یہ رقیبوں کی ہے سخن سازی

یہ رقیبوں کی ہے سخن سازی

بے وفا آپ ہوں خدا نہ کرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سکوت ِشام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں
سر سے لے کر پاؤں تک ساری کہانی یاد ہے
درد بھی اِس اَدا سے ہوتا ہے
جبین چوم کے اُس نے مجھے روانہ کیا
مال و متاع درد میں سمجھو نہ کم ہمیں
دل کو لگاؤں اور سے میں تم کو چھوڑ دوں
محبت سے مری تم جان لے لو مجھے بس
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
جیسے قیدی کو حوالات میں رکھا جائے
مجھے اس مقام پہ لائی ہے تری بے نیازی کی خو کہ اب