اردوئے معلیٰ

اس لیے بے مثل ہے شہکار ہے

اس لیے بے مثل ہے شہکار ہے

وہ غلامِ سیدِ ابرار ہے

 

اے ہوا ! لے سانس آہستہ یہاں

یہ دیارِ احمدِ مختار ہے

 

نعت گوئی کا ہوا جب سے کرم

دل ہے روشن ، بخت بھی بیدار ہے

 

صورتِ مہتاب چرخِ فکر پر

ضوفشاں یادِ شہِ ابرار ہے

 

خسروی بھی ہے جہاں کاسہ بکف

وہ مرے سرکار کا دربار ہے

 

سنتِ آقا نہیں پیشِ نظر ؟

پھر تو تیرا ہر عمل بیکار ہے !

 

نعت نے بخشا نہیں اس کو مکاں

ذہن اب بھی بے در و دیوار ہے

 

رہنمائی کر رہے ہیں مصطفیٰ

کیا ہوا جو راستہ دشوار ہے

 

فیض ہے ان کے تعلق کا مجیبؔ

کون ورنہ میرا تابعدار ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ