پکارا ہم نے جو ” اُن ” کو

جنوبی ایشیاء کے ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی خواتین کی زبانیں میزائل بن کے گولے داغنے لگ گئیں ـ کہیں شریعت کے مسائل پہ بات ہوئی ‘ کہیں اس بحث کو ناز و ادا کے زمرے میں گردانا گیا تو کہیں خواتین مساوات کا ڈھنڈورا پیٹتی دکھائی دیں ـ
پوری دنیا کے مسائل الگ طرز کے ہیں جبکہ ہماری پاکستانی خواتین جن کے دل کے اوریکلز اسلام کے نام پہ دھڑکتے ہیں اور ونٹریکلز برصغیر پاک و ہند کی تہذیب کے نام پہ ان کے مسائل کچھ اور ہی طرح کے ہیں ـ
کعبہ میرے آگے ہے کلیسا میرے پیچھے والی اس صورتحال میں مسئلہ یہ درپیش آیا کہ وہ حضرت جو والدین کی باہم رضامندی اور اماں ابا کی بات مان لینے کے نتیجے میں آپکی زندگی میں کسی ناگہانی آفت کی طرح شامل ہو گئے ہیں ‘ جنہیں دنیا آپکے میاں ‘ شوہر ‘ ہزبینڈ وغیرہ وغیرہ کے طور پہ جانتی ہے انھیں آپ کس نام سے پکاریں کہ دین بھی بچ جائے ‘ معاشرتی رسوم و رواج پہ بھی آنچ نہ آئے اور دل لگی و دل بستگی کا سامان بھی ہو جائے ـ
اس تمام قضیے میں سب سے جو اہم مسئلہ درپیش ہے وہ کچھ یوں ہے کہ اندازِ تخاطب کچھ ایسا ہو کہ دنیا آپکو فرماں بردار و تابع گزار سمجھے لیکن صاحب تلملا کے دانت کچکچا کے رہ جائیں ـ نہ ہی آہ بھرنےکے قابل ہوں اور نہ ہی واہ کہنے کی حالت میں رہیں ـ
یہی کامیاب ازدوجی زندگی کا راز ہے ـ
جو بیبیاں میاں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہ تو دنیا جہان کی سیدھی سادی خواتین ہیں دنیا کی چالاکیوں سے وہ کہاں واقف ہیں وہی بیبیاں کامیاب و کامران کہلاتی ہیں ـ کہ برصغیر کے تمام میاں گھر میں اللہ میاں کی گائے قسم کی بیگم کے متمنی ہوتے ہیں ـ جس پہ جھوٹے سچے ہر طرح کے بھرم جھاڑے جا سکیں ـ
ہس وہ بیبیاں جو ہر طرح سے سیانی بیانی ہوتی ہیں ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اور دنیا جہان کو مفت کے مشورے دینے میں خود کو عقل.کل سمجھتی ہیں جہاں اور جب صاحب خانہ انکی اس عقل کل نما بد دماغی پہ چراغ پا ہوتے دکھائی دیں بھولی بن جائیں ـ ہو سکے تو گلیسرین کی ڈبی ہمہ وقت جیب میں رکھا کریں انکے تیور دیکھتے ہی چند قطرے آنکھ میں ٹپکا لیے ـ دل کا کیا ہے کسی بھی بات پہ بھر آسکتا ہے ـ
بس ان ہی کی مرحومہ دادی کی یاد میں نیر بہا ڈالیں ـ
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
اب جب "اُن ” کا تذکرہ چھڑ ہی گیا ہے تو جان لیجیے کہ وہ خواتین جو شرم و حیا کا پیکر بن کر صاحب کو ” اُن ” کہہ کے بلاتی ہیں
وہ دنیا کی تمام خواتین سے زیادہ عقل مند ہیں ـ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بیبیاں ” اُن اِن ” کسی شرم و حیا کی وجہ سے بلاتی ہیں تو آپ غلط سمجھے ہیں ـ
یہ سیانی بیگمات میاں کو زیادہ سر چڑھانے کی قائل نہیں ہوتیں ـ اسلیے ان سے بے تکلفی کو کوئی رشتہ روا نہیں رکھتیں ـ اور جب چاہے زندگی کے کسی بھی موڑ پہ انھیں گھر سے بے دخل کر کے آرام سے کہہ سکتی ہیں ـ
” وہ ” تو چلے گئے ـ
سننے والوں کو لگے کہ کسی اجنبی کا ذکر خیرہورہا ہے جو گھر سے چلے گئے ـ غرض یہ اپنے تحفظات کی خاطر طرز تخاطب کا خصوصی خیال رکھتی ہیں ـ
ایک اور قسم ان بیگمات کی ہیں جو ” منے کے ابا ” تمھارے بھائی گڑیا کے چچا وغیرہ کہہ کے مخاطب کر لیتی ہیں ـ وہ میاں صاحب کو ہمیشہ انکے خونی رشتوں کے ذریعے پریشرائز کرنے والی خواتین ہیں ـ کہ دیکھو جی انسان کے بچے بن کے رہو ورنہ منے کو تمھاری ساری بد حرکات کی اطلاع دے دونگی ـ
اگر کہیں قدم ڈگمگائے تو دیکھ لینا گڑیا نے بھی کل کو بیاہ کے کہیں جانا ہے ـ
اور ایک قسم ان بیگمات کی ہے جو سیدھا سیدھا نام لے کے مخاطب کرتی ہیں ـ
عبدالرحمان آپکی والدہ بلا رہی ہیں ـ
عبداللہ کھانا کھا لیں قسم کا تخاطب … یہ بے چاریاں سمجھتی ہیں کہ نام پکارنے پہ جب بیبا بچہ بالکل ایسے ہی ہدایات پہ عمل کرتا ہے جیسے اماں جان نے نام لے کے وہ کام کہے ہوں ـ اس قسم کے شوہر خطرناک ترین اور بیویاں بے وقوف ترین بیویاں کہلائی جاتی ہیں ـ
جو آپا ٹائپ پکا منہ بنا کے میاں سے ” چھوٹے ” کی طرح کا سلوک روا رکھتی ہیں اور میاں بھی چھوٹے بن کے خود کو آزاد فضاؤں میں. محسوس کرتے ہیں ـ
اور ایک صنف وہ ہے جو ہجوم میں گھرے میاں کو دیکھ کے انجان بن جاتی ہیں کہ جانے اس شخص کو کہاں دیکھا ہے ـ چہرہ دیکھا بھالا سا لگتا ہے ـ
بظاہر انجان لیکن حقیقت میں ایک ایک حرکت پہ نظر رکھے ہوئے یہ بیویاں اس لحاظ سے شدید مضر صحت ہوتی ہیں کہ دنیا سمجھتی ہے کہ صاحب کی بیگم کہیں موجود نہیں اور صاحب گھبرائے جھجھکے ہوئے کسی کو کچھ بتانے کے قابل نہیں ہوتے ـ
ایسی ہی بیگمات ہر عورت کو باور کرواتی پھرتی ہیں وہ والے بھائی صاحب آپکو بلا رہے ہیں ـ
ان بھائی صاحب سے یہ کہہ آئیں ـ
اور پھر اسکے بعد بھائی صاحب تمام عالم کے لیے حقیقی بھائی کا کردار نبھاتے نظر آتے ہیں کہ
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے ـ
پیاری عوام ان بیویوں کی ہر ادا نرالی اور زہریلی ہوا کرتی ہے ـ انکے دھوکے میں خود کو کبھی آنے مت دیں ـ
عین نوازش
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

 کہانی بحرین کی
جب ہم ملے
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار
عدم توازن
خط بنام سہیلی
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
عزتِ سادات
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
یمین و یسار