کرم کے بادل برس رہے ہیں

کرم کے بادل برس رہے ہیں

دلوں کی کھیتی ہری بھری ہے

 

یہ کون آیا کہ ذکر جسکا

نگر نگر ہے گلی گلی ہے

 

یہ کون بن کر قرار آیا

یہ کون جانِ بہار آیا

 

گلوں کے چہرے ہیں نکھرے نکھرے

کلی کلی میں شگفتگی ہے

 

دیئے گلوں کے جلائے رکھنا

نبیؐ کی محفل سجائے رکھنا

 

جو راحتِ دل سکونِ جاں ہے

وہ ذکر ذکرِ محمدیؐ ہے

 

نبیؐ کو اپنا خدا نہ مانو

مگر خدا سے جدا نہ جانو

 

ہے اہلِ ایماں کا یہ عقیدہ

خدا خدا ہے نبیؐ نبیؐ ہے

 

نہ مانگو تم دنیا کے خزینے

چلو نیازی چلیں مدینے

 

کہ بادشاہی سے بڑھ کے پیارے

نبیؐ کے در کی گداگری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
ذی کرم ذی عطا آج کی رات ہے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
نعت کے پھول جو ہونٹوں پہ سجا دیتے ہیں
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
خدا کے فضل کے ہر دم حصار میں رہنا

اشتہارات