یہ رقیبوں کی ہے سخن سازی

یہ رقیبوں کی ہے سخن سازی

بے وفا آپ ہوں خدا نہ کرے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
گئی فصل بہار گلشن سے
ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
خموشیوں کی زباں بھی سمجھنا ہو گی اُسے
کیے ہجّے ، پڑھی میں نے محبت
کون زندہ ہے کون مر گیا ہے
لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
کیوں نہ تنویر پھر اظہار کی جرآت کیجیے
رات کوچۂ جاں میں اس قدر اداسی تھی
اس قدر قحط ، تعلق کا پڑا ہے کہ مجھے

اشتہارات