اردوئے معلیٰ

Search

فردوس بخش دیتی ہے نسبت حسین کی

اعلی ہے کتنی دیکھو سیادت حسین کی

 

مل پائے گی نہ خلد میں اس کو کوئی جگہ

جس دل میں جاگزیں ہو نہ الفت حسین کی

 

دنیا میں مل سکے گی نہ راحت کبھی اسے

رکھتا ہو دل میں جو بھی عداوت حسین کی

 

در سے کبھی بھی خالی نہیں آتا ہے کوئی

سب لوگ جانتے ہیں سخاوت حسین کی

 

یارب یہ قلبِ خستہ کی ہے تجھ سے التجا

ہر پل ہر آن مجھ پہ ہو شفقت حسین کی

 

زاہدؔ نے جب سے دیکھے ہیں دنیا کے بدلے رنگ

محسوس ہو رہی ہے ضرورت حسین کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ