اردوئے معلیٰ

ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے

 

ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے

وہ ہر جانب مدینہ دیکھتے ہیں

 

جنہیں اُس در سے ملتی ہے بصیرت

وہ قطرے میں بھی دجلہ دیکھتے ہیں

 

عزیزؔ احسن کبھی ہم نعرہ زن ہوں

خوشا ہم اُن کا روضہ دیکھتے ہیں!

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ