ہجومِ عاشقاں میں آپ کے در پر میں حاضر ہوں

 

ہجومِ عاشقاں میں آپ کے در پر میں حاضر ہوں

گناہوں پر پشیماں ہوں بہ چشمِ تر میں حاضر ہوں

 

حجر،برگ و ثمر،شمس و قمرجھک کر سلامی دیں

صلوۃ و السلام اے شاہِ خشک و تر میں حاضر ہوں

 

یہ دل امراض عصیاں سے قریبِ مرگ پہنچا ہے

بچا لو اور جِلا دو شاہِ بحر و بر میں حاضر ہوں

 

نہیں کچھ مقصدِ عالم تمہی ہو مرکزِ عالم

تمہارے در پہ ہی ایمان و دیں لے کر میں حاضر ہوں

 

علاجِ تشنگی کے واسطے میری کرم یہ ہو

بلائیں نام لے کر جب سرِ کوثر میں حاضر ہوں

 

خوشی ہے دیدنی اس قلبِ مضطر کی مرے آقا

لئے یہ نعت اپنے دل کے کاغذ پر میں حاضر ہوں

 

سرِ میزاں پکارا جاؤں یہ اعزاز ہو میرا

سجائے تاجِ نعلینِ عطا سر پر میں حاضر ہوں

 

بسی ہے ایک مدت سے یہ حسرت قلبِ منظرؔ میں

کہے دربار میں آکر!مرے سرور، میں حاضر ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ