اردوئے معلیٰ

Search

مطلعِ نعتِ نبی میں لکھ رہا ہوں حالِ دل

نطق ہے بے جان میرا لفظ سارے منفعل

 

اے رسولِ ہاشمی امداد کن امداد کن

نرغۂ اعداء میں ہے تیرا یہ بندہ مستقل

 

ذکرِ اسمِ پاک سے باقی ہیں آثارِ حیات

ذکرِ اسمِ پاک سے ہر زخم ہوتا مندمل

 

اپنے دل پر نقشِ نعلینِ کرم رکھتا ہوں میں

لرزشِ تارِ نفس ہوتی ہے جب بھی مضمحل

 

یہ قلم افراط اور تفریط سے محفوظ رکھ

الحذر ہے راہِ مدحت نطق کو رکھ معتدل

 

مانگتا ہوں بارگاہِ سیدِ کونین سے

ایک مسکن روضۂ انور سے بالکل متّصل

 

اُوڑھ لوں گا میں رداے لاتخف محشر کے دن

چار سُو جب چل رہی ہوگی ہواے جاں گُسِل

 

منظر انسانیت اک دور سے تھا کرب میں

دور تھا وہ پانچ سو ستّر برس پر مشتمل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ