کوئی اپنی جھلک دِکھلا گیا ہے

کوئی اپنی جھلک دِکھلا گیا ہے

مِرا اندر تلک مہکا گیا ہے

 

وہ جو روشن تھا میرے فن کا سورج

جُدائی میں تِری گہنا گیا ہے

 

عقیدت ہو گئی بدنام ناحق

نہ تیرا کچھ ، نہ کچھ میرا گیا ہے

 

سکونِ قلب ، کاروبار ، شہرت

تمہارے واسطے کیا کیا گیا ہے

 

اچانک رُک گئی ہے زندگی کیوں؟

مجھے اِک نقطے پر ٹھہرا گیا ہے

 

خزاں کے موسموں کا زرد پتّا

ہوا کے خوف سے تھرّا گیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر
ادھر آ کر شکار افگن ہمارا
مرے لیے بھی رعایت تو ہو نہیں سکتی
اُٹھو یہ دامنِ دل و دیدہ سمیٹ کر
سخن کے نام پہ شہرت کمانے والے لوگ
باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے
وہ جو اک شخص مجھے طعنہء جاں دیتا ہے
آپ کو اچھا لگا ہے ؟ بے تحاشا کیجئے
آخری حد پہ اک جنون کے ساتھ
زرد چہرہ ہے ، مرا زرد بھی ایسا ویسا

اشتہارات