ہو مجھ پہ کرم مالک و مختارِ مدینہ

ہو مجھ پہ کرم مالک و مختارِ مدینہ

اب پاس بلالو مجھے سرکارِ مدینہ

 

تقدیر دکھادے مجھے سرکار کی چوکھٹ

پلکوں سے بُہاروں در و دیوارِ مدینہ

 

دل ہجر کا مارا تڑپ اٹھتا ہے وہیں پر

ہوتی ہے جہاں بزم میں گفتارِ مدینہ

 

اے شوق مرے مجھ کو دکھا وہ درِ رحمت

رہتے ہیں جہاں سید ابرارِ مدینہ

 

اے میرے طبیبو میں نہیں بس کا تمہارے

بیمار مدینہ ہوں میں بیمار مدینہ

 

مجھ کو بھی تمنا ہے کبھی بھیگ کے دیکھوں

للہ کرم بارش انوارِ مدینہ

 

انجمؔ کسی منظر سے بہلنے کا نہیں ہے

وہ طالبِ مکہ ہے طلبگار مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ
مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا
سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

اشتہارات