نیا کرایے دار یہ سُن کر کانپ رہا ہے

نیا کرایے دار یہ سُن کر کانپ رہا ہے

اس کمرے میں صدیوں تک اِک سانپ رہا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو سارا حساب آتا ہے
جا محبّت کی نئی قِسم مِرے سامنے لا
سجدے میں آ گیا تھا کوئی اور ہی خیال
بس ایک روز مجھے لوٹنا تھا گھر جلدی
دل جہاں کھویا، وہیں پندارِ غم بھی کھودیا
نہ آئی بات تک بھی منہ پہ رعب حسن جاناں سے
وہی لہجہ ہے مگر یار ترے لفظوں میں
مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے
کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو
زندگی کے اداس قصے میں