اردوئے معلیٰ

امداد امام اثر کا یوم پیدائش

آج اردو کے نامور شاعر شمس العلماء امداد امام اثر کا یوم پیدائش ہے

شمس العلماء امداد امام اثر اردو کے شاعر اور ان کی وجہ شہرت اردو تنقید
کی کتاب ” کاشف الحقائق” ( دو جلدیں : 1894ء) ہے۔ اثر 17 اگست 1849ء میں بہار آرہ ء کے ضلع سالارپور میں پیدا ہوئے اور 17 اکتوبر 1934ء میں انتقال ہوا۔ شیعہ عقائد سے تعلق تھا۔ دو شادیاں کیں۔
شبلی اور حالی کے بعد اردو تنقید میں نئے معنوی مفاہیم اور رویوں کی مباحث نے ان کی تنقید کو منفرد انداز اور اسلوب بخشا۔ ان کے ادبی اور تنقیدی مزاج پر سر سید احمد خان، شبلی نعمانی اور الطاف حسین حالی کے عکس نظر آتے ہیں۔ ان کو سر سید کے فکریات سے تھوڑا سا اختلاف بھی تھا۔ امداد امام اثرکو اردو تنقید کی زبوں حالی کا احساس تھا کیونکہ اردو کا قریبی حوالہ عربی یا فارسی ہے اور ان دونوں زبانوں میں ادبی تنقید کی صنف کی کوئی مستحکم روایت موجود نہیں تھی۔ ان کی تنقیدی تحریریں اردو میں انقلابی نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے روایتی ادب سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ اثر اخلاقیات کو شاعری میں بہتر تصور کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں شاعری کو اخلاق آموزی کا ایک بہتریں ذریعہ ہونا چاہے لیکن وہ شاعری میں الفاظ کی تہ داری کے قائل تھے۔
امداد امام اثر اردو، فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی سے بھی واقف تھے۔ انہوں نے انگریزی کا مطالعہ براہ راست کیا تھا لہذا ان کی تحریروں میں ٹھہراؤ اور توازن نظر آتا ہے۔ لیکن انہیں شبلی اور حالی سے معنی پر لفظ کی فوقیت پر اختلاف ہے۔
شعر میں وہ اخلاقیات کے ساتھ ‘ معنی’ کو بھی کلیدی اہمیت دیتے ہیں۔ اثر کے نزدیک "خوش خیالی” کی ترکیب میں "خوش کی صفت” جمالیاتی کم اور اخلاقی زیادہ ہے۔ انہوں نے شاعری پر بحث کرتے ہوئے شاعری کی دو/2 اقسام خارجی (Objective) اور لجالم ذہن/ موضوعی (Subjective) کو اردو نقد سے روشناس کروایا اور ان تصورات کی واضح تشریح اور تعریفات پیش کیں۔ انہوں نے احساس دلوایا کہ شاعری پرسیاسی اور معاشرتی بحرانوں سے لے کر ماحولیات، موسم، چرند پرند اور زراعت کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو بھی امداد امام اثر نے اپنی انتقادی تحریروں میں جگہ دی۔ ”
امداد امام اثرنے اردو تنقید کا عندیہ دیا۔ ” ماحولیاتی تنقید” (Ecological Criticism) میں صرف شاعری کا متنی تجزیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی تاثراتی رسائی کے تحت شاعری کا تجزیہ اورمطالعہ کیا جاتا ہے بلکہ معروض کے مظہرات کواور اس کے علت و معمول کے رشتوں سے شاعری کی معنویت میں معنیات تلاش کی جاتی ہے۔ ”
امداد امام اثر کے تنقیدی شعور کے پس منظر میں ابن قتیہ،ابن رشیق، عبد القاہر جرجانی، ابو ہلال عسکری،جاحظ، کولرج اور رچرڈسن وغیرہ کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ ان کی تنقید کوعملی تنقید کا نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ جن میں تنقیدی اصولوں کا تناسب کم ہے لیکن یہ ان معنوں میں علمی نقد نہیں ہے۔ جن معنوں میں عہد حاضر میں عملی تنقید لکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک انتقادی مکتب فکر ہے۔ لہذا ان کو اس دبستان سے منسلک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی کتاب ” کاشف الحقائق ” کو ‘ تنقیدی اجتہاد’ کا نمونہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب میں اردو شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ ہندوستانی اور فارس کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
اردو میں امداد امام اثر کے ناقدیں میں وہاب اشرفی،ابولکلام قاسمی، شمس الرحمان فاروقی، احمد سہیل،اختر قادری، عبادت بریلوی، اورسید تنویر حسین وغیرہ کے نام اہم ہیں جن میں امداد امام اثر کے تنقیدی مزاج اور اس کی متنی ماہیت پرکئی سوالات ہی نہیں اٹھائے گئے ہیں بلکہ ان تحریروں کی مختلف فکری جہات سے بحث کی گئی ہے۔ امداد امام اثر کی کتابوں کی فہرست یہ ہے :
1۔ کاشف الحقائق 2۔ مرأۃالحکما 3۔ فسانۂ ہمت 4۔ کتاب الاثمار 5۔ کیمیاے زراعت 6۔ فوائد دارین 7۔ مصباح الظلم 8۔ کتاب الجواب 9۔ معیار الحق 10۔ ہدیۂ قیصریہ 11۔ رسالہ طاعون 12۔ نذر آل محمد (احمد سہیل)
——
منتخب کلام
——

 

ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں

اجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیں

یہ مطلب ہے کہ محفل میں منائے اور من جائیں

وہ میرے چھیڑنے کو غیر سے بیزار بیٹھے ہیں

خریدار آ رہے ہیں ہر طرف سے نقد جاں لے کر

وہ یوسف بن کے بکنے کو سر بازار بیٹھے ہیں

اچانک لے نہ لوں بوسہ یہ کھٹکا ان کے دل میں ہے

مرے پہلو میں بیٹھے ہیں مگر ہشیار بیٹھے ہیں

تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے

جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں

قیامت ہے ستم مردے پہ بھی ان کو گوارا ہے

مرا لاشہ اٹھانے کے لئے اغیار بیٹھے ہیں

لب بام آ کے دکھلا وہ تماشا طور کا تم بھی

بڑے موقعے سے در پر طالب دیدار بیٹھے ہیں

اثرؔ کیوں کر نہ جانوں اس کے در کو قبلۂ عالم

اسی جانب کئی رخ کافر و دیں دار بیٹھے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ