اردوئے معلیٰ

گماں امکان کی تاویل ہونے پر نہیں آتا

یہ سنگِ راہ ، سنگِ میل ہونے پر نہیں آتا

 

گھلائے جا رہی ہے وقت کے تیزاب کی بارش

تمہارا نقشِ پاء تحلیل ہونے پر نہیں آتا

 

بگڑ جاتے تو ہم کوئی نیا بہروپ بھر لیتے

مگر یہ دل کہ جو تبدیل ہونے پر نہیں آتا

 

بکھرتے جا رہے ہیں ہاتھ سے ذرات الفت کے

گھروندہ ریت کا تکمیل ہونے پر نہیں آتا

 

رکی ہے سانس جیسے عمر سے بس ایک ہی پل میں

مگر اک حادثہ تکمیل ہونے پر نہیں آتا

 

چراغِ دل جلا لینے کی لذت اور ہی شئے ہے

مگر یہ فن فقط قندیل ہونے پر نہیں آتا

 

ہمارے منحرف کی قامت و قد پر نظر کیجے

ہمیں غصہ فقط تذلیل ہونے پر نہیں آتا

 

تصور کو بیاں کیسے کریں الفاظ میں ناصر

یہ وہ منظر ہے جو تمثیل ہونے پر نہیں آتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات