکھا ہے
اسے ندیدی آنکھوں سے گھورنے والا ان باغات میں رہتا ہے جہاں اس سے بھی اچھے کیک ملتے ہیں
لیکن اکتوبر تمھاری ہر ۱۴ کو میں کچھ ندیدے بچوں کے لئیے کیک بنا کے رکھتی ہوں تم مجھ سے ملنے ضرور آنا
مجھے تمھارا شدت سے انتظار رہتا ہے
فقط محمد کی خالہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
سفر (حصہ دوم)
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
چرواہا
پانچویں ملاقات
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
راول کا پنڈ ' راولپنڈی
پکارا ہم نے جو " اُن " کو
اجنبی ملاقات
جو سوئے دار سے نکلے