اجنبی ملاقات

عمر کے تسلسل میں جب ہم نے تجربے کے کئی میدان عبور کر لئے تو آج دل چاہا زندگی کے سفر میں ذرا رُکا جائے اور ان پر نظر ڈالی جو سمے سے بھاؤ میں نہ جانے کہاں بہہ گئے ہیں جن کی یادیں سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلی جارہی ہیں  میں بے پناہ اپنائیت کے احساس سے لبریز ہو گئی ۔ ۔ ۔
تب علیحدگی کے بے نام جذبے نے ذہن میں ایک کسک کی صورت اختیار کی اور میں انتہائی غم زدہ ‘ سر جھکائے ماضی کی وادی میں اُتر گئی ۔ جب پیچھے مُڑ کر دیکھا تو میرے سب رفیق تھوتھنیاں اُٹھائے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بار بار سر ہلا کر وہ اپنی رفاقت کا اظہار کرتے، ان کی گردنوں میں بندھی ہوئی دھات کی گھنٹیاں ’’الوداع، الوداع‘‘ پکار رہی تھیں۔ اور ان کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کے کونوں پر آنسو موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
میرے ہونٹ شدت سے کانپے، آنکھیں مند گئیں، پاؤں رُک گئے مگر پھر بھی میں بھاری قدموں سے آگے بڑھی حتیٰ کہ میں ان کے لئے اور وہ میرے لئے دُور اُفق پر لرزاں نکتے کی صورت اختیار کرگئے۔ وادی میں اُونچے اُونچے بے ترتیب درخت جابجا پھیلے ہوئے تھے جن کے جسموں کی خوشبو فضاء میں گھُل گئی تھی۔ اب نئے راستوں پر چلنے سے دل میں رہ رہ کے نئے رشتوں کی امنگ سی پیدا ہو رہی تھی سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی سیڑھی چڑھ رہا تھا کہ میں ماضی کی گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر حال کی صاف شفاف، چکنی سڑکوں پر آ گئی یہی راستہ مستقبل کو جاتا تھا اب پختہ سڑکوں پر صرف میرے پاؤں سے جھڑتی ہوئی یادوں کی گرد تھی جو میں ماضی کی پگڈنڈیوں سے لے کر آئی تھی ۔ ۔ یا پھر میرے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ یعنی رفیق قصہ ماضی ہو چکے ہیں ؟
آہ ! چکنی سڑکوں کی سیاہی دھیرے دھیرے اُبھر کر فضا میں تحلیل ہونے لگی اور اُفق پر سورج کمزوری سے لڑھکنے لگا۔ ابھی جھٹپٹا ہی تھا کہ میں ایک گول کشادہ مکان کے بڑے سے پھاٹک پر آرکی نئے خوبصورت پھولوں سے لدی جھاڑیوں میں سے ہوتی ہوئی ایک روش اُونچے اُونچے ستونوں والے برآمدے تک چلی گئی تھی یہ مکان میرا جانا پہچانا بھی تھا اور انجان بھی اس کے پار میں کبھی نہیں گئی تھی پر آج جب ماضی کی پکڈنڈیوں کی دھول میرے قدموں سے لپٹی ہوئی نہیں ہے میں اس نئے گھر کے اسرار سے پردہ اٹھانے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔میں اب اجنبی ملاقاتوں کے لئے اپنے تخیل سے نکل کر پہلا قدم دھر چکی ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر یونہی تمام ہوتی ہے
عزتِ سادات
یمین و یسار
کردار
میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
سفر (حصہ اول)
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
سفر (حصہ دوم)
پانچویں ملاقات
چرواہا