گلزار مدینہ سے جسے پیار نہیں ہے

گلزار مدینہ سے جسے پیار نہیں ہے

جنت کی بہاروں کا وہ حقدار نہیں ہے

 

عالم میں کوئی آپ کا ہمسر نہیں آقا

اس بات سے دشمن کو بھی انکار نہیں ہے

 

کھل سکتے نہیں اس سے کبھی رمز حقائق

میخانۂ طیبہ کا جو میخوار نہیں ہے

 

اعمال کے سکّے نہیں ، کام آئے گی نسبت

یہ حشر کا میدان ہے بازار نہیں ہے

 

در چھوڑ کے میں آپ کا جاؤں کہاں آقا

جز آپ کے میرا کوئی غمخوار نہیں ہے

 

کونین کے مالک ہیں چٹائی ہے بچھونا

سرکار کے جیسی کوئی سرکار نہیں ہے

 

وہ خالق عالم سے بھی کچھ پا نہیں سکتا

جو قاسم نعمت سے طلبگار نہیں ہے

 

جو صاحب لولاک کی عظمت کا ہے منکر

اے نورؔ مجھے اس سے سروکار نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات