اردوئے معلیٰ

ہوا نہ تارِ تنفس میں ارتعاش تلک

بچھڑ گیا ہے کوئی اس قدر خموشی سے

 

حیات سر کو جھکائے کھڑی ہے صحرا میں

کہ باز آ نہ سکا قیس سر فروشی سے

 

ملا ہے عکس سرِ آئینہ اگرچہ ابھی

ملا نہیں ہے مگر خاص گرمجوشی سے

 

زمینِ آتش و آہن تو پار کرنی ہے

وجود چور سہی خانماں بدوشی سے

 

ہزار عیب سہی مجھ میں پر خدا میرے

میں جانتا ہوں تجھے تیری عیب پوشی سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات