کیا رُخِ سیدِ ابرار ہے اللہ اللہ

کیا رُخِ سیدِ ابرار ہے اللہ اللہ

ہر طرف جلوۂ دیدار ہے اللہ اللہ

 

جب سے نرگس کو نظر آئی ہے وہ چشمِ سیاہ

جوشِ آشوب سے بیمار ہے اللہ اللہ

 

خاک پاک قدمِ پاکِ رسولِ عربی

سرمۂ دیدۂ بیدار ہے اللہ اللہ

 

کیوں نہ خلد میں مسجودِ ملائک آدم

عاشقِ احمدِ مختار ہے اللہ اللہ

 

گر جز لیں وہ تو ہر گز نہیں رحمت سے بعید

اب تو دل غم سے بہت بیزار ہے اللہ اللہ

 

جس نے دیکھا انہیں اور جان کے پہچان لیا

بس وہی محرمِ اسرار ہے اللہ اللہ

 

اونکی فرقت میں جو آنکھوں سے بہے خوں ہو کر

جان اس دل کی طبگار ہے اللہ اللہ

 

کیا عجب دل سرگشتہ کو سودا ہے عزیزؔ

اونکی کاکل میں گرفتار ہے اللہ اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ