اردوئے معلیٰ

Search
Rehmat Aziz Chitrali
شام اور فلسطین میں آگ لگی ہوئی ہے، ان مقدس سرزمینوں پر یہود و نصاری نے انسانیت سوز مظالم ڈھانا شروع کردیا ہے لیکن دنیا بھر کے مسلمان خاموش تماشائی بنے یہ ظلم دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی نظم "شام اور فلسطین” پہلی جنگ عظیم کے بعد قومی تشخص، علاقائی حقوق اور استعمار کے پیچیدہ مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ نظم شام اور فلسطین کے حالات کو خوبصورت اور ناصحانہ انداز میں بیان کرتی ہے، شام اور فلسطین کے مسلمانوں کی ستم ظریفی کو اجاگر کرتی ہے۔ یورپی طاقتیں ان خطوں پر قابض ہیں اور مسلمانوں پر ظلم ڈھارہی ہیں۔ کھوار اکیڈمی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے ”علامہ اقبال پراجیکٹ” کے لیے راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) نے شمالی پاکستان کے چترال، مٹلتان کالام اور گلگت بلتستان میں بولی جانے والی زبان کھوار (چترالی) میں کلام اقبال کا ترجمہ اور شرح لکھنا شروع کیا ہے تاکہ شاعر مشرق کے افکار و خیالات سے شمالی پاکستان کے کھوار بولنے والوں کو بھی مستفید کیا جاسکے۔ یہ شرح اور ترجمہ علامہ اقبال کے اس طاقتور پیغام کو وسیع تر قارئین تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا ۔
نظم کا مرکزی موضوع یورپی طاقتوں کے شام اور فلسطین پر من مانی اور ناجائز قبضے کے گرد گھومتا ہے۔ اقبال اس قبضے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے اور دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر یہودی فلسطین کو اپنی آبائی سرزمین کے طور پر دعویٰ کر سکتے ہیں تو عربوں کو بھی سپین جیسا حق ہونا چاہیے۔ اس نظم میں نوآبادیات کے وسیع تر موضوع اور مقامی آبادیوں پر اس کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں مغربی اثر و رسوخ سے آنے والی ثقافتی اور اخلاقی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔فرانس کے رہنے والے شرابیوں کے لیے علامہ اقبال نے ”رندان فرانسیس” کی اطلاح استعمال کی ہے۔
——
رندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت
پُر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب
——
یہ نظم صرف چھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں ایک شاعری کی اسکیم ہے، جو اسے ایک غزل بناتی ہے، جو اردو اور فارسی ادب میں ایک روایتی شاعرانہ شکل ہے۔ یہ شکل عام طور پر گہرے موضوعات اور جذبات کو اختصار کے ساتھ بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اقبال کی غزل کی ساخت کا انتخاب اس کی اختصار کو برقرار رکھتے ہوئے نظم میں گہرائی کا اضافہ کرتا ہے۔ فلسطینیوں کے حق کو اجاگر کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں
——
ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا
——
استعارہ: یہ سطر، "پُر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب کا” یعنی حلب کا نایاب گلاس ان کی سرخ شراب سے بھرا ہوا ہے”، شراب کا استعارہ مغربی اثر و رسوخ کی علامت کے لیے استعمال کرتا ہے جس نے شام اور فلسطین کی ثقافت اور اخلاق کو تبدیل کر دیا ہے۔
ستم ظریفی: اقبال نے پوری نظم میں لوگوں کی ستم ظریفی کا بھی ذکر کیا ہے، غیر ملکی قبضے کی مضحکہ خیزی پر زور دیتے ہوئے اس کا غیر متوقع منظرناموں سے موازنہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر، شاعر تجویز کرتا ہے کہ اگر یہودی تاریخی روابط کی وجہ سے فلسطین پر دعویٰ کر سکتے ہیں، تو عربوں کا سپین پر حق ہونا چاہیے۔
بیاناتی سوال:نظم میں قاری کے حالات کے ادراک کو چیلنج کرنے کے لیے بیاناتی سوالات شامل کیے گئے ہیں، جو استعماری طاقتوں کے فیصلوں کی ناانصافی اور من مانی جیسی نوعیت پر زور دیتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر عزیز احمد کا یوم وفات
——
اشارہ: اقبال تاریخی واقعات اور اسپین میں عربوں کی موجودگی کی طویل تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان واقعات اور شام اور فلسطین کے عصری حالات کے درمیان ایک متوازی تصویر کشی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
نظم "شام اور فلسطین” پہلی جنگ عظیم کے بعد کے زمانے کے حالات کو نمایاں کرتی ہے جب یورپی طاقتوں نے سابق عثمانی علاقوں کو تقسیم کر دیا تھا۔ اقبال کے طنز و مزاح، استعارے اور ستم ظریفی جیسے الفاظ کا استعمال حالات کی ناانصافی اور مضحکہ خیزی کو نمایاں کرتا ہے۔ اقبال ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کس طرح فرانسیسی اور برطانوی قبضوں نے فلسطین کی ان زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں ایسی جگہوں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں شراب نوشی اور دیگر کبیرہ گناہ جیسی مغربی برائیاں عام ہو چکی ہیں۔
نظم میں مرکزی دلیل اس خیال کے گرد گھومتی ہے کہ اگر یہودی تاریخی رشتوں کی وجہ سے فلسطین پر دعویٰ کر سکتے ہیں تو عربوں کا بھی سپین جیسا حق ہونا چاہیے۔ اقبال اسے طنز اور مزاح کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن اقبال کے ان اشعار میں بنیادی پیغام عدل و انصاف کا ہے۔ علامہ اقبال نوآبادیاتی طاقتوں کے عزائم پر سوال اٹھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، شاعر مشرق یہ بتاتے ہیں کہ یہود و نصاری کے مفادات مسلم دنیا میں تقسیم اور بدامنی پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ علامہ اقبال کی نظم ”شام اور فلسطین” اور راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا کھوار ترجمہ اقبال کے افکار و خیالات کو شمالی پاکستان کے کھوار بولنے والے وسیع قارئین تک رسائی اور سمجھنے کے لیے ایک معمولی کوشش ہے۔ اس کھوار تراجم سے نہ صرف شاعر مشرق علامہ اقبال کی شہرہ آفاق شاعری کو دیگر زبانوں میں محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ اقبال کے فلسفیانہ افکار و خیالات کو بھی شمالی پاکستان کے کھوار بولنے والے قارئین کی ایک وسیع رینج تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
خلاصہء کلام یہ ہے کہ "شام اور فلسطین” شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی ایک فکر انگیز اردو نظم ہے جس میں عرب سرزمین پر استعماری قبضے پر طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں تنقید کی گئی ہے۔ ادبی آلات اور فلسفایانہ افکار و خیالات کے ذریعے نظم صورتحال کی ناانصافی اور مضحکہ خیزی کو اجاگر کرتی ہے جبکہ قاری کو غیر ملکی قبضے اور علاقائی دعوؤں کے مضمرات پر نظر ثانی کرنے کا چیلنج دیتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے اقبال کی نظم ”شام اور فلسطین” کے کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔
”شام اوچے فلسطین”
——
رندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت
پُر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب
——
ترجمہ:فرانسہ ہال باک فرانسیسی شرابیان شراب خانہ سلامت بہچانی، ہیت ملکھ شامہ گیکو سوم تان شہر دی شراب خانا بدیل بیتی شینی، حلب نامین ہتے شہر کیاغکہ شیشہ ساوزئیکوبچے منشور اوشوئے ہانیسے عام شیشہ ساوزئیکو ژاغا شرابو پیالہ اور گیلاس ساوزئیکا پرائے۔
——
ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا
——
ترجمہ:فلسطینو زمینان سورا اگر یہودیان حق شیر تھے ہسپانیو سورا عربو رویان حق کو نیکی۔
——
مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا
——
ترجمہ:انگریزانن فلسطینہ یہودیان ہالئیکو مقصد خور کیاغ شیر، ہیہ سنگترہ، خورمہ اوچے مچھیان ساری فائدہ گانیک نو بلکہ یہودیان ذریعا عربو بسلمانانن موژی اختلاف پیدا کوریکو ای لوٹ منصوبہ شیر۔
——
مختصر تعارف ڈاکٹر رحمت عزیز چترالی
——
٭رحمت عزیز خان چترالی اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ”کافرستان”، اردو سفرنامہ ”ہندوکش سے ہمالیہ تک”، افسانہ ”تلاش” اور خودنوشت ”چترال کہانی”، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، اس واٹس ایپ نمبر 03365114595 اور [email protected] پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ