اردوئے معلیٰ

کرم کے بادل برس رہے ہیں

کرم کے بادل برس رہے ہیں

دلوں کی کھیتی ہری بھری ہے

 

یہ کون آیا کہ ذکر جسکا

نگر نگر ہے گلی گلی ہے

 

یہ کون بن کر قرار آیا

یہ کون جانِ بہار آیا

 

گلوں کے چہرے ہیں نکھرے نکھرے

کلی کلی میں شگفتگی ہے

 

دیئے گلوں کے جلائے رکھنا

نبی کی محفل سجائے رکھنا

 

جو راحتِ دل سکونِ جاں ہے

وہ ذکر ذکرِ محمدی ہے

 

نبی کو اپنا خدا نہ مانو

مگر خدا سے جدا نہ جانو

 

ہے اہلِ ایماں کا یہ عقیدہ

خدا خدا ہے نبی نبی ہے

 

نہ مانگو تم دنیا کے خزینے

چلو نیازی چلیں مدینے

 

کہ بادشاہی سے بڑھ کے پیارے

نبی کے در کی گداگری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ