نعت کی محفل سجانے کا مہینہ آ گیا

نعت کی محفل سجانے کا مہینہ آ گیا

مصطفی کے گیت گانے کا مہینہ آ گیا

 

نُور سے پُرنُور ہے کس دَرجہ بارہ نُور کی

مرحبا! رحمت کو پانے کا مہینہ آ گیا

 

آسمانِ دَہر سے ظُلمت کے بادل چَھٹ گئے

دوستو! خوشیاں منانے کا مہینہ آ گیا

 

غَم زدو!، اے بے کسو! تم کو مبارک باد ہو

سَوئی قِسمت کو جَگانے کا مہینہ آ گیا

 

زِندگی میں پھر ربیع النور آیا مرحبا!

عِشق کی شمع جلانے کا مہینہ آ گیا

 

پیارے آقا کی وِلادت کے ترانوں کی رضاؔ

ہر طرف دھومیں مچانے کا مہینہ آ گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نبی کا صدقہ ہیں منظر صدائے کن کے بعد
اس جہانِ مصائب میں غم ہیں بہت ،پھر بھی ایسا نہیں کہ سہارا نہیں
اے فکر سنور اور اے اسلوب نکھر اور
مشکِ جاں ساز رگِ جاں میں بسا ہووے ہے
میرے ہونٹوں پہ ترا نام تری نعت رہے
مصحفِ روئے منور کی تلاوت کر لوں
جس شخص نے کی آپؐ سے وابستگی قبول
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
بُلا لو پھر ہمیں شاہِ عربؐ مدینے میں
نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے