ہر ایک شے میں الٰہی ظہور تیرا ہے

ہر ایک شے میں الٰہی ظہور تیرا ہے

گلوں میں رنگ ستاروں میں نور تیرا ہے

 

ترے سوا نہیں زیبا کسی کو اے مالک

مرے کریم بجا سب غرور تیرا ہے

 

مری یہ تشنہ لبی دیکھتی ہے تیری طرف

میں تشنہ کام ہوں جامِ طہور تیرا ہے

 

میں جانتا ہوں کہ تو ذوالجلال ہے لیکن

برائے عبد کرم کا وفور تیرا ہے

 

شریک تیرا کسی کو سمجھ نہیں سکتا

اگر کسی کو ذرا بھی شعور تیرا ہے

 

بچانا حشر میں رسوائی سے مرے مولا

کہ تو حسیب ہے یومِ نشور تیرا ہے

 

معاملہ ہو ہمارا بھی در گزر والا

رحیم نام ہے تیرا غفور تیرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں
مرا خدا رؤف ہے، مرا خدا رحیم ہے
بہت ارفع مقامِ زندگانی ہے
حرم کو جانے والو جا کے واں رب کو منالو
خدایا دے مجھے اپنا پتہ، پہچان دے دے
خدا کا ذکر میری زندگی ہے
خدا کے ماسوا کوئی نہیں ہے

اشتہارات