اردوئے معلیٰ

بے جھجھک ہر بامِ رفعت چوم آئے بوالعلی

بے جھجھک ہر بامِ رفعت چوم آئے بوالعلی

ہر بلندی پر ملیں گے نقشِ پائے بوالعلی

 

کس لیے میں غم کروں کس بات کی مجھ کو ہے فکر

ہر گھڑی مجھ پر ہے وا باب عطائے بوالعلی

 

چاند کی اٹکھیلیوں کو دیکھ کر ایسا لگا

سیکھ لی ہے اس نے بھی طرز ادائے بوالعلیٰ

 

آگئے جس کے قدم ، جاتا نہیں ہے لوٹ کر

خوبصورت ہے بہت مدحت سرائے بوالعلی

 

وہ گئے اجمیر تو ہم کیوں نہ جائیں بار بار

ہم فقیرِ بوالعلی ہیں ، ہم گدائے بوالعلی

 

سیدی نواب کے چہرے کو دیکھو غور سے

حسنِ سرکارِ حسن ہے اور ضیائے بوالعلی

 

فکر میری اور مرا وجدان اکثر اے مجیبؔ

شاخ مدحت پر کھلائیں گل برائے بوالعلی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ