اردوئے معلیٰ

ہم اپنے دل کو ارادت شناس رکھتے ہیں

 

ہم اپنے دل کو ارادت شناس رکھتے ہیں

حضوریوں کے لئے محوِ آس رکھتے ہیں

 

جھکائے رکھتے ہیں پیشانیاں مواجہ پر

اطاعتوں پہ وفا کی اساس رکھتے ہیں

 

بلائے جائیں گے اک روز ہم مدینے میں

وفورِ شوق کا پہنے لباس رکھتے ہیں

 

عطا ہوا ہمیں اعزاز نعت گوئی کا

ہم اپنی فکر سراپا سپاس رکھتے ہیں

 

نگاہ رکھتے ہیں سنگِ درِ رسالت پر

جبینِ عجز مواجہ کے پاس رکھتے ہیں

 

سماعتیں بھی رہیں واقفِ ثنائے نبی

زباں بھی مدحِ رسالت شناس رکھتے ہیں

 

مسرتیں انہیں اشفاقؔ ڈھونڈ لیتی ہیں

جو مصطفیٰ کے لئے دل اداس رکھتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ