خلقِ خدا میں فائق، صلِ علیٰ محمد

 

خلقِ خدا میں فائق، صلِ علیٰ محمد

عرشِ بریں کے لائق، صلِ علیٰ محمد

 

میں گدائے سنگِ در ہوں وہ کریم تاجور ہیں

جود و کرم کے شائق، صلِ علیٰ محمد

 

ہر امتی کی بخشش ہوگی بروزِ محشر

قرآں میں ہیں وثائق، صلِ علیٰ محمد

 

یہ ردیف قافیہ ہیں یہ جو شعر نعتیہ ہیں

بخشش کے ہیں حدائق، صلِ علیٰ محمد

 

محبوب کو بلا کر معراج پر خدا نے

بتلائے سب حقائق، صلِ علیٰ محمد

 

میلادِ مصطفیٰ پر کر کے حسیں چراغاں

پڑھتے ہیں سب علائق، صلِ علیٰ محمد

 

اشفاقؔ غم رسیدہ پڑھتا ہے یہ قصیدہ

اے سرورِ خلائق، صلِ علیٰ محمد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ