کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے

کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے

چارہ گر ضبط کو کیا لکھو گے

 

سامنا بھی تو نہیں ہو سکتا

تم مجھے خط بھی کہاں لکھو گے

 

لفظ میرے ہی مری ہستی ہیں

میں ہی اتروں گا جہاں لکھو گے

 

دیکھ سکتا ہوں نہ سُن سکتا ہوں

دوستو اب مجھے کیا لکھو گے

 

سانس لے کر بھی نہیں جی سکتے

کب ہمیں وقتِ قضا لکھو گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
دشت ِ قضاء میں خاک اُڑاتی حیات کی
صد چاک ہی دامان و گریبان بھلے ہیں
اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے

اشتہارات