گماں امکان کی تاویل ہونے پر نہیں آتا

گماں امکان کی تاویل ہونے پر نہیں آتا

یہ سنگِ راہ ، سنگِ میل ہونے پر نہیں آتا

 

گھلائے جا رہی ہے وقت کے تیزاب کی بارش

تمہارا نقشِ پاء تحلیل ہونے پر نہیں آتا

 

بگڑ جاتے تو ہم کوئی نیا بہروپ بھر لیتے

مگر یہ دل کہ جو تبدیل ہونے پر نہیں آتا

 

بکھرتے جا رہے ہیں ہاتھ سے ذرات الفت کے

گھروندہ ریت کا تکمیل ہونے پر نہیں آتا

 

رکی ہے سانس جیسے عمر سے بس ایک ہی پل میں

مگر اک حادثہ تکمیل ہونے پر نہیں آتا

 

چراغِ دل جلا لینے کی لذت اور ہی شئے ہے

مگر یہ فن فقط قندیل ہونے پر نہیں آتا

 

ہمارے منحرف کی قامت و قد پر نظر کیجے

ہمیں غصہ فقط تذلیل ہونے پر نہیں آتا

 

تصور کو بیاں کیسے کریں الفاظ میں ناصر

یہ وہ منظر ہے جو تمثیل ہونے پر نہیں آتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
تاثیرِ فیضِ خاکِ درِ بارگاہِ عشق
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
حرف نادم ہوئے بیاں ہوکر

اشتہارات