ڈاکٹر وزیر آغا کا یومِ پیدائش

آج مشہور شاعر،دانشور،نقاد ،محقق اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا کا یومِ پیدائش ہے۔

ڈاکٹر وزیر آغا
(پیدائش: 18  مئی 1922ء – وفات: 28 اپریل 1935ء)
——
ڈاکٹر وزیرآغا ، شخصیت اور فن از ذوالفقار حسن
——
عالمی شہرت کے حامل مایہ ناز پاکستانی ادیب ، دانشور، نقاد ، محقق اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا سراپا خلوص و مروت اور انسانی ہمدردی کا پیکر تھے ۔انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو وہ دل و جان سے عزیز رکھتے اور بنیادی انسانی حقوق کے وہ بہت بڑے محافظ خیال کیے جاتے تھے ۔وہ سلطانی جمہور کے زبردست حامی اور حریت فکر و عمل کے مجاہد تھے ۔اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے انھوں نے جو فعال اور تاریخی کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔تاریخ ہر دور میں ان کے نام کی تعظیم کرے گی۔
——
برس گیا بہ خرابات آرزو تیرا غم
قدح قدح تیری یادیں سبو سبو تیرا غم
——
18 مئی 1922کو سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ سے طلوع ہونے والا آفتاب جس نے اکناف عالم کا گوشہ گوشہ منور کیا ۔7 ستمبر 2010 کی شام کو غروب ہوگیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی المناک وفات نے اردو تنقید کو مفلس اور قلاش کردیا ہے۔ وہ ایک کثیر الجہتی شخصیت تھے۔ ان کے متنوع اسلوب کا ایک عالم معتر ف تھا ۔انھوں نے اردو نثر ، اردو شاعری ، اردو انشائیہ ، سوانح نگاری ، تحقیق ، تنقید اور تاریخ میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ دنیا بھر میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ۔ڈاکٹر وزیر آغا ایک باکمال ادیب لازوال تخلیق کار ، بے مثال دانشور ، نابغہ روزگار نقاد ، حریت فکر کے مجاہد اور عظیم انسان تھے ۔ انھوں نے اردو ادب کی ثروت میں جو بے پناہ اضافہ کیا ۔ وہ تاریخ ادب میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے تمام وسائل اور عمر عزیز وقف کر رکھی تھی ۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ پرورش لوح و قلم کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔
آلام روزگار کے مہیب بگولوں میں بھی انھوں نے حریت ضمیر سے جینے کے لیے اسوہءشبیر کو اپناتے ہوئے حریت فکر و عمل کا علم بلند رکھا ۔ڈاکٹر وزیرآغا کا تعلق فارسی بولنے والے ایرانی النسل قزلباش خاندان سے تھا۔ان کے والد کا آبائی پیشہ تجارت تھا اور وہ گھوڑوں کی تجارت سے روزی کماتے تھے جب پورا برصغیر برطانیہ کی نو آبادی تھا تو اس دوران میں ڈاکٹر وزیر آغا کے والد کو بر صغیر کے برطانوی حکمرانوں کی طرف سے 750 ایکڑ(3.0 Km2) پر مشتمل ایک جاگیر عطا کی گئی یہ جاگیر ضلع سرگودھا میں وزیر کوٹ قصبہ میں اب بھی ان کے ورثا کی تحویل میں ہے اور یہاں کھیتی باڑی کی جاتی ہے ۔ڈاکٹر وزیر آغا نے فارسی زبان اپنے والد سے سیکھی اور پنجابی ا ن کی مادری زبان تھی ۔جہاں تک انگریزی زبان کا تعلق ہے انھوں نے انگریزی زبان کی استعدا د اپنے انگریز ی بولنے والے احباب سے گہرے ربط اور تبادلہ خیال اور وسیع مطالعہ کے ذریعے حاصل کی۔انگریزی زبان و ادب پر انھیں کامل دسترس حاصل تھی ۔انھوں نے دریدا،رولاں بارتھ ،سوسیئر اور لاکاں کا عمیق مطالعہ کیا اور ان کے خیالات پر اپنے مدلل دلائل سے اردو تنقید کا دامن متنوع نظریات سے مالا مال کردیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر آغا شورش کاشمیری کا یومِ وفات
——
زمانہ طالب علمی ہی سے انھیں عالمی ادبیات اور شاعری سے گہری دلچسپی تھی ۔انھوں نے عالمی کلاسیک کا تفصیلی مطالعہ کیا اور ان کے خیالات سے بھر پور استفادہ کر کے اردو ادب کو دھنک رنگ مناظر سے مزین کر دیا۔پنجابی کلاسیکی شاعری سے انھیں گہری دلچسپی تھی ۔جھنگ میں قیام کے دوران میں انھیں حضرت سلطان باہو کی شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی۔انھوں نے ابیات باہو کا مطالعہ کیا اور سلطان باہو کے کئی بیت انھیں زبانی یاد تھے ۔یہ بیت سن کر تو وہ فرط عقیدت سے اشکبار ہو جاتے اور آنسو ضبط کر نا محال ہو جاتا۔ ع
تاڑی مار اڈا نہ سانوں اسیں آپے اڈن ہارے ہو
اپنے آبائی گاﺅں سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر وزیر آغا نے تاریخی مادر علمی گورنمنٹ کالج جھنگ میں انٹرمیڈیٹ کلاس میں داخلہ لیا ۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ گورنمنٹ کالج جھنگ محض درسگاہ نہیں بلکہ یہ تو ایک درگاہ ہے جہاں قسمت نوع بشر تبدیل ہو جاتی ہے ۔یہاں حاضری دینے والے گوہر مراد پاتے ہیں اور یہاں ذرے کو آفتاب بننے کے بے شمار موا قع میسر ہیں۔جو اس ادارے کی عظمت کا معترف نہیں وہ آپ بے بہرہ ہے ۔گورنمنٹ کالج جھنگ میں ڈاکٹر وزیر آ غا کو نابغہءروزگار اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ وہ جن اساتذہ کا نام بڑی عزت و احترام سے لیتے تھے ان میں رانا عبدالحمید خان،سی ۔ایم صادق،ایم۔اے خان ،غلام رسول شوق اور ڈاکٹر نذیر احمد کے نام قابل ذکر ہیں ۔یہ وہ آفتاب و ماہتاب ہیں جن کے افکار کی ضیا پاشیوں نے اذہان کی تطہیر و تنویر کا نہایت موئثر اہتمام کیا ۔گورنمنٹ کالج جھنگ میں ڈاکٹر وزیر آغا کے ہم جماعت پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام (نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان)بھی تھے ۔سردار باقر علی خان بھی ان کے ہم جماعت تھے ۔ سردار باقر علی خان بعد میں انڈین سول سروس کے امتحان میں اول آئے اور ملتان کے کمشنر مقرر ہوئے۔ان کی یادوں کا مسودہ” قصہ ایک درویش کا “ ان کے آبائی گھر واقع ٹھٹھی لنگر تحصیل جھنگ موجود ہے اس میں انھوں نے اپنے زمانہ ءطالب علمی کی تمام یادیں قلم بند کی ہیں۔
گورنمنٹ کالج جھنگ کے علمی ادبی ماحول نے ڈاکٹر وزیر آغا کے ادبی ذوق کو صیقل کیا اور وہ اس کالج کے علمی و ادبی مجلے چناب کے مدیر متعلم منتخب ہو گئے ۔یہ انتخاب مقابل مضمون نویسی میں اول آنے کی بدولت وہ جیتے ۔اس سے ان کی خدا داد ذہانت اور تخلیقی استعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر وزیر آغا کی ادارت میں ”چناب“ نے یاد گار اشاعتوں کا اہتمام کیا ۔گورنمنٹ کالج جھنگ میں ڈاکٹر وزیر آغا نے ادبی نشستوں کا اہتمام کیا ۔شام کو منعقد ہونے والی ان ادبی نشستوں میں اس وقت کے ممتاز ادیبوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ان میں سید جعفر طاہر ،مجید امجد ،شیر افضل جعفری ،کبیر انور جعفری ،صاحبزادہ رفعت سلطان،سید مظفر علی ظفر، خادم مگھیانوی ،الحاج سید غلام بھیک نیرنگ ،غلام محمد رنگین ، امیر اختر بھٹی ،بلال زبیری ،تقی الدین انجم علیگ اور صدیق لالی کے نام قابل ذکر ہیں۔جھنگ کی ادبی تاریخ میں یہ محافل ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ ڈاکٹر وزیر آغا ان ادبی محفلوں کی روح رواں تھے ۔زمانہ لاکھ ترقی کرے ایسی ہستیاں اب دنیا میں کہاں
——
سب کہا ں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
——
گورنمنٹ کالج جھنگ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر وزیر آغا گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے اور معاشیات میں ایم ۔ اے کی ڈگری حاصل کی ۔1953 میں ان کی کتاب ” مسرت کی تلاش میں “ منظر عام پر آئی ۔1956 میں انھوں نے ” اردو ادب میں طنز و مزاح “ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔1960میں ان کی ادبی زندگی کا درخشاں دور شروع ہوا جب وہ مولانا صلاح الدین احمد کے رجحان ساز ادبی مجلے ”ادبی دنیا “کے مدیر معاون مقرر ہوئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ادیب اور صحافی آغا بابر کا یومِ وفات
——
وہ مسلسل تین سال تک اس ممتاز ادبی مجلے کے ساتھ وابستہ رہے اور مولانا صلاح الدین احمد سے اکتساب فیض کیا۔1965میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنا الگ ادبی مجلہ ”اوراق “ شائع کیا۔اوراق کی اشاعت سے ان کی تخلیقی ،تنقیدی اور تجزیاتی آرا کھل کر سامنے آتی چلی گئیں ۔اس ادبی مجلے کو عالمی سطح پر خوب پذیرا ئی نصیب ہوئی۔اس ادبی مجلے نے مسلسل چار عشرو ں تک فروغ علم و ادب کے سلسلے میں جو گراں قدر خدمات خدمات انجام دیں ان کا پوری دنیا میں اعتراف کیا گیا ۔ڈاکٹر وزیر آغا کی وفا ت سے چند برس قبل اس مجلے کی اشاعت تعطل کا شکار ہو گئی۔ڈاکٹر وزیر آغا کی علالت کے باعث ”اوراق“ عارضی تعطل کا شکار ہوا مگر اب ان کی وفات کے بعد یہ روشن ستارہ بھی گہنا گیا ہے اب ” اوراق“ تاریخ کے ان طوماروں میں دب گیا ہے جہاں پہلے سے افکار ،فنون،ادبی دنیا اور تہذیب الاخلاق پہلے سے موجود ہیں ۔ایسے مجلات جن کی ضیا پاشیوں سے سفاک ظلمتوں کو کافور کرنے میں مدد ملی اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں ۔وہ آفتاب و ماہتاب جو افق علم و ادب پر نصف صدی سے زائد عرصے تک اپنی تابانیاں بکھیرتے رہے اب گہنا چکے ہیں ۔ایسے دانائے راز اب کہاں
——
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
——
ڈاکٹر وزیر آغا کی ابتدائی نظمیں1948 میں جب مولانا صلاح الدین کے ادبی مجلے ” ادبی دنیا “ میں شائع ہوئیں تو ممتاز ادیبوں نے انھیں بہت سراہا اور ان کے کلام کو بہت پزیرائی حاصل ہوئی ۔ یہ وہ دور تھا جب وہ گورنمنٹ کالج جھنگ میں زیرتعلیم تھے ۔ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو تنقید اور تحقیق کو مقاصد کی رفعت میں ہمدوش ثریا کر دیا ۔پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو نے والی کتاب ” تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند میں ان کے اہم تحقیقی مقالات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔اردو دائرةالمعارف میں ان کی شمولیت سے اس گرا ںقدر تصنیف کی ثقاہت کا ایک عالم معترف ہو گیا ۔ان کے والد وسعت علی خان نے جب انھیں گورنمنٹ ہائی سکول لالیاں تحصیل چنیوٹ ضلع جھنگ (پنجاب پاکستان) میں ابتدائی کلاسز میں داخل کرایا تو اس وقت سے جھنگ شہر سدا رنگ کی علمی و ادبی روایات سے وابستہ ہو گئے ۔میاں صدیق لالی سے ان کی شناسائی اس عرصے میں ہوئی۔ اس سے یہ حقیقت روز روشن کی طر ح واضح ہوجاتی ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا کی ادبی تربیت میں جھنگ کی ممتاز ادبی شخصیات کا نمایاں حصہ ہے ۔
ڈاکٹر وزیر آغا کی ساٹھ کے قریب وقیع تصانیف ہیں ۔انھوں نے تما م عمر علم و ادب کو اپنا ا و ڑ ھنا بچھونا بنائے رکھا ۔اپنے آبائی پیشہ زراعت کے علاوہ باقی وقت کتابیں ان کا چمن ہوتی تھیں۔
ڈاکٹر وزیرآغا کی تصانیف کو علمی ادبی حلقوںمیں جو شرف قبولیت نصیب ہوا وہ تاریخ ادب کا ایک درخشاں باب ہے ۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں:-
1۔ اردو ادب میں طنز و مزاح 1958
2 تخلیقی عمل 1970
3 اردو شاعری کا مزاج 1965
4۔ تصورات عشق و خرد اقبال کی نظر میں 1977
5 مجید امجد کی داستان محبت 1991
6 غالب کا ذوق تماشا 1997
7۔ نظم جدید کی کروٹیں 1963
8۔تنقید اور احتساب 1968
9۔ نئے مقالات 1972
10۔ نئے تناظر 1979
11۔ معنی اور تناظر 1998
12۔ تنقید اور مجلسی تنقید 1975
13۔ دائرے اور لکیریں 1986
14۔ تنقید اور جدید اردو تنقید 1989
15۔ انشائیے کے خدوخال 1990
16۔ ساختیات اور سائنس 1991
17۔ دستک اس دروازے پر 1994
18 امتزاجی تنقید اور سائنس فکری تناظر 2006
19 شام کی منڈیر سے (خود نوشت)
20۔شام اور سائے (شاعری)
21دن کا زرد پہاڑ (شاعری)
22۔نروان (غزلیں)
23۔آدھی صدی کے بعد (شاعری)
24۔خیال پارے (انشائیے)
25۔چوری سے یاری تک (انشائیے)
26۔دوسرا کنارہ (انشائیے)
27۔شام دوستاں آباد (خاکے)
ڈاکٹر وزیر آغا نےآزادی اظہار کو انسانی آزادی سے تعبیر کرتے تمام عمر عجز و انکسار ،استغنا ،قناعت اور استقامت کا ارفع ترین معیار قائم رکھا۔ان کی تخلیقی فعالیت اس حقیقت کی مظہر ہے کہ دل کی آزادی ہی ان کے لیے شہنشاہی کا درجہ رکھتی تھی ۔وہ در قیصر و کسریٰ کو کھنڈر سمجھتے تھے اور انھوں نے کبھی کسی فرعون ،نمرود ،ہلاکو خان یا آسو بلا خان کے جعلی جاہ و جلال اور کروفر کو لائق اعتنا نہ سمجھا۔ان کی شاعری میں صبر و استقامت کی درخشاں مثالیں ہر دور میں دلوں کو ایک ولولہ تازہ عطا کرتی رہیں گی۔ زندگی اور اس کے اسرارو رموز کی گرہ کشائی کرنا کس کے بس میں ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر آغا شورش کاشمیری کا یومِ پیدائش
——
خالق کائنات نے انسان کو اس وسیع و عریض دنیا میں بھیج کر سعی پیہم کے لیے ایک میدان عمل کا تعین کر دیا ہے ۔فرصت زندگی اگرچہ بہت کم ہے مگر جو دم بھی میسر ہے وہی مغتنم خیال کرنا چاہیے ۔ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے
——
کہنے کو چند گام تھا یہ عرصہ حیات
لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا مجھے
——
قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں ہوس زر نے انسانیت کو ناقابل اندمال صدمات سے دو چار کر دیا ہے ۔بے حسی کا عفریت چاروں جانب منڈلا رہا ہے ۔ڈاکٹر وزیرآغا کی شاعری میں خلوص اور دردمندی،قوی مشاہدہ ،آفاقی اور کائناتی انداز فکر ،متنوع تجربات اور دلدوز مشاہدات کے جو کرشمے موجود ہیں وہی ہمیں میرا جی ،مجید امجد اور فیض احمد فیض کے ہاں بھی ملتے ہیں۔ انھوں نے ان شعرا کے کالم کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ان سے یقیناً اثرات قبول کیے ہیں ۔ڈاکٹر وزیر آغا کی شاعری میں دروں بینی کی جو کیفیت ہے وہ تخلیق کے لا شعوری محرکات کی غماز ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صریر خامہ نے نوائے سروش کی صورت اختیار کر لی ہے اور یہ کلام دلوں کو مرکز مہر و وفا کرنے کا مؤثر وسیلہ بن جاتا ہے۔
——
جبین سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا
میں رہگزر تھا مجھے روند کے زمانہ گیا
اب تو آرام کریں سوچتی آنکھیں میری
رات کا آخری تارا بھی ہے جانے والا
——
ڈاکٹر وزیرآغا کی نظم نگاری سے اردو نظم کی ثروت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ان کی بات دل سے نکلتی اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اثر آفرینی کے معجز نما اثر سے وہ اپنی شاعری کو کمال خلوص اور دردمندی سے پیش کرتے ہیں ۔ان کا اسلوب ان کی ذات ہے ۔یہ اسلوب اس قدر منفرد اور دلکش ہے کہ شاعری در اصل ساحری کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے اور قاری اس کے ہمہ گیر اثرات کی بدولت مسحور ہو جاتا ہے۔تاثیر اور وجدان کی یہ کیفیت ان کی شاعری کا امتیازی وصف ہے
——
ٹین کی چھت پر اپنے اجلے پر پھیلا تھا
آنے والی سرخ رتوں کے بھاگوں میں جب کھو جائے گا
سب آوازیں تھم جائیں گی
پلکیں تھک کر سو جائیں گی
گئے دنوں کا نام منوں مٹی کے نیچے دب جائے گا
سب آوازیں تھم جائیں گی
پلکیں تھک کر سو جائیں گی
گئے دنوں کا نام منوں مٹی کے نیچے دب جائے گا
اگلا ساون کب آئے گا؟
——
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ ہماری آنکھیں یاد رفتگاں میں ساون کے بادلوں کی طرح برستی رہیں گی ، ہم قلزم خوں پار کر جائیں گے ،ہم زینہ ہستی سے اتر جائیں گے مگر جنھیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ان کے ہمراہ اگلا ساون دیکھنا کبھی نصیب نہ ہو گا۔اجل کے ہاتھوں جو گھاؤ لگتے ہیں وہ درد لا دوا دے جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے علامت کو ایک ایسے نفسیاتی کل کا روپ عطا کر دیا ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے کر خواب غفلت سے جگانے کی صلاحیت سے متمتع ہے ۔چاند چہرے شب فرقت پہ وار کے آفتاب و ماہتاب لحد میںاتار کے دامن جھاڑ کے ہم بے بسی کے عالم میں اپنے سونے آنگن میں حسرت و یاس کی تصویر بنے بیٹھے ہوتے ہیں مگر اگلا ساون اب کبھی نہیں آئے گا۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ادیب اور صحافی آغا بابر کا یومِ پیدائش
——
ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو نظم کو نئے امکانات سے آشنا کیا۔ان کی نظمیں ان کے وسیع مطالعہ اور آفاقی انداز فکر کی آئینہ دار ہیں مثال کے طور پر ان کی نظم ” آدھی صدی کے بعد “سیل زماں کے تھپیڑوں کا حقیقی احوال بیان کرتی ہے جن کی زد مین آکر نظام کہنہ اور تخت و کلاہ و تاج کے سب سلسلے خس و خاشاک کے مانند بہہ جاتے ہیں۔اسی طرح اپنی نظم ” ایک کتھا انوکھی “میں انھوں نے زندگی کی حقیقی معنویت کے بارے میں نہایت خلوص اور دردمندی سے مثبت شعور اور آگہی پروان چڑھانے کی مستحسن سعی کی ہے ۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے آزاد نظم اور نثری نظم میں بھی خوب طبع آزمائی کی اور زبان و بیان اور اسلوب پر اپنی خلاقانہ دسترس کا لوہا منوایا۔ان کی نظم ”دن ڈھل چکا تھا “غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہے یہ نظم اسلوب اور ڈسکورس کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے ۔
——
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
سارا بدن لہو کا رواں مشت پر میں تھا
جاتے کہاں کہ رات کی باہیں تھیں مشتعل
چھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا
حد افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر
آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا
لو وہ بھی خشک ریت کے ٹیلے میں ڈھل گیا
کل تک جو ایک کوہ گراں رہگزر میں تھا
پاگل سی اک صدا کسی اجڑے مکاں میں تھی
کھڑکی میں اک چراغ بھری دوپہر میں تھا
اس کا بدن تھا خون کی حدت میں شعلہ پوش
سورج کا اک گلاب سا طشت سحر میں تھا
——
اکادمی ادبیات پاکستان نے مشاہیر ادب پر کتابوں کی اشاعت کا جوسلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کے تحت ڈاکٹر وزیر آغا کی شخصیت ،اسلوب اور علمی و ادبی خدمات پر ایک جامع کتاب شائع ہو چکی ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے اس یگانہءروزگار دانشور کو خراج تحسین پیش کر کے پاکستانی ادبیات کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔ڈاکٹر وزیر آغا نے فروغ علم و ادب کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دیں ان کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں 1995 میں اکادمی ادبیات پاکستان کا تا حیات رکن مقر کیا ۔پاکستان میں ادیبوں کی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے ڈاکٹر وزیر آغا نے تجویز کیے ۔اس وقت پاکستان کے تمام ادیبوں کی انشورنش کی جس سکیم پر عمل جاری ہے ڈاکٹر وزیر آغا کا شمار اس کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔8ستمبر2010 کی شام جب ڈاکٹر وزیر آغا نے لاہور میں داعی اجل کو لبیک کہا تو ان کا جسد خاکی ان کے آبائی گاؤں وزیر کوٹ لایا گیا،جہاں انھیں ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی پاکستان میں اردو ادب کا ایک درخشاں باب اختتام کو پہنچا۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
——
منتخب کلام
——
آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہت
ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے
——
شاید کہ اس سکوت میں بھی میرا ہاتھ ہو
قفلِ سکوت کھولئے ، کچھ تو بولئے
——
بادل برس کے کھل گیا ، رُت مہرباں ہوئی
بوڑھی زمیں نے تن کے کہا ، میں جواں ہوئی
——
بکھرا پڑا تھا سارے چمن میں مرا بدن
تو نے کسے پرو لیا پھولوں کے ہار میں
——
ہو چکی پھولوں سے محروم تو کہنے لگی شاخ
آج سے ایک بھی پتھر مرا مہماں نہ ہو
——
عمر کی آخری منزل پہ جو پہنچے تو کُھلا
اک عجب مست روی وقت کے پیچاک میں ہے
——
یہ عمر بھر کی جدائی تو ایک حادثہ ہے
وگرنہ ساتھ ہمارا جنم جنم کا ہے
——
یہ کس حساب سے کی تو نے روشنی تقسیم
ستارے مجھ کو ملے ، ماتاب اس کا تھا
——
یہ بھی کیا اوج ثریا پہ گرجتے رہنا
زخمی چیتے کی طرح خود پہ بگڑتے رہنا
یا تو آنا ہی نہ دھرتی کی عیادت کے لۓ
اور اگر آنا تو اک برق سی بن کر آنا
کسی نادار کے حرمن کو جلانے کے لۓ
کسی مفلس کی ٹھٹھرتی ہوئی کٹیا کے قریب
اس کے معصوم سے بچے کو بھسم کر جانا
——
میں تارِ نظر ہوں
میں سیال سا رابطہ ہوں
مقدر میں لکھا ہے میرے کہ میں سانس بن کر
اک اک تن میں اُتروں،اک اک تن سے باہر کو آؤں
زمانوں کو تازہ لہو کی حرارت مہیا کروں
ہست کو نیست ہونے سے ہر دم بچاؤں
مگر اپنی خاطر کوئی جسم ہر گز نہ مانگوں
کسی ایک منزل پہ رکنے نہ پاؤں
——
بادل چھٹۓ تو رات کا ہر زخم وا ہوا
آنسو رکے تو آنکھ میں محشر بپا ہوا
سوکھی زمیں پہ بکھری ہوئی چند پتیاں
کچھ تو بتا نگار چمن تجھ کو کیا ہوا
ایسے بڑھے کہ منزلیں رستے میں بچھ گئیں
ایسے گۓ کہ پھر نہ کبھی لوٹنا ہوا
اے جستجو کہاں گۓ وہ حوصلے ترے
کس دشت میں خراب ترا قافلہ ہوا
پہنچے پس خیال تو دیکھا کہ ریت پر
خیمہ تھا ایک پھول کی صورت کھلا ہوا
آئی شب سیہ تو دیۓ جھلملا اٹھے
تھا روشنی میں شہر ہمارا بجھا ہوا
——
کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا
پاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا
مری رات گزر رہی تھی ایسے
میں جیسے ورق الٹ رہا تھا
ساگر میں نہیں تھی موج اک بھی
ساحل تھا کہ پھر بھی کٹ رہا تھا
میں بھی جھپٹ رہا تھا خود پر
جب میرا اثاثہ بٹ رہا تھا
دیکھا تو نظر تھی اس کی جل تھل
مشکیزہء ابر پھٹ رہا تھا
قسمت ہی میں روشنی نہیں تھی
بادل تو کبھی کا چھٹ رہا تھا
نشہ تھا چڑھاؤ پر سحر دم
پیمانۂ عمر گھٹ رہا تھا
——
تمھیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال
تمھارے قدموں کی آندھی میں ہو گۓ پامال
ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگر
ہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال
وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفر
وہ ایک نقطہء موہوم تھا کہ یہ بد حال
عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں اب کے
دمکتے ہونٹ سلگتی نظر دہکتے گال
ترے کرم کی تو ہر سو مہکتی برکھا تھی
ہمیں تھے جن کو ہوا بھیگا پیرہن بھی وبال
——
خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ مجھے
آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے
اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر
آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے
تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت
لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے
یہ اور بات میں نے صدائیں ہزار دیں
آئی نہ دشت ہول سے اک بھی صدا تجھے
تو نے بھی خود کو مرکز عالم سمجھ لیا
لگ ہی گئی زمانے کی آخر ہوا تجھے
کیا قہر ہے کہ رنگوں کے اس اژدہام میں
جز رنگ زرد اور نہ کچھ بھی ملا تجھے
نظروں نے تار تار کیا آسماں تمام
آئی نہ راس تاروں بھری یہ ردا تجھے
دائم رہے سفر میں ترا ناقہء خیال
دیتا رہوں میں روز یہی بد دعا تجھے
کہنے کو چند گام تھا یہ عرصہء حیات
لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا تجھے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ