ہر لفظ کہہ رہا ہے مقدّس کتاب کا

ہر لفظ کہہ رہا ہے مقدّس کتاب کا

رحمٰن ہے ثنا خواں رسالت مآب کا

 

جن خوابوں میں آتے ہیں نظر سیّدِ عالم

میں منتظر ہوں برسوں سے ایسے ہی خواب کا

 

لگ جائے گر مرض تو شفائیں عطا کرے

کیا معجزہ ہے مومنو اُن کے لعاب کا

 

توحیدِ خداوندی کی تشہیر ہو گئی

کتنا اثر ہے دیکھیئے اُن کے خطاب کا

 

رعنائیاں ہیں اُن کے تبسم سے ہر طرف

چہرے سے نور نجم و مہ و آفتاب کا

 

صلِّ علیٰ کا نور جو چمکا جہان میں

قصہ تمام ہو گیا ظلمت کے باب کا

 

صد شکر میں تو پیارے نبی کا غلام ہوں

صدیق کا ، عمر کا ، غنی ، بوتراب کا

 

میزاں کی سمت آ رہے ہیں شافعء اُمم

دل سے نکال ڈال رضاؔ ڈر عذاب کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
بدرِ حرا طلوع ہوا ظلمتوں کے بیچ
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
لمعۂ عشقِ رسول ، عام ہے اَرزاں نہیں
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات