چرواہا

میں بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ قسم کی کوئی شخصیت نہیں لیکن مجھے علمی و ادبی لوگوں سے گہری عقیدت ہے ۔ میں اپنے اندر جھانکوں تو بہت سے شعبہ جات سے محبت میرے اندر سرایت کرتی دکھائی دیتی ہے ۔۔اور یہ تمام شعبے اپنی دانست میں یا لوگوں کی نظر میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں ۔ یہ لوگوں کی نگاہ ہوسکتی ہے لیکن میرے زاویہ نظر سے مجھے یہ تمام شعبہ جات ایک ہی نظر آتے ہیں ۔
اگر میں کہوں کہ دین اور میڈیا یا دین اور فنون ڈرامہ و فلم سازی کچھ الگ شے نہیں تو یہ بیان مجھے ڈراتا ہے کہ کہیں اکبر کے دین الہی کا فتوٰی نہ لگ جائے ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ مجھے یہ خیال اس شدت سے تنگ کرتا ہے کہ میں بولے بغیر رہ نہیں سکتی ۔
میرا تعلق انتہائی قسم کے اس مذہبی گھرانے سے ہے جو صرف دینی حدود و قیود کی حد تک مذہبی نہیں روایات کے شکنجوں میں بھی بری طرح سے جکڑا ہوا ہے ۔ معاشرے میں میری کوئی پہچان نہیں ۔ میں فرد واحد ہوتے ہوئے اپنے ریوڑ سے الگ ہونے کی ہمت نہیں رکھتی
۔ ریوڑ سے الگ ہونے کی صورت ہمیں دو قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یا تو شیر بھیڑئیے ہمیں تنہا جان کے ہم پہ حملہ کر کے کھا جاتے ہیں تو یہ ہو گیا جان کا خطرہ ۔ اور جان کسے عزیز نہیں ۔ پس جان بچانے کی خاطر آپ ریوڑ سے جڑے رہتے ہیں ۔
دوسرا نقصان گو جان کا نہیں ہوتا لیکن وہ آپ سے آپ کا سب کچھ چھین لیتا ہے ۔ اپنے ریوڑ سے ہٹ کر کہیں آپ کسی ایسے گلے کا حصہ نہ بن جائیں جو اخلاق ہ کردار کے بد ترین درجے پہ براجمان ہوں ۔ مثال کے طور پہ بھیڑ اگر بھیڑوں کے ریوڑ کہ چھوڑ کر سوؑر کے گلے میں جا کے شامل ہو جائے تو اسکی بقا کیونکر ممکن ہے ۔۔۔
اپنے ریوڑ سے لاکھ اختلافات ہوں انھیں برا بھلا کہہ لیں لیکن ان کے ساتھ رہیے انکو چھوڑئیے مت کیونکہ یہی آپکی طاقت ہیں ۔ انکے ساتھ رہ کر ان میں تبدیلی کے عمل کا آغاز کیجیئے ۔ ایک اور آپ جیسا آپکو ضرور مل جایے گا ۔ جو آپ کے ساتھ مل کر ریوڑ کی سمت متعین کرنے میں آپ کی مدد کرے گا ۔ آپ لیڈ کرنا سیکھیے یہ سب آپکے پیچھے چلنے والے ہیں ان سے گلہ کیوں کہ یہ خود ہی درست سمت میں کیوں نہیں چلتے ۔ کیونکہ لیڈر سب نہیں ہوتے ۔ یہ آپ میں سے ایک ہوتا ہے وہ ایک جو حالات بدلنے کی مشکل سے گھبرا کے اپنے ریوڑ سے الگ ہو کر خود کو اور پورے گلے کو مشکل میں ڈال دیتا ہے
بچپن میں ابا جی ایک کہانی سنایا کرتے تھے
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک مرغی نے انڈے دئیے ۔ مرغی کے انڈوں میں کسی طور شاہین کا ایک انڈہ آ شامل ہوا ۔ مرغی انڈے سیتی رہی ہر جب اس سے بچے نکلے تو ایک بچہ ہیئت کے اعتبار سے الگ تھلگ دکھلائی دیتا ۔ لیکن بہر حال مرغی نے اپنا بچہ جان کے اسکو بھی وہی طور اطوار سکھانے شروع کر دئیے جو اپنے بچوں کو سکھاتی ۔۔ سیکھتے سیکھتے مرغی کے بچے ایک خاص اونچائی تک اڑان بھرنا سیکھ گئے ۔ اسی اونچائی تک کی اڑان شاہین بچے نے بھی سیکھی ۔ ایک دن ایک شخص آیا اس نے غور کیا تو شاہین بچے کی حرکات مرغیوں جیسی دکھائی دیں ۔ وہ حیران ہوا اور آخر کار اس نے ایک فیصلہ کیا شاہین بچے کو اٹھایا اور ایک چٹان پہ پہنچ کے وہاں سے نیچے گرا ڈالا ۔
اول اول تو وہ چکراتا ہوا گرتا رہا لیکن جبلت حاوی ہوئی اس نے پر کھولے اوراڑان بھر لی ۔ اپنی اڑان پہ گو وہ خود بھی حیران تھا لیکن فطرت خود کو منوا کے دم لیتی ہے ۔
یہاں کہانی ختم ہوتی اور ابا حضور فرماتے تو جان لو تم شاہین ہو گو مرغیوں میں رہتے ہو ( ابا جی کو ہمارا عام بچوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کھیلنا کودنا بالکل پسند نہیں تھا ۔ ہم پڑھنے والے ذہین طالب علم کو ابا جی سے متعارف کرواسکتے تھے لیکن اپنی گلی میں فارغ گھومنے والے بچوں کو دوست کہہ کر بلا نہیں سکتے تھے ۔ اور ہمیں ہمہ وقت ہوکا تھا کہ ہم ان ہی فارغ البال بچوں کے ساتھ گلی گلی گھومیں ۔ )
اور مرغیوں میں رہتے ہوئے تم اڑنا بھول چکے ہو ۔ پر پھیلاؤ اور اڑ جاوؑ ۔
ابا حضور کی کہانی کے بعد ہمارا بہت دل چاہتا کہ ہم اڑ جائیں لیکن پر دکھائی ہی نہ دیتے ۔
جو کہانی بچپن میں سمجھ نہ آئی وہ بڑے ہونے پہ سمجھ آگئی ۔ اب کیا کیا جائے کہ پر کھل جائیں یہ عقدہ کھلنا تا حال باقی ہے ۔
تو بہرحال اسی مذہبی گھرانے سے تعلق کی بنا پہ مذہبی تنگ نظری سے بھی بچپن سے واسطہ پڑتا رہا ۔ ہمارے خاندان کو تقسیم کیا جائے تو تین دھڑوں میں بٹتا ہے ۔ ایک ابا جی اور ان کی تین بہنیں ۔ ابا جی علما کی صحبت سے فیض یاب ہوئے لیکن دین کا جائزہ ملائیت کی نظر سے ہر گز نہ لیتے ۔۔ منجھلئ پھپھو کی شادی دادا حضور نے مولوی حضور سے کر ڈالی جو عام مولوی ہر گز نہ تھے لیکن وراثت میں چھوڑی جانے والی اولاد کٹر مولوی ضرور ثابت ہوئی مرد حضرات پھر بھی کوشش فرما لیا کرتے اعتدال کے راستے پہ چلنے کی لیکن خواتین کا کہا تو پتھر پہ لکیر ہوتا پل میں جس کی چاہے عزت تار تار کے لیریں ہاتھ میں پکڑا سکتی تھیں ۔
بڑی پھپھو صآحبہ کا خاندان انتہائی دنیا دار طبقہ جن کی نظر میں دین دوسروں کے لئیے نازل ہوا تھا اور جس سے وہ فتوٰی لگانے کا کام بخوبی سر انجام دے سکتے تھے ۔
یہ ایک خاندانی پس منظر تھا ۔ برادری قبائلی نظام کی طرز پر تھی انھیں نہ تو دین سے لینا دینا تھا نہ دنیا سے بس روایات پہ حرف آنے کو وہ برداشت نہیں کر پاتے ۔
ایسے خاندانی پس منظر میں ایسی بچی کا کیا کام جس کو ہر بات کے جواب میں کیوں کہنے کی عادت ہے ۔
سونا ٹی وی والے کمرے میں نماز مت پڑھو ۔
کیوں ؟
جواب میں جنجھلاہٹ اور بد تمیزی کا طعنہ ۔
دیکھو باجی اگر تو اس لئیے منع کر رہی ہو کہ ٹی وی آن ہونے کی صورت میں تصویر نظر آیے گی تو ایک لاجک ہے لیکن یہ تو بند ہے ۔ اب کیوں نہ یہاں نماز پڑھوں ؟
بی بی ہمارا اتنا دماغ نہیں کہ تم سے کھپائیں ۔ یہ سکول کالج پڑھنے والیاں بہت زبان دراز ہوتی ہیں ۔۔
اللہ رے مدرسے کی منی ۔ دلیل سے بات کیا کرو ۔
سونا نماز پڑھتے ہوئے دونوں پاؤں میں چار سینٹی میٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے ۔
باجی اب یہ کس کتاب میں لکھا ہے ؟ اور اب کیا سکیل پاس رکھ کے ماپا کروں ؟
اری کم بخت نا ھینجار کل ہی جمعے کے خطبے میں مولوی صاحب نے کہا تھا ۔ بھائی کو بھیج کے مولوی صاحب سے کتاب منگوا لینا تب بات کریں گے ۔ کہ باجی کا ایمان تھا اگر پاوؑں کا فاصلہ پانچ سینٹی میٹر ہوگیا تو نماز فاسد ہے ۔
سونا بارہ سالہ وہ بچی ہے جس نے قسم کھا رکھی ہے جب تک بات سمجھاوؑ نہ ماننی نہیں ۔ اس بگاڑ میں بہت بڑا ہاتھ ابا جی کا بھی تھا کہ باپ بیٹی پوری رات مناظرہ جاری رکھتے اور دلیل دلیل کھیلتے ۔ بیٹی عمر سے بڑی کتابیں پڑھتی اور ابا جی کی اماں بننے کی کوشش کرتی ۔
ایک خاص نقطے پہ پہنچ کہ ابا جی کے اندر سے قبائلی روح بیدار ہوتی اور اتنا زیادہ بولنے والی بارہ سالہ خاتون کی گھچی مروڑ دینا چاہتی ۔
ان تمام حالات میں جہاں کالج یونیورسٹی جانے والی وہ پہلی بچی ہے ۔ اور صرف پڑھ لکھ لینے والی ہی نہیں صاحب رائے بھی ہیں۔ مخالفتوں کا طوفان ویسے ہی سر ابھارے کھڑا ہے ۔ اور بچی دعویؑ بے جا کی مرتکب ہو جائے کہ
” کہ دین اور میڈیا یا دین اور فنون ڈرامہ و فلم سازی کچھ الگ شے نہیں :
اب فقط دعوی کرنا ہی کافی نہیں ۔ ہم بیان بھی کر دیتے ہیں کہ ہم ایسا سوچتے کیوں ہیں ۔
قطعا خیال مت کیجیے گا کہ کوئی عالمانہ بیان ہونے والا ہے ۔ ہم سے عالمانہ گفتگو کی توقع اس جنم میں تو ممکن نہیں اور اگلے جنم پہ ہمارا عقیدہ نہیں ۔
قصہ طویل کچھ یوں ہے کہ ہمیں مشاہدات و تجربات دیکھنے سننے کا بے حد شوق ہے ۔ اب چاہے یہ خود پہ بیتی رام کتھا ہو یا کسی اور پہ ہمیں جاننے کا اشتیاق رہتا ہے ۔
چند مشاہدات ملاحظہ فرمائیے ۔
شادی کی تقریب ۔ ایک نہایت حسین و جمیل دو شیزہ دلفریبی سے مسکراتی ہماری جانب لپکتی ہیں ۔ ہم ورطہ حیرت میں مبتلا خدا جانے کون ہیں ۔
قریب آکے منہ کھولتی ہیں اور پہاڑی لہجے میں گفتگو کا آغاز فرماتی ہیں تو علم ہوتا بچپن کی سہیلی ہیں لیکن یہ کیا کرشمہ ہے کہ محترمہ جو اول جلول حلئیے کی مالک ہوا کرتی تھیں پہننے اوڑھنے سے نا بلد دیوانہ حال ا مستانہ چال رہتیں یکد م حسیناؤں کو مات کیسے دینے لگیں ۔
استفسار ہوا ۔ اور استفسار نے نئی بحث کا دروازہ کھول دیا ۔ فرماتی ہیں یہ کرشمات مارننگ شوز والوں کے ہیں ۔ ہائیں ۔ ارے کیا کم بختوں نے حسن کو ظلسماتی کرنے کا منتر بتا ڈالا ہے ۔
بچپن کی سہیلی کو پتنگے لگے ۔
اری نوج جدید دور ہے اور میک اپ نے میک اوور کی شکل اختیار کر لی ہے ۔
واہ سبحان اللہ ۔ کیا ہی کہنے ۔ تو وہ میک اپ سکھانے والیاں اگر بوتھا نکھارنے کے ساتھ ساتھ تمھاری اخلاق و تربیت کو بھی نکھار ڈالیں تو تم جیسی تو چراغ لے کے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے ۔
تم تو گنوار ہی رہنا ۔
صاحبان کرام رہے ہم گنوار ہی لیکن ہمارے ذہن میں برسوں پرانا کیڑا کلبلانے لگے کہ یہ پیاری پیاری باجیاں جو مارننگ شوز میں آکے وجود کو نکھارنے سنوارنے سجانے کے طریقے بتاتی ہیں اور ہماری خواتین دل و جان سے ان کے ٹوٹکوں پہ عمل کرتی ہیں ۔ انکی دیکھا دیکھی میری ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا کہ کتنی ہی باجیوں نے اپنے وزن گھٹانے جیسا مشکل کام سر انجام دے ڈالا ۔
تو اگر اسی پلیٹ فارم کو اخلاق سنوارنے تربیت کرنے کے لئیے استعمال کیا جائے تو کیا بعید ہے کہ اثر نہ ہو ۔
ایسا ہی ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیے ۔
ماحٍ عبدالرحمان تین سال کا ہے ۔ ایک سردیوں کی صبح اٹھ کر ارشاد فرماتا ہے ۔
اماں مجھے نہلائیں ۔
بیٹا اتنی صبح کیوں ۔
جواب آتا ہے ۔ کیونکہ میں صفائی کا بہت خیال رکھتا ہوں ۔
یا حیرت ۔
اور بیٹا یہ بات کس نے سکھائی ۔
اماں کمانڈر سیف گارڈ نے
اس دن اماں سوچتی ہیں کہ اگر میرے بچے کے لیئیے اسی طرح کے چند ایسے کارٹونز ہوں جو اسے بہت سی اچھی باتیں سکھا سکیں تو ماں کا کام کتنا آسان ہو جائے ۔ بچے ہوں یا بڑے انکے اذہان اور دل و دماغ پہ ایک دیومالائی طاقت ہمیشہ راج کرتی رہتی ہے جو انکے بہت سے کاموں کے کرنے کا محرک ثابت ہوتی ہے ۔
ہم سب اپنی زندگی میں ایسا کردار چاہتے ہیں جسے ہیرو کا نام دے کر اس جیسی حرکات سر انجام دے سکیں ۔ اپنے بچپن میں میں خود ٹارزن اور عمرو عیار کے متاٰثرین میں سے تھی ۔ اور سمجھ نہ آتی کہ کیا کیا جائے کہ عمرو کی زنبیل ہاتھ لگ جائے ۔ یا کم از کم سلیمانی چادر ہی سہی ۔
ماحٍ کو کہانیاں سننے والی بیماری مجھ جیسی ہی ہے ۔ وہ رات سونے سے پہلے ایک کہانی کی فرمائش ضرور کرتا ہے ۔ کہانیوں میں اسے کمانڈر محمد بن قاسیم کی کہانی بے حد پسند ہے ۔ اور جب تذکرہ کیا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دی تو ماحٍ مکا تان کر تکیے پہ گھونسوں کی بارش کر دیتا ہے کہ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو ایسے مارا ایسے مارا ۔
تین سال کا بچہ کمانڈر سے متاثر ہوتا ہے اسکے اطوار اپنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کہانی کیسے پورٹرے کی جائے کہ وہ حالات و واقعات کو اپنی نگاہوں سے دیکھ پائے ۔۔
ڈھونڈے سے بھی مجھے اردو زبان میں ماحٍ عبدالرحمان کے لئیے سلطان صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، سلطان محمود غزنوی کے کارٹونز نہیں ملتے ۔
تمام مولوی حضرات سے معذرت کہ میں اپنے بچے کو یہ سمجھانے سے قاصر ہوں کہ وہ کارٹونز نہ دیکھے ۔
اسکے ساتھ ک بچے ہنو مان ، بال ویر ، اور شیو جی نامی کارٹونز دیکھتے ہیں ۔ میں تو اسی فکر میں ہلکان ہوں کہ اسے ان سب سے کیسے بچاؤں ۔ یہاں پھر کمانڈر سیف گارڈ کو میں ان سے قدرے بہتر سمجھتی ہوں ۔
کیا ہم بچوں کی پرورش و تربیت سازی کے لیے میڈیا کے میڈیم کو استعمال نہیں کر سکتے ؟؟؟
ہم ہر ٹیکنالوجی کے انکار کو اپنے اوپر فرض کر کے ہر میدان کو غیر کے لئیے خالی کیوں چھوڑ دیتے ہیں ؟؟؟؟/
میں نے آج صبح ایک انڈین اداکارکا انٹرویو دیکھا ۔ فرماتے ہیں کہ
"میں نے ایک ایپ بنائی جس کے تحت میرا خیال تھا کہ ان شہیدوں کی فیمیلیز کی مدد کی جائے جو جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ہر شخص اس ایپ کے ذریعے اپنی چیریٹی کر سکے چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی رقم کیوں نہ ہو ۔ اس طریقے سے میں نے ایک حد مقرر کی کہ ہر شہید کی فیملی کے اکاؤنٹ میں ہر وقت ایک خاص مقدار کی رقم موجود رہے ”
ہمارے ہاں شہید کی شہادت کو ایک طرف رکھکر پہلی بحث یہ ہوتی ہے کہ آیا شہید تھا یا مردار ۔۔ اور پھر اسکی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ۔ ہم اپنی فوج کی قدر کرنا جانے کب سیکھ پائیں گے ۔
انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ مخالفت کو کیسے برداشت کرتے ہیں ؟
اور محترم نے پھر ایک معلمانہ جواب دیا ۔
” جب آپ سائیکل چلاتے ہیں تو اکثر کچھ لوگ شرارت کر کے پہیئے میں لکڑی پھنسانے کی کوشش کرتی ہیں آپ اگر پہیہ تیز چلائیں گے تو وہ لکڑی ٹوٹ کر پرے جا گرے گی لیکن اگر پہیہ آہستہ ہوا تو آپ گر کر ہڈی پسلی تڑوا لیں گے ”
مراد اس سے یہ ہے کہ اپنے مقصد پہ نظر رکھیئے اور اپنی توانائی اس کے حصول میں صرف کیجیے ۔ اگر آپکی محنت شدید ہے تو کوئی آپکو گرا نہیں سکتا اور اگر آکی محنت کی رفتار سست ہے تو کتنے ہی مخا لفین اس تاک میں ہیں کہ کب آپکو مار گرائیں ۔
یہ دو باتیں سن کے پھر مجھ شدید احساس نے گھیرا کہ اگر ہم چاہیں تو میڈیا کا مثبت استعمال ممکن ہے ۔ اگر ہم نگاہ دوڑائیں میڈیا پرسنز پر تو وہاں آپکو دیسی لبرلز ، ملحدین کا گڑھ نظر آئے گا ۔ دراصل ہم نے اس میدان کو ان ہی کے لئیے تو چھوڑ رکھا ہے پھر گلہ کیوں کرتے ہیں کہ ہمارا میڈیا یہ اور ہمارا میڈیا وہ ۔
کوئی ایک عالم اور مولوی بتا دیں جو ڈائریکٹر ہے ؟ پروڈیوسر ہے ؟
اب خدارا مجھ غریب پہ فتوٰی مت صادر کر دیجیے گا کہ مولوی کو منبر سے اٹھا کے بازار حسن جانے کا مشورہ دیتی ہیں ۔
کہ میں نے ہر گز نہیں فرمایا کہ مولوی صاحب آئیٹم نمبر والی فلم بنا کے قوم کو دین کی تبلیغ کریں ۔ ہاں البتہ یہ ضرور فرمایا ہے کہ میڈیا کا فایدہ اٹھایا جایے ۔ اس وقت دین کو روایتی وعظ و نصیحت سے ہٹ کر بھی تبلیغ کی ضرورت ہے ۔ بس اپنا دائرہ کار بڑھا لیجیے ۔ اور ہر فورم ہر میدان کو دین کے لئیے استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کیجیے ۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
جب ہم ملے
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار
عدم توازن
خط بنام سہیلی
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
عزتِ سادات