عشق کو حسن کے انداز سکھا لوں تو چلوں

عشق کو حسن کے انداز سکھا لوں تو چلوں

منظرِ کعبہ نگاہوں میں بسا لوں تو چلوں

 

اپنے محبوبِ حقیقی کو منا لوں تو چلوں

اپنی بگڑی ہوئی ہر بات بنا لوں تو چلوں

 

کھینچتا ہے ابھی قدموں کو منافِ کعبہ

پیاس تلووں کی ابھی اور بجھا لوں تو چلوں

 

کر لوں اک بار ذرا پھر سے طوافِ کعبہ

روح کو رقص کے انداز سکھا لوں تو چلوں

 

درِ کعبہ سے پھر اک بار لپٹ کر رو لوں

اور کچھ اشک ندامت کے بہا لوں تو چلوں

 

چوم لوں بڑھ کے پھر اک بار غلافِ کعبہ

تشنگی ہونٹوں کی کچھ اور بڑھا لوں تو چلوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ