رب کا یہ اِنعام ہے صد آفریں

رب کا یہ اِنعام ہے صد آفریں

فیض اُن کا عام ہے صد آفریں

 

وِرد ہے لب پر نبی کے نام کا

رُوح کو آرام ہے صد آفریں

 

سبز گُنبد کی بہاریں دیکھ کر

شاد ہر ناکام ہے صد آفریں

 

وصل کی شب عرش پر محبوب کا

خوب اُونچا نام ہے صد آفریں

 

ساقیء کوثر کی رحمت جوش پر

پیش سب کو جام ہے صد آفریں

 

اُن کا دیوانہ عذابوں سے بری

اور خوش انجام ہے صد آفریں

 

بِک گیا جو بھی نبی کے نام پر

اُس کا اُونچا دام ہے صد آفریں

 

جس کو رب نے رحمتِ عالم کہا

اُس کی رحمت عام ہے صد آفریں

 

نعت کے باعث رضاؔ کا دوستو!

ہر جگہ اِکرام ہے صد آفریں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں