اردوئے معلیٰ

ہو مجھ پہ کرم مالک و مختارِ مدینہ

اب پاس بلالو مجھے سرکارِ مدینہ

 

تقدیر دکھادے مجھے سرکار کی چوکھٹ

پلکوں سے بُہاروں در و دیوارِ مدینہ

 

دل ہجر کا مارا تڑپ اٹھتا ہے وہیں پر

ہوتی ہے جہاں بزم میں گفتارِ مدینہ

 

اے شوق مرے مجھ کو دکھا وہ درِ رحمت

رہتے ہیں جہاں سید ابرارِ مدینہ

 

اے میرے طبیبو میں نہیں بس کا تمہارے

بیمار مدینہ ہوں میں بیمار مدینہ

 

مجھ کو بھی تمنا ہے کبھی بھیگ کے دیکھوں

للہ کرم بارش انوارِ مدینہ

 

انجمؔ کسی منظر سے بہلنے کا نہیں ہے

وہ طالبِ مکہ ہے طلبگار مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات