حمدِ رب کے نخل پر آیا ثمر اشعار کا

حمدِ رب کے نخل پر آیا ثمر اشعار کا

کُھل گیا قصرِ سخن میں ایک در اشعار کا

 

ساری تخلیقات میں نورِ یقیں جلوہ فگن

حمد کے اشعار میں سرمایۂ صد فکر و فن

 

رزقِ فن دیتا ہے جو، اُس کی ثنا ہر لب پہ ہے

خیر کی چاہت بھلائی کی دُعا ہر لب پہ ہے

 

ہر سخن کا رُخ زمیں سے آسماں کی سمت ہے

یہ سفر سارا حیاتِ جاوداں کی سمت ہے

 

خالقِ کُل سے مخاطب، فکر انسانی ہوئی

ہر صدا لگتی ہے دل کو جانی پہچانی ہوئی

 

ہے تپش احساس کی مضمر لباسِ فکر میں

قلب پاتا ہے سکوں بے شبہ، رب کے ذکر میں

 

بخش دے رب اُسوۂ کامل ہمیں خیرات میں

ہو نمایاں نورِ ایماں کی جھلک ہر بات میں

 

تم عزیزؔ احسن ثنائے رب تعالیٰ کے طفیل

مانگ لو گلشن، ثنائے رب تعالیٰ کے طفیل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر جگہ ہر نظر دیکھ سکتی نہیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں
بے کیف ہے حیات ترے ذکر کے بغیر
مرے مولا کہتا رہوں سدا , تری شان جل جلالہ
میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں