شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی

 

شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی

لفظ مسکرائیں گے اور نعت مہکے گی

 

دیدِ شاہ کی خواہش بند آنکھ میں رکھ لوں

آنکھ میں یہ کستوری ساری رات مہکے گی

 

صرف تذکرہ کیجے والضحیٰ کے چہرے کا

لٹ حسین زلفوں کی سات سات مہکے گی

 

میری روح بطحا کے بوستان میں جا کر

ڈال ڈال جھومے گی پات پات مہکے گی

 

جب بھی لکھا جائے گا نام سرورِ دیں کا

مشکبو قلم ہوگا اور دوات مہکے گی

 

مشک عشقِ سرور کا دل میں رکھ لیا جائے

تب خیال مہکے گا تب حیات مہکے گی

 

تیر کھائے اصغر سے کہہ دیا فرشتوں نے

کربلا کے پھولوں سے کائنات مہکے گی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اوج کے نقشِ چمن زار سے جا ملتا ہے
مدینہ شہرِ دلنشیں ہے نُور بار، مُشکبو
کہاں سے لاؤں وہ حرف و بیاں نمی دانم
نعت سے دامنِ طلب بھر دے
ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا
رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی
میں غریب سے بھی غریب ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے
بعد ثنائے ربِّ معظَّم، نعتِ نبی ہو جاری پیہم
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
خدا کی خاص رحمت اور کرم سے