اردوئے معلیٰ

آج پاکستان کے معروف فلمی شاعر مسرور انور کا یومِ پیدائش ہے

مسرور انور(پیدائش: 6 جنوری، 1944ء- وفات: 1 اپریل، 1996ء)
——
’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے‘‘ کے خالق
اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسرور انور پاکستان کی ثقافتی پہچان تھے۔ پاکستان کا کونسا ایسا فرد ہو گا جس نے یہ ملی نغمہ نہ سنا ہو اور اس پر جھوما نہ ہو
——
’’ سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے‘‘
——
مسرور انور پاکستان کے صف اول کے نغمہ نگار تھے۔ ان کے لکھے ہوئے نغمات آج بھی دل کے تاروں کو چھو لیتے ہیں۔ سینکڑوں نغمات لکھنے کے علاوہ انہوں نے انتہائی شاندار ملی نغمات بھی تخلیق کئے جن کی مقبولیت نہ صرف آج بھی قائم ہے بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی ان کی مقبولیت برقرار رہے گی۔ یہ مسرور انور کے قلم کی طاقت تھی کہ ان کے لکھے ہوئے فلمی گیتوں نے ایک عالم کو متاثر کیا۔ پھر ان کی خوش بختی تھی کہ انہیں اعلیٰ درجے کے سنگیت کار ملے جنہوں نے ان کے گیتوں کو اپنی بے مثال دھنوں کی بدولت امر کردیا۔
——
میں اور مسرور انور از یونس ہمدم
——
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اور مسرور انور دونوں گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی اسکول جیکب لائن میں پڑھتے تھے۔ میرا نام سید یونس علی تھا میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا اور مسرور انور کا نام انور علی تھا اور وہ نویں جماعت میں تھا۔ انور علی اسکول کے میگزین کا ایڈیٹر تھا جب میں آٹھویں جماعت میں آیا تو میں نے بھی اسکول میگزین کے لیے پہلی بار ایک نظم لکھی پہلے اپنی کلاس کے چند دوستوں کو سنائی وہ بولے یار! یہ نظم تم اسکول میگزین کے لیے انور علی کو دے دو، میگزین میں یہ نظم چھپے گی تو مزا آئے گا کیونکہ وہ نظم ہی کچھ ایسی تھی۔ وہ نظم جتنی مجھے یاد ہے وہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج کر رہا ہوں:
——
میرے مولا میرے ٹیچر کو تو اندھا کردے
کیونکہ ہر بات مری دیکھ لیا کرتا ہے
اگر اندھا نہیں کرتا تو ٹنٹا کردے
کیونکہ لکڑی سے مجھے پیٹ دیا کرتا ہے
اگر ٹنٹا نہیں کرتا ہے تو لنگڑا کردے
کیونکہ ٹھوکر سے کبھی مار دیا کرتا ہے
تو اگر ایسا نہیں کرتا ہے ویسا کردے
جس سے ٹیچر کی نگاہوں میں میری عزت ہو
دور کردے جو کمی مجھ میں ہے میرے مولا
مجھ کو ٹیچر کی نگاہوں میں تو اچھا کردے
علم کی روشنی سے تو مجھے اعلیٰ کردے
——
اس نظم کو جب میں انور علی کو میگزین میں چھپنے کی غرض سے دے رہا تھا تو دل میں کچھ ڈر بھی محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے انور علی سے کہا، کیا یہ نظم میگزین میں چھپ سکتی ہے۔ انور علی نے وہ نظم پڑھی پھر میری طرف غور سے دیکھا۔ مجھے ایک جھرجھری سی آئی میں نے کہا، چلو کوئی بات نہیں انور بھائی! یہ نظم مجھے واپس کردو، یہ سن کر انور علی نے مسکراتے ہوئے کہا ، تم تو چھپے رستم ہو، نظم بھی کہہ دی ٹیچر پہ چوٹ بھی کردی اور آخری دو اشعار لکھ کر دامن بھی بچا گئے۔ میں یہ نظم میگزین میں ضرور شایع کروں گا ، پھر وہ نظم اسکول میگزین میں چھپی تھی اور کسی ٹیچر نے بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا پھر جب میں نویں کلاس میں آیا تو اسکول میگزین کے شعبہ ادارت میں مجھے بھی شامل کرلیا گیا تھا۔ اس طرح انورعلی کی حوصلہ افزائی سے میرے شعری سفر کا آغاز ہوا تھا۔ جب اسکول میں دسویں کلاس کو نویں کلاس نے الوداعی پارٹی دی تھی تو انور علی کی دوستی کی وجہ سے میں نے بھی شرکت کی تھی۔ وہاں میں نے پہلی بار ایک غزل پڑھی تھی جس کے دو اشعار اب بھی مجھے یاد ہیں۔
——
نفرت ہے مجھ کو اس طرح انگلش حساب سے
زاہد کو جس طرح سے ہے نفرت شراب سے
شاخوں پہ تھوڑی دیر تمہاری ہے زندگی
کانٹوں نے مسکرا کے کہا ہر گلاب سے
——
انور علی میٹرک کے بعد نیشنل کالج چلا گیا تھا اور میں میٹرک کرنے کے بعد اسلامیہ کالج میں آگیا تھا۔ پھر جب ہم دونوں کی کافی عرصے بعد کراچی ریڈیو اسٹیشن پر ملاقات ہوئی تو انور علی، مسرور انور ہوگیا تھا اور میں سید یونس علی سے یونس ہمدم بن چکا تھا۔
میں نوجوانوں کے پروگرام ’’جواں فکر‘‘ اور بزم طلبا کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتا تھا۔ مسرور انور ریڈیو کے لیے مختلف قسم کے پروگرام لکھا کرتا تھا اور شعر و شاعری میں بھی اس کاکافی عمل دخل تھا۔ ان دنوں 14 اگست اور 23 مارچ کے مواقع پر جید اور مشہور شاعروں کے مشاعروں کی محفلوں کے ساتھ ریڈیو سے نئی نسل کے نوجوان شاعروں کے بھی الگ سے پروگرام ہوتے تھے اور ’’جواں فکر‘‘ پروگرام میں کالجوں کے طلبا اور طالبات کے درمیان شعر و شاعری کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے اور خاص طور پر ’’بزم طلبا‘‘ پروگرام کی تو بڑی دھوم تھی جب کہ سینئر پروڈیوسر شجیع صاحب اور یاور مہدی کی کاوشوں کو بڑا دخل تھا۔ اور پھر ’’بزم طلبا‘‘ پروگرام ہی سے شہرت پاکر کئی نوجوان لائم لائٹ میں آئے تھے اور پھر بطور ریڈیو پروڈیوسر انھوں نے بڑا نام پیدا کیا۔ ان دنوں ریڈیو سے فلمی گیتوں کے پروگرام بھی پیش کیے جاتے تھے اور مسرور انور بہت سے فلمی پروگراموں کے اسکرپٹ بھی لکھا کرتا تھا۔
اس کے قلم میں بڑی روانی تھی پھر یوں ہوا کہ ریڈیو کراچی سے الگ سے کمرشل پروگرام پیش کرنے کی سمری بنائی گئی۔ وہ منظور ہوگئی اور چند ماہ بعد کراچی سے کمرشل سروس کا آغاز کردیا گیا۔ شروع شروع میں تو اس کا دفتر بندر روڈ والی بلڈنگ میں تھا مگر پھر کام کے پھیلاؤ کی وجہ سے کمرشل سروس کے لیے الگ دفتر بنادیا گیا تھا اور نیا دفتر انکل سریا ہاسپٹل والی گلی میں ایک چار منزلہ بلڈنگ میں بنایا گیا تھا۔ اب مسرور انور بھی کمرشل سروس کی نئی بلڈنگ کے دفتر ہی میں ملتا تھا۔ کمرشل سروس کا پہلا اناؤنسر قربان جیلانی تھا اور قربان جیلانی کے ساتھ ابتدا میں ثریا شہاب ہوتی تھیں پھر کئی خاتون اناؤنسر آتی اور جاتی رہیں مگر قربان جیلانی اپنی خوبصورت آواز کے ساتھ کمرشل سروس میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ کمرشل پروگرام بہت زیادہ مقبول ہوچکا تھا اور سارے پاکستان سے ہزاروں سننے والوں کے خطوط کمرشل پروگرام کی پسندیدگی پر آتے تھے اور ان خطوط کو بعض اوقات بوریوں میں بھر کر ضایع کردیا جاتا تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : رنجور تھا میں، آپ نے مسرور کیا ہے
——
خطوط لکھنے والوں کی دیوانگی بھی دیدنی ہوتی تھی۔ بے شمار خطوط بڑے ڈیزائن کے ساتھ گوٹا کناری کے ساتھ اور مختلف رنگوں میں لکھے جاتے تھے اور حیرت کی بات ایک یہ بھی تھی کہ انھی خطوط میں بعض خط خون کے قطروں کے ساتھ اور خون سے لکھی تحریروں کے ساتھ بھی ہوتے تھے اور پروگرام پسند کرنے والوں کی محبت کی یہ انتہا ہوتی تھی اور پھول تو تقریباً تمام خطوں ہی کی زینت ہوا کرتے تھے میں اکثر قربان جیلانی اور مسرور انور سے ملنے کمرشل سروس جاتا تھا تو قربان جیلانی مجھے بھی بعض خطوط جو سجے ہوئے اور دلچسپ ہوتے دکھاتا تھا اور میں بھی ان خطوں کی تحریر پڑھ کر بڑا حیران ہوتا تھا کہ کچھ لوگ فلمی گیتوں اور فلمی پروگراموں کے اتنے بھی دیوانے ہوتے ہیں۔
ایک دن مسرور انور نے مجھ سے کہا یار! آج دوپہر کا کھانا ہم سب مل کر کھائیں گے اس دوران قربان جیلانی نے وجہ بتاتے ہوئے کہا ارے بھئی! آج مسرور انور بہت خوش ہے آج اس کی ملاقات ہمارے اداکار بھائی ابراہیم نفیس نے فلمساز اقبال شہزاد سے کرائی ہے اور اس ملاقات میں بحیثیت شاعر موسیقار دیبو بھٹہ جارچاریہ نے بھی مسرور انور کو یقین دلایا ہے کہ وہ کراچی میں بنائی جانے والی فلم ’’بنجارن‘‘ میں مسرور انور سے بھی نغمات لکھوائیں گے۔ میں نے یہ سن کر مسرور انور کو دیکھا اور پھر گرم جوشی کے ساتھ اس سے گلے لگ کر کہا یار مسرور انور! اس خبر سے مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ میرا ایک اسکول فیلو اور میرا سینئر شاعر دوست اب فلمی دنیا میں بھی اپنی شاعری کی دھومیں مچائے گا۔ ریڈیو پر صداکار ابراہیم نفیس سے مسرور انور کی بڑی اچھی دوستی تھی ۔
ابراہیم نفیس ان دنوں ریڈیو صداکار سے فلموں کے اداکار بھی بن چکے تھے اور کراچی کی کئی فلموں میں اپنی اداکاری اور صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے تھے۔ ابراہیم نفیس ہی نے فلمساز اقبال شہزاد سے مسرور انور کو بطور شاعر متعارف کرایا تھا کیونکہ ابراہیم نفیس اقبال شہزاد کی فلم ’’بنجارن‘‘ میں کام کر رہے تھے۔ فلم ’’بنجارن‘‘ کے موسیقار دیبو بھٹہ چاریہ تھے جو ان دنوں ریڈیو پاکستان کراچی کے موسیقی کے پروگراموں سے بھی وابستہ تھے۔ مسرور انور کی دیبو صاحب سے بھی بڑی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ اور موسیقار دیبو نے بھی مسرور انور کے لیے فلمی گیت لکھنے کے لیے راستہ ہموار کیا تھا۔ اس طرح مسرور انور نے فلم ’’بنجارن‘‘ کے لیے جو دو ابتدائی گیت لکھے وہ ایک گلوکارہ آئرین پروین کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا جس کے بول تھے:
——
ماسٹر جی مجھے چھبق پڑھا دو
——
اور دوسرا گیت مسعود رانا نے گایا تھا جس کے بول تھے:
——
تیری جوانی اف رے توبہ
——
فلم ’’بنجارن‘‘ میں نیلو اور کمال مرکزی کردار میں تھے فلم اچھی چلی تھی اور اس طرح مسرور انور بھی بحیثیت نغمہ نگار، اپنی پہلی ہی فلم سے خوب چمک گیا تھا۔
اب کراچی کی فلم انڈسٹری میں مسرور انور کی بھی ایک جگہ بنتی جا رہی تھی، انھی دنوں اداکار بٹ کاشر نے ’’ہمیں جینے دو‘‘ کے نام سے ایک فلم کا آغاز کیا۔ مالی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے وہ بڑے آرٹسٹوں کو فلم میں نہ لے سکے تھے، فلم کی ہیروئن اداکارہ و رقاصہ زمرد تھی اورہیروکے طور پر ایک نیا چہرہ روشناس کرایا تھا۔ وہ کراچی کے گلی کوچوں میں دلیپ کمار کا انداز اپنائے ہوئے ایک مارواڑی نوجوان تھا جس کا نام حنیف تھا اس کی برادری کے لوگ اسے چھوٹا دلیپ کمار کہہ کر پکارتے تھے اور وہ دن رات ہیرو بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ حنیف کی شکل دلیپ کمار سے کافی حد تک ملتی جلتی تھی وہ مالی طور پر بھی کافی مضبوط تھا اور اسی لیے بٹ کاشر نے حنیف کو اپنی فلم کے لیے ہیرو منتخب کیا تھا۔ حنیف کا برسوں کا خواب اب پورا ہونے جا رہا تھا اس لیے اس نے اس فلم میں فلمساز بٹ کاشر کی مالی معاونت بھی کی تھی۔ ’’ہمیں جینے دو‘‘ میں مسرور انور نے بھی کئی گیت لکھے تھے اور مہدی حسن کی آواز میں ایک غزل تو بہت ہی خوبصورت تھی جس کا مطلع تھا:
——
الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے
خوشی کے ساتھ غم بے کسی کسی کو نہ دے
——
ان دنوں ہندوستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ ایک موسیقار سی فیض کراچی آیا ہوا تھا۔ اس نے مذکورہ فلم کی موسیقی دی تھی۔ فلم کی موسیقی کافی اچھی تھی مگر کمزور کاسٹ اور کمزور ہدایت کاری کی وجہ سے فلم ’’ہمیں بھی جینے دو‘‘ کو فلم بینوں نے زیادہ جینے نہیں دیا اور وہ فلم دو تین ہفتوں ہی میں دم توڑ گئی تھی مگر اداکار حنیف اس فلم سے منظر عام پر آگیا تھا۔ خوبصورت نوجوان تھا اور دلیپ کمار سے اس کی بڑی شباہت ملتی تھی، پھر وہ کراچی کی فلموں میں بطور سائیڈ اداکار کاسٹ کیا جانے لگا اور مسرور انور کی شہرت کا سفر آگے بڑھتا رہا۔ اسی دوران مسرور انور نے کراچی کی کئی فلموں میں خوبصورت گیت لکھے جن میں لاڈلا ، چھوٹی بہن وغیرہ شامل تھیں۔
مذکورہ دونوں فلموں کے موسیقار لال محمد اقبال تھے اور ان دنوں ایک خوبصورت نوجوان سہیل رعنا اکارڈین بجاتا تھا جو لال محمد اقبال کی فلموں میں بھی اکارڈین پلے کرتا تھا اور کراچی کی فلموں میں بطور ایک میوزیشن سہیل رعنا بھی بڑا مقبول تھا۔ جب تقسیم کار فلمساز نثار مراد کا بیٹا وحید مراد فلم پروڈکشن کے بزنس میں آیا تو اس نے اپنی پہلی فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کے نام سے کراچی میں شروع کی، خود ہیرو اور اداکارہ زیبا کو فلم میں بطور ہیروئن کاسٹ کیا۔ سہیل رعنا، وحید مراد کے اسکول کے زمانے کا دوست تھا۔ وحید مراد نے سہیل رعنا کو اپنی فلم میں بطور موسیقار لیا اور سہیل رعنا نے فلم کے گیتوں کے لیے مسرور انور کا انتخاب کیا۔ مسرور انور نے ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کے لیے کئی گیت لکھے اور وہ مشہور ہوئے انھی گیتوں میں سے ایک گیت سپرہٹ ہوا تھا یہ ایک ڈوئیٹ تھا جو مشہور عظیم پریم راگی قوال کے صاحبزادے سلیم شہزاد اور ریڈیو کی صداکارہ طلعت صدیقی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بول تھے:
——
مجھے ایک لڑکی سے پیار ہوگیا
اس نے ہنس کے دیکھا بیڑا پار ہوگیا
خالی پیلی کہتا ہے پیار ہوگیا
جسے دیکھو پیارکا بیمار ہوگیا
——
موسیقار سہیل رعنا نے بھی فلم کا بڑا کامیاب میوزک دیا تھا اور مذکورہ گیت ان دنوں گلی کوچوں میں خوب گایا جاتا تھا۔ یہ گیت بالکل اس طرح مشہور ہوا تھا جس طرح انڈین فلم ’’مغل اعظم‘‘ کا گیت پیارکیا تو ڈرنا کیا، مقبول ہوا تھا۔
وحید مراد کی پہلی فلم کامیاب ہوئی تو اس نے ’’ارمان‘‘ کے نام سے کراچی میں اپنی دوسری فلم کا آغازکردیا۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ جب فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ سیٹ کی زینت بنی تھی تو اس کے مصنف و ہدایت کار اقبال رضوی تھے مگر پھر کسی ناراضگی کی وجہ سے وحید مراد نے اقبال رضوی کو ڈائریکشن سے علیحدہ کردیا تھا اور اپنے اسکول فیلو اوردیرینہ دوست پرویز ملک جو بیرون ملک سے فلم ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرکے آئے تھے انھیں فلم کی ہدایت کاری کی ذمے داری سونپ دی تھی اور جب ’’ارمان‘‘ کا آغاز کیا تو پرویز ملک ہی فلم ارمان کے بھی ہدایت کار تھے۔ اس فلم میں بھی موسیقار سہیل رعنا اور مسرور انور کی جوڑی نے بڑا کمال دکھایا تھا۔ فلم کی ہیروئن زیبا تھی اور اس فلم نے باکس آفس پر بڑی دھوم مچائی تھی اور سارے پاکستان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ ’’ارمان‘‘ کے سارے ہی گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ دو تین گیتوں نے تو مقبولیت کی معراج حاصل کی تھی۔ ان گیتوں میں گلوکار احمد رشدی اور مالا کی آوازوں میں گایا ہوا ایک گیت:
——
اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بنا ہم بھلا کیا جئیں گے
——
اور دوسرا گیت:
——
مرے خیالوں پر چھائی ہے اک صورت متوالی سی
نازک سی شرمیلی سی معصوم سی بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں اتا پتا معلوم نہیں
کوکو کو رینا‘ کوکو کورینا
——
یہ گانے پاکستان کے ہر ریڈیو اسٹیشن سے روزانہ تسلسل کے ساتھ نشر ہوتے تھے اور فلم بینوں کے دلوں میں گھر بناچکے تھے اور کراچی کی موسیقی کی محفلوں اور فنکشنوں میں احمد رشدی سے انھی دوگیتوں کی زیادہ فرمائش ہوا کرتی تھی۔ ’’ارمان‘‘ کے گیتوں نے احمد رشدی، سہیل رعنا اور مسرور انورکی شہرت کے ہر سو ڈنکے بجا دیے تھے۔ دو فلموں کے سپرہٹ ہونے کے بعد وحید مراد اور زیبا کی فلمی جوڑی کو بھی بڑی شہرت ملی تھی اور بحیثیت فلمساز وحید مراد کا فلمساز ادارہ فلم آرٹس لائم لائٹ میں آگیا تھا اور اس دور کے مشہور تقسیم کار ادارے جے سی آنند پکچرز کو فلم آرٹس نے بزنس کے اعتبار سے پیچھے دھکیل دیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : دلوں کا میل اگر دور ہو نہیں سکتا
——
1964 اور 1965 وحید مراد کی فلموں کی کامیابی کا دور تھا۔ اب کراچی کی فلموں میں سب سے زیادہ مصروف نغمہ نگار مسرور انور ہوگیا تھا۔ کراچی میں جو بھی فلم بنتی تھی، مسرور انور کے گیتوں کے بغیر نہیں بنتی تھی اسی دوران ایک فلم ’’عشق حبیب‘‘ کا آغاز ہوا جس میں موسیقی ریڈیو کے ایک باصلاحیت کمپوزر ظفر خورشید نے دی تھی۔ مسرور انور نے اس فلم میں پہلی بار ایک قوالی لکھی تھی اور اس قوالی میں فلم کے لیے کراچی کے مشہور قوال برادران غلام فرید صابری اور مقبول فرید صابری کی آوازیں استعمال کی گئی تھیں۔ قوالی کے بول تھے:
——
جو کچھ بھی مانگنا ہے در مصطفیٰ سے مانگ
اللہ کے حبیب شہِ انبیا سے مانگ
میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا
میں بن کے سوالی آیا ہوں
مجھے نظر کرم کی بھیک ملے‘ آقا بھیک ملے
——
یہ قوالی پھر ایسی ہٹ ہوئی کہ اس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ صرف اس قوالی کی وجہ سے فلم ’’عشق حبیب‘‘ کو کامیابی نصیب ہوئی اور اس ایک قوالی کی مقبولیت کے بعد صابری برادران کی شہرت آسمان کو چھونے لگی تھی۔ اس قوالی کی شہرت پاکستان سے ہندوستان اور پھر آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیلتی چلی گئی اور غلام فرید صابری برادران یورپ امریکا تک پہنچ گئے تھے اور اس قوالی کی شہرت نے مسرور انور کے نام کو بھی بلندی عطا کی، اب مسرور انور کی ضرورت کراچی کی فلم انڈسٹری سے زیادہ لاہور کی فلم انڈسٹری کو تھی۔ مسرور انور کو بس ایک بار لاہور جانے کی ضرورت تھی۔ وحید مراد کی فلم ’’احسان، دوراہا، نصیب اپنا اپنا، کے گیت لکھنے کے بعد مسرور انور نے لاہور کے لیے رخت سفر باندھا اور پھر لاہور پہنچا تو پھر لاہورکا ہوکر رہ گیا تھا، لاہور میں فلم ’’شرارت‘‘ کے لیے لکھے گئے مسرور انور کے جن گیتوں کو شہرت ملی وہ فلمساز اقبال شہزاد ہی کی فلم تھی اور موسیقار بھی دیبو بھٹہ چاریا تھے۔ گیت کے بول تھے:
——
اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
وہ سامنے بیٹھے ہیں کافی یہ عنایت ہے
——
اس گیت کو مسعود رانا نے گایا تھا۔ اس گیت کے بعد مسرور انور پھر لاہور میں اتنا مصروف ہوگیا تھا کہ اسے سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔ لاہور کے ہر بڑے فلمساز نے مسرور انورکے لیے اپنے بازو پھیلا دیے تھے اور اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا حالانکہ وہ دور ابھی تک قتیل شفائی، کلیم عثمانی اور خواجہ پرویزکا تھا مگر مسرور انور کے گیتوں کی شہرت نے اسے ایک الگ اور منفرد مقام عطا کیا تھا۔ مسرور انورکے گیتوں میں نغمگی اور عوام پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس زمانے میں جتنے بھی بڑے بڑے پروڈکشن ہاؤس تھے ان کے اپنے اپنے پسندیدہ موسیقار اور شاعر تھے مگر مسرور انور کی شخصیت کچھ ایسی ابھر کر اجاگر ہوئی تھی کہ ہر بڑا فلمساز مسرور انور کے گیتوں کے لیے بے قرار رہتا تھا۔ موسیقار ایم اشرف سے لے کر نثار بزمی تک سارے ہی نامور موسیقاروں کی گڈ بک میں مسرور انور کا نام لکھا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ مشہور فلمساز، ہدایت کار و مصنف اور شاعر شباب کیرانوی نے بھی اپنی کئی فلموں کے لیے مسرور انور کی خدمات حاصل کی تھیں۔
یہ وہ دور تھا جب مسرور انور کے گیتوں کا جادو لاہور کی فلم انڈسٹری میں سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اسی دوران شمیم آرا نے بحیثیت فلمساز و ہدایت کار اپنا ذاتی پروڈکشن ہاؤس قائم کیا اور اس نے بطور مصنف اور نغمہ نگار مسرور انور کو اپنے ادارے میں شامل کرلیا۔ اداکارہ شمیم آرا نے پہلے بطور فلمساز رضیہ بٹ کے ناول ’’صاعقہ‘‘ کو فلم کا روپ دیا تو مسرور انور نے ہی فلم کے مکالمے اور گیت لکھے تھے اور ’’صاعقہ‘‘ کو ایک سدابہار فلم کی حیثیت سے ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ ’’صاعقہ‘‘ کے گیتوں نے بھی بڑی دھوم مچائی تھی اور خاص طور پر یہ سب گیت۔
——
اِک ستم اور مری جاں، ابھی جاں باقی ہے
اے بہارو گواہ رہنا، اے نظارو گواہ رہنا
آ جا تیرے پیار میں ہے دل بے قرار
پیاسی نگاہیں کریں تیرا انتظار
——
یہ گیت احمد رشدی، مالا اور رونا لیلیٰ کی آوازوں میں ریکارڈ کیے گئے تھے اور اس زمانے میں گلی گلی گائے جاتے تھے۔ مسرور انور سے پہلے تعداد کے اعتبار سے جس شاعر نے سب سے زیادہ گیت لکھے وہ فیاض ہاشمی مشہور تھے، مگر مسرور انور نے فلمی دنیا میں آکر ان کا ریکارڈ بھی توڑ دیا تھا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فلمی دنیا میں دو نغمہ نگار ایسے تھے جو فلم کی سچویشن کے اعتبار سے کم سے کم وقت میں گیت لکھنے کے ماہر تھے۔ ان میں ایک تسلیم فاضلی اور دوسرا مسرور انور تھا، بلکہ مسرور انور تو سچویشن سن کر چٹکیاں بجاتے ہوئے گیت کا مکھڑا گنگنا کر موسیقار کو سنا دیتا تھا اور موسیقار مسرور انور کے ترنم سے بھی بعض اوقات فائدہ اٹھالیا کرتے تھے، کیونکہ مسرور گاتا بھی خوب تھا اور اسکول کے زمانے ہی سے اس کے ترنم اور گائیکی کے قصے مشہور تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : نیا منظر دکھایا جا رہا ہے
——
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کراچی کی فلموں سے لے کر لاہور کی فلم انڈسٹری تک مسرور انور نے جتنے بھی فلموں کے لیے گیت لکھے انھیں عوام میں بڑی پذیرائی حاصل رہی ہے۔ حالانکہ چند ایک فلمیں فلاپ بھی ہوئی ہیں مگر ان میں بھی مسرور انور کے لکھے ہوئے گیتوں کو مقبولیت حاصل رہی اور یہ خوبی مشکل ہی سے کسی نغمہ نگار کو فلمی دنیا میں حاصل ہوئی ہے۔ مسرور انور کے مقبول ترین گیتوں کی ایک طویل فہرست ہے، جن کا باقاعدہ تذکرہ اس کالم میں کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے، پھر بھی کچھ سپرہٹ گیتوںکا تذکرہ نہ کرنا بھی ناانصافی ہوگی اور وہ گیت ہیں۔
——
اکیلے نہ جانا، ہمیں چھوڑ کر تم (فلم: ارمان)
میرے خیالوں پر چھائی ہے اِک صورت متوالی سی (فلم: ارمان)
بھولی ہوئی ہوں داستاں، گزرا ہوا خیال ہوں (فلم: دوراہا)
مجھے تم نظر سے گِرا تو رہے ہو (فلم: دوراہا)
کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے (فلم: عندلیب)
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی (فلم: آگ)
لیے آنکھوں میں غرور ایسے بیٹھے ہیں حضور (فلم: آگ)
ہم چلے تو سنگ سنگ ہمارے نظارے چلے (فلم: جاگیر)
خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو (فلم: بندگی)
اظہار بھی مشکل ہے چپ رہ بھی نہیں سکتے (فلم: انجمن)
دل دھڑکے، میں تم سے، یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ (فلم: انجمن)
آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آگئے (فلم: انجمن)
ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمھیں یہ نظر ہماری (فلم: بے وفا)
نیناں ترس کر رہ گئے پیا آئے نہ ساری رات (فلم: آسرا)
جیون بھر ساتھ نبھائیں گے دونوں (فلم: آرزو)
تو پھول ہے میرے گلشن کا (فلم: پھول میرے گلشن کا)
اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے (فلم: بوبی)
اللہ ہی اللہ کیا کرو، دکھ نہ کسی کو دیا کرو (فلم: پہچان)
——
مسرور انور وہ خوش قسمت نغمہ نگار تھا جس کے گیتوں کو نورجہاں، مہدی حسن سے لے کر پاکستان کے تمام نامور گلوکاروں، گلوکاراؤں نے گایا اور ہر بڑے سے بڑے موسیقار سے لے کر نئے موسیقاروں نے بھی اس کے گیتوں سے فائدہ اٹھایا اور اپنی کامیابی کے سفر کو آگے بڑھایا ہے۔ فلم ’’ارمان‘‘ سے لے کر فلم ’’پہچان‘‘ تک مسرور انور کو بحیثیت بہترین نغمہ نگار قومی ایوارڈ کے علاوہ ملک کے تمام مشہور ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔
جب میں لاہور کی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوا تو مسرور انور نے ہی قدم قدم پر میری رہنمائی کی تھی اور مجھے یہ ٹپ بھی دی تھی کہ یونس تم ابھی نئے نئے فلم انڈسٹری میں داخل ہوئے ہو، یہاں گروپ بندی چلتی ہے، تم کسی مرحلے پر حوصلہ نہ ہارنا، اور فلمساز و ہدایت کار کے ساتھ موسیقاروں کی گڈ بک میں آنے کی بھی کوشش کرو اور اپنے تعلقات بڑھاؤ۔ انھی دنوں مسرور انور فلمساز، ہدایتکارہ و اداکارہ شمیم آرا کی پروڈکشن سے بھی بحیثیت اسکرپٹ رائٹر اور نغمہ نگار منسلک ہوگیا اور خوش قسمتی سے میں بھی سنگیتا کے فلمساز ادارے پی این آر پروڈکشن سے وابستہ ہوگیا تھا۔ میں نے سنگیتا کی فلم ’’میں چپ رہوںگی‘‘ کا اسکرپٹ بھی لکھا اور گانوں کے ساتھ ساتھ فلم ’’لال آندھی‘‘ کے مکالمے بھی لکھے، جس کی ہدایت کارہ سنگیتا اور فلمساز سرور سکھیرا تھے۔ اسی دوران نگار پبلک فلم ایوارڈ کے لیے سنگیتا کی فلم ’’تیرے میں سپنے‘‘ میں لکھا ہوا میرا گیت جو ناہید اختر نے گایا تھا، موسیقار کمال احمد تھے اور بول تھے: ’’میں ہوگئی دلدار کی، ہونے لگی چبھن پیار کی، دل میں کانٹا سا چبھ گیا، چبھ گیا‘‘ کو اس سال نگار ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔
میرے گیت کے ساتھ جو دوسرا گیت نامزد ہوا وہ مسرور انور کا لکھا ہوا تھا جو فلم ’’پہچان‘‘ سے تھا، جس کے موسیقار نثار بزمی تھے اور گیت کے بول تھے ’’اللہ ہی اللہ کیا کرو، دکھ نہ کسی کو دیا کرو‘‘ یہ مذکورہ دونوں ہی گیت ناہید اختر کے گائے ہوئے تھے اور دونوں ہی اس سال کے سپرہٹ گیت تھے۔ جب میں نے بہترین گیت کے لیے نگار ایوارڈ کوپن پُر کیا تو میں نے بھی مسرور انور کے لکھے ہوئے گیت کا ہی انتخاب کیا۔ کیوں کہ مسرور انور کے گیت کے سامنے مجھے اپنا لکھا ہوا گیت ہلکا لگا تھا۔ پھر اس سال بہترین گیت نگار کا نگار فلم ایوارڈ بھی مسرور انور کو دیا گیا۔ میں نے مسرور انور کو اس بات کی مبارکباد دی تو مسرور انور نے کہا یار اس سال تمہارا گیت بھی ایوارڈ کے قابل تھا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا ’’مائی ڈیئر تمہارا ایوارڈ بھی تو میرا ہی ایوارڈ ہے‘‘۔ مسرور انور ایک ایسا نغمہ نگار تھا جس کے گیتوں کو سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور جس کے سپر ہٹ گیتوں کی تعداد دیگر شاعروں سے زیادہ رہی ہے۔
اب میں آتا ہوں مسرور انور کی ریڈیو کے لیے لکھی ہوئی اس تہلکہ خیز غزل کی طرف جو مسرور انور نے ریڈیو ہی کے لیے اس زمانے میں لکھی تھی، جب وہ ریڈیو کی کمرشل سروس میں اسٹاف رائٹر تھا اور دیبو بھٹاچاریہ بھی ریڈیو کے لیے دھنیں کمپوز کیا کرتے تھے۔ یہ غزل ملتان ریڈیو کی ایک گلوکارہ جب وہ کراچی ریڈیو آئی تھی تو اس نے ریڈیو کی ریکارڈنگ کے حساب سے گائی تھی۔ وہ گلوکارہ تھیں ثریا ملتانیکر، جسے اس وقت صرف ملتان ہی کی حد تک لوگ جانتے تھے۔ مگر جب اس نے مسرور انور کی لکھی ہوئی وہ غزل گائی تو اس غزل کی بازگشت ریڈیو سیلون تک گئی اور وہ غزل نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی پسندیدگی کی سند بنی، پھر اس غزل کو فلمساز اقبال شہزاد نے اپنی شہرۂ آفاق فلم ’’بدنام‘‘ کے لیے نئے سرے سے ریکارڈ کرایا تھا اور فلم میں وہ غزل اداکارہ نبیلہ پر فلمائی گئی تھی۔ اس غزل نے بھی مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑدیے تھے۔ وہ غزل قارئین کی نذر ہے۔
——
محبت کی جھوٹی اداؤں پہ صاحب، جوانی لٹانے کی کوشش نہ کرنا
بڑے بے مروت ہیں، یہ حسن والے، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا
ہنسی آتی ہے اپنی بربادیوں پر، نہ یوں پیار سے دیکھیے بندہ پرور
مرے دل کے زخموں کو نیند آگئی ہے، انھیں تم جگانے کی کوشش نہ کرنا
ستم گر سے جوروستم کی شکایت، نہ ہم کرسکے ہیں نہ ہم کرسکیں گے
مرے آنسوؤں تم، مرا ساتھ دینا، انھیں کچھ بتانے کی کوشش نہ کرنا
شمع بن کے محفل میں ہم جل رہے ہیں، مگر دل کی حالت ہے پروانوں جیسی
خدا کی قسم، جان دے دیں گے تم پر، ہمیں آزمانے کی کوشش نہ کرنا
——
جس طرح مسرور انور کو فلمی گیت لکھنے میں کمال حاصل تھا اسی طرح مسرور انور نے بعض قومی نغمے بھی اتنے بے مثال اور لاجواب لکھے ہیں جو ہمارے ملک اور قوم کے لیے قیمتی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہندوستان نے 1965 میں پاکستان پر ایک خوفناک جنگ مسلط کی تھی اور ہماری قوم اس وقت یکجہتی کی مثال بن گئی تھی۔ قوم کا ہر فرد اس جنگ میں شریک تھا اور ملک کے فنکاروں ، گلوکاروں اور شاعروں نے بھی اپنی فوج اور اپنے صف شکنوں کو بڑا حوصلہ دیا تھا۔وہ ایک ایسا وقت تھا کہ ساری قوم دشمن کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی ۔ اس وقت ہر گلوکار، ہر گلوکارہ اور ہر شاعر اپنے فن اور اپنی اپنی تخلیقات کے ساتھ میدان جنگ میں آگیا تھا اور قوم کا ہر فرد اپنی بساط کے ساتھ اس جنگ میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا جب ریڈیو سے پہلی بار مہدی حسن کی گائیکی میں مسرور انورکا لکھا ہوا جوش و جذبے میں ڈوبا ہوا نغمہ نشر ہوا تھا تو اس نغمے نے ساری قوم کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر وطن کا دفاع کرنے والے فوجیوں کے دلوں میں بھی ایک نئی روح پھونک دی تھی اور وہ لازوال نغمہ تھا۔
——
اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں
——
اب میں مسرور انور کے لکھے ہوئے ایک ایسے قومی نغمے کا تذکرہ کر رہا ہوں جس نے عوامی پسندیدگی میں پاکستان کے قومی ترانے کے بعد دوسرے قومی نغمے کی حیثیت اختیار کرلی تھی اور ایک وقت تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ایسا آیا تھا کہ پاکستان کا اصلی قومی ترانہ پس منظر میں چلایا تھا اور ہر طرف صرف مسرور انور کے لکھے ہوئے قومی نغمے کی گونج سنائی دیتی تھی اور وہ نغمہ تھا۔
——
سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے
تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
——
اور اس گیت کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی تھی کہ پاکستان کے اسکولوں میں بھی بچے جھوم جھوم کر یہ گاتے تھے۔ یہ گیت سب سے پہلے کراچی ٹیلی وژن کے لیے پروڈیوسر ایم ظہیر خان نے ان دنوں ڈھاکہ سے کراچی آئی ہوئی گلوکارہ شہناز بیگم سے گوایا تھا اور اس نغمے میں موسیقی سہیل رعنا نے مرتب کی تھی پھر جیسے ہی یہ نغمہ ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ ہوا تو اس نغمے کی دھوم مچتی چلی گئی۔ بنگالی گلوکارہ نے سروں میں ڈوب کر یہ نغمہ گایا تھا اور پھر اس نغمے نے سارے پاکستان کے لوگوں کا دل موہ لیا تھا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں ان کی ہر تقریر سے پہلے یہی نغمہ بجایا جاتا تھا اور اکثر اوقات کورس کی شکل میں اسٹیج پر گایا بھی جاتا تھا اور رفتہ رفتہ اس نغمے کو قومی ترانے جیسی اہمیت حاصل ہوتی چلی گئی تھی۔
——
یہ بھی پڑھیں : وابستہ جو ہُوئے ترے دامانِ نُور سے
——
بارہا مواقعوں پر بھٹو صاحب نے خود بھی یہ نغمہ عوام کے ساتھ آواز ملاکر جھوم کرگایا تھا اوراس نغمے کی خوبصورتی، دلکشی اور اہمیت آج بھی اسی طرح برقرار ہے اور سدا برقرار رہے گی اور یہ اعزاز مسرور انور ہی کو جاتا ہے کہ اس کے ایک قومی نغمے نے لاکھوں دلوں میں گھر کیا ہوا ہے۔ یہ نغمہ لکھ کر مسرور انور نے سنہرے حروف سے اپنا نام بھی پاکستان کی قومی تاریخ میں لکھوا لیا ہے۔ ایک اور نغمہ بھی مسرور انور کے کریڈٹ پر ہے جسے گلوکارہ نیرہ نور نے گایا تھا اور جس کے بول ہیں ’’وطن کی مٹی گواہ رہنا‘ گواہ رہنا‘‘ وطن سے محبت کے اظہار میں یہاں بھی مسرور انور بازی لے گیا تھا اس گیت کو بھی بڑی شہرت ملی تھی۔
اس قومی نغمے کے علاوہ مسرور انور کا لکھا ہوا ایک اور گیت اپنے وقت کی نامور اداکارہ اور بعد کی گلوکارہ صبیحہ خانم نے بھی گایا تھا جس کے بول ہیں ’’جگ جگ جیوے میرا پیارا وطن‘‘ اور مسرور انور کے لکھے ہوئے یہ تمام قومی گیت آج بھی اور کل بھی قومی اثاثے کی طرح ہماری قومی تاریخ کا حصہ بنے رہیں گے۔ مسرور انور نے فلموں میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنایا اور پھر ادبی حلقوں میں بھی اس کی شاعری نے بڑے بڑے شاعروں کو اس کی شاعری کا گرویدہ کردیا تھا اور اپنے وقت کے جید شاعر بھی مسرور انور کے ادبی قد کو سراہتے ہوئے بڑی خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔
میں جب لاہور میں مصروف ہوگیا تھا تو کبھی کبھی مسرور انور مذاق میں تفریح لیتے ہوئے کہتا تھا’’ یار یونس ہمدم! کبھی ہماری طرف بھی آجایا کرو وقت نکال کر ، ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔‘‘ تو میں ہاتھ جوڑ کر کہتا تھا ۔’’میرے یار! کیوں شرمندہ کرتے ہو، مجھ سے زیادہ تو تم مصروف رہتے ہو، یہ شکایت تو مجھے تم سے کرنی چاہیے۔‘‘ پھر ہم کافی دیر تک صرف اپنی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک دن مسرور انور اور میں کافی وقت نکال کر دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے تو مسرور انور نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہا تھا’’ یار ہمدم ! میری خواہش ہے کہ میں اپنے تمام گیتوں کو یکجا کروں اور پھر انھیں ایک کتاب کی شکل دے کر منظر عام پر لے کر آؤں۔ یہ گیت ہی میری زندگی اور میری زندگی کی خوشیاں ہیں، مگر میری مصروفیات بعض اوقات اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہیں کہ مجھے اس طرف کچھ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔‘‘ میں نے مسرور انور سے کہا ’’ یار! یہ کام ویسے اتنا آسان بھی نہیں ہے۔
اس کے لیے سب سے زیادہ وقت ہی کی ضرورت ہے اور وہ وقت ہی تمہیں نہیں مل پاتا جو تمہیں ضرورت کے دوسرے کاموں میں الجھائے رکھتا ہے اور اس کام کے لیے کچھ سنجیدگی کی بھی ضرورت ہے، اگر تم چاہو تو ہم وقت نکال کر دونوں دو چار دن بیٹھتے ہیں اور پھر کراچی کی فلموں سے لے کر لاہور کی تمام فلموں کے گیتوں کی ایک فہرست بناتے ہیں اور پھر مزید مرحلوں سے کیسے کام کو آگے پہنچانا ہے میں اس کے بارے میں بھی اپنا وقت تمہیں دیتا رہوں گا مگر اصلی کام کا آغاز تم نے ہی کرنا ہے۔‘‘ مسرور انور نے کہا ’’چلو ٹھیک ہے اس بارے میں ضرور کوئی پروگرام مرتب کرکے تمہیں بتاؤں گا‘‘ اور پھر ہماری بیٹھک کسی آیندہ ملاقات پر چلی گئی۔
مسرور انور پھر مصروف ہوگیا ، پھر دو تین مہینے ہم دونوں کی ملاقات نہ ہوسکی میں بھی اپنی کئی فلموں کی آؤٹ شوٹنگز میں مصروف ہوگیا اور مسرور انور بھی اپنی فلموں کی عکس بندی کی غرض سے مری اور نتھیا گلی چلا گیا، پھر جب واپس آیا تو پتا چلا کہ اس کی طبیعت خراب ہے، میں اس کی خیر وعافیت پوچھنے گیا۔ تو اس نے کہا کہ ’’ یار! میری آج کل طبیعت کچھ زیادہ خراب رہنے لگی ہے۔ میں جو کچھ بھی غذا کھاتا ہوں وہ ہضم بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ میرا جگر کافی متاثر ہوگیا ہے اور جگر کی خرابی کی وجہ ہی سے میری صحت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور گیت نگار ، صہباؔ اختر کا یوم وفات
——
مسرور انور تمباکو کے پان بڑی کثرت سے کھاتا تھا اور دن رات اس کے پان چلتے رہتے تھے بعض اوقات تو وہ کھانا کھانا چھوڑ دیتا تھا مگر تمباکو والے پان نہیں چھوڑتا تھا۔ جب لاہور کی فلم انڈسٹری کو زوال آیا تو میں لاہور چھوڑ کر واپس کراچی آگیا تھا پھر میں دوبارہ لاہور نہیں گیا کئی سال کے بعد مجھے اخبارات کے ذریعے پتا چلا کہ مسرور انور کو ایک دن اچانک دل کا دورہ پڑا اور پھر وہ دل کا دورہ جان لیوا ہی ثابت ہوا۔ وہ یکم اپریل 1996 میں پچپن چھپن سال کی عمر ہی میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا اور اس طرح خوبصورت گیتوں کا خالق اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ مسرور انور جتنا اچھا شاعر تھا اس سے زیادہ اچھا وہ ملنسار، دوست نواز اور بہترین انسان تھا۔ فلمی شاعری کا ایک سنہرا دور اس کے جانے سے ختم ہوگیا تھا۔ وہ میرے بچپن، لڑکپن، جوانی کا ساتھی اور ایک ہی پروفیشن کا بہترین دوست تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے۔ اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور اس کے درجات بلند کرے۔ (آمین)
——
منتخب کلام
——
ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی
نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی
کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی
——
اپنی جاں نذر کروں ،اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

تُو نے دشمن کو جلا ڈالا ہے شعلہ بن کے
ابھرا ہرگام پہ تُو فتح کا نعرہ بن کے
اس شجاعت کا تجھے کیا میں پیش کروں
اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

عمر بھر تجھ پہ خدا اپنی عنایت رکھے
تیری جرأت تری عظمت کو سلامت رکھے
جذبۂ شوق شہادت کی دعا پیش کروں
اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تُو نے
میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تُو نے
کیوں نا تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں
اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں
——
اکیلے نہ جانا ھمیں چھوڑ کر تم
تمھارے بنا ھم بھلا کیا جئیں گے

دیا حوصلہ جس نے جینے کا ھم کو
وہ اک خوبصورت سا احساس ھو تم
جو مٹتا نہیں دل سے تم وہ یقیں ھو
ھمیشہ جو رھتی ھے وہ آس ھو تم
یہ سوچا ھے ھم کہ اب زندگی بھر
تمھاری محبت کو سجدہ کریں گے
اکیلے نہ جانا

فسانہ جو الفت کا چھیڑا ھے تم نے
ادھورا نہ رہ جائے یہ سوچ لینا
بچھڑ کے زمانے سے پایا ھے تم کو
کہیں ساتھ تم بھی نہ اب چھوڑ دینا
یہی ھے تمنا، یہی التجا ھے
اور اس کے سوا ھم بھلا کیا کہیں گے
اکیلے نہ جانا۔

تمھیں دیکھنے کو ترستی ھیں آنکھیں
کہاں چھپ گئے ھو تم، ذرا یہ بتاؤ
برستا رھے گا ان آنکھوں سے ساون
قسم تم کو ھم سے نہ دامن چھڑاؤ
محبت ھے ھم سے تمھیں گر ذرا سی
تو بس لوٹ آؤ، ھم اتنا کہیں گے
اکیلے نہ جانا

بہت دکھ دئیے ھیں ھمیں زندگی نے
ھمیں اور غم اب نہ تم دیتے جاؤ
نگاھوں کی سہمی ھوئی التجائیں
صدا دے رھی ھیں کہ اب لوٹ آؤ
کرو یاد تم نے یہ وعدہ کیا تھا
ھم اک دوسرے کا سہارا بنیں گے
اکیلے نہ جانا

ھر اک موڑ پر ھیں رواجوں کے پہرے
تمھی کو نہیں اس کا سب کو گلہ ھے
مگر لوگ جیتے ھیں، ان مشکلوں میں
ھے جن نہیں کوئی ان کا خدا ھے
یہ دکھ یہ اداسی، یہ آنسو یہ آھیں
چلے آؤ مل کے یہ غم بانٹ لیں گے
اکیلے نہ جانا
——
بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
جس کو تم نہ سمجھ سکے میں ایسا اک سوال ہوں
تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
جیسے کبھی ملے نہ تھے ایک راہ پر چلے نہ تھے
تھم جاؤ میرے آنسوؤں ان سے نہ کچھ گلہ کرو
وہ حسن کی مثال ہیں میں عشق کا زوال ہوں
جس کو وہ نہ سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
کرنا ہی تھا اگر ستم دینا تھا عمر بھر کا غم
عہد وفا کیا تھا کیوں چاہت سے دل دیا تھا کیوں
تم نے نگاہ پھیر لی اب میں ہوں میری بےبسی
بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
——
مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے
——
کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
چپ رہ کے بھی نظر میں ھیں پیار کے اشارے
یہ شان بے نیازی یہ بے رخی کا عالم
بے باک ھو گیا ھے ان کا مزاج بر ھم
اک پل میں نےھم نے دیکھے کیا کیا حسین نظارے
کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
فربان جائیں اے دل ھم ان کی اس ادا کے
خود بھی سلگ رھے میں ھم کو جلا جلا کے
ھیں کتنے خوبصورت اس آگ کے شرارے
کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
——
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
اک روشنی اندھیروں میں بکھرا گیا کوئی

وہ حادثہ وہ پہلی ملاقات کیا کہوں
اتنی عجب تھی صورت حال کیا کہوں
وہ قہر وہ غضب وہ جفا مجھ کو یاد ہے
وہ اسکی بیرخی کی ادا مجھ کو یاد ہے
مٹا نہیں ہے ذہن پہ یوں چھا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

پہلے مجھے وہ دیکھ کے برہم سی ہو گئی
پھر اپنے ہی حسین خیالوں میں کھو گئی
بیچارگی پہ میری اسے رحم آ گیا
شاید میرے تڑپنے کا انداز بھا گیا
سانسوں سے بھی قریب میرے آ گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

یوں اسنے پیار سے میری بانہوں کو چھو لیا
منزل نے جیسے شاخ کے راہوں کو چھو لیا
اک پل میں دل پہ کیسے قیامت گزر گئی
رگ رگ میں اسکے حسن کی خوشبو بکھر گئی
زلفوں کو میرے شانے پہ لہرا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

اب اس دل تباہ کی حالت نا پوچھیے
بے نام آرزو کی لذت نا پوچھیے
اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
اک حادثہ تھا پیار کا عنوان بن گیا
منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
——
لیے آنکھوں میں غرور
ایسے بیٹھے ہیں حضور
جیسے جانتے نہیں۔۔ پہچانتے نہیں

نگاہوں میں بسا کر
ہمیں اپنا بنا کر
اچانک بے رخی کیوں
یکایک بے دلی کیوں
نہ وہ حسن تکلم
نہ وہ شیریں تبسم
منائیں کس طرح وہ
بات کوئی مانتے نہیں
کرکے دل کا شیشہ چور
ایسے بیٹھے ہیں حضور
جیسے جانتے نہیں۔۔ پہچانتے نہیں

یہ شان دلربائی
دہائی ہے دہائی
ادا میں بانکپن ہے
ادا توبہ شکن ہے
سراپا حسن بن کر
وہ ناداں ہے خود پر
کسی کو بھی اپنے سامنے
وہ گردانتے نہیں
گویا بن کے دشت حور
ایسے بیٹھے ہیں حضور
جیسے جانتے نہیں۔۔ پہچانتے نہیں
——
خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سیکھا دو

سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کہ نہ تم اُٹھا دو
خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

قدموں کو چُھو رہی ہیں یہ جھومتی گھٹائیں
کرتی ہیں التجائیں یہ شام کی ہوائیں
چہرے سے گیسوؤں کا آنچل ذراہٹادو
خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

تم حوصلہ نہ ہارو کٹ جائیں گے اندھیرے
بکھیریں پھراُجالے نکھریں گے پھرسویرے
اُمید کی کرن سے اب دل کو جگمادو
خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
——
دل دھڑکے میں تم سے کیسے کہوں
کہتی ہے میری نظر شکریہ

تم میری امنگوں کی شب کے لیے
آئے ہو بن کے سحر شکریہ

ابھی تک میری روح بے چین ہے
ابھی تک میرا دل ہے بے تاب سا
یہ مانا ہو تم سامنے جلوہ گر
مگر لگتا ہے مجھ کو اک خواب سا
ہوئے ہوئے ہوئے
پل بھر میں جہاں کے غموں سے مجھے
کیا تم نے بے خبر شکریہ
ہو کہتی ہے میری نظر شکریہ

تمہی ہو میری منزلوں کا پتا
تمہی ہمسفر ہو میرے پیار کے
میرے دل میں ہے ایک ہی آرزو
تمہیں جیت لوں زندگی ہار کے
ہوئے ہوئے ہوئے۔۔
ہر دھڑکن پکارے یہی پیار سے
میرے حسیں ہمسفر شکریہ
ہو کہتی ہے میری نظر شکریہ

تم میری امنگوں کی شب کے لیے
آئے ہو بن کے سحر شکریہ
——
ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
کہ تم آ گئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری
ابھی کچھ ہی دیر پہلے بڑا زکر تھا تمہارا
کئی بار ڈھرکنوں نےتمہیں پیار سے پکارا
مٹا انتظار دل کا ہوئ ختم بےقراری
ہمیں پیار کی خوشی سے کیا آشنا تم ہی نے
تمہیں پیار ہم وہ دیں گے جو دیا نہ ہو کسی نے
کہ تمہاری زندگی ہے ہمیں جان سے بھی پیاری
وہ نظر کے سامنے ہے جسے ہم نے دیں صداٗئیں
جو قرار بن کے آیا اُسے کیوں نہ دیں دُعائیں
کیئے آرزو نے سجدے دل نے نظر اُتاری
——
اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے
ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے
کیسے یہ کہیں تم سے ہمیں پیار ہے کتنا
آنکھوں کی طلب بڑھتی ہے دیکھیں تمہیں جتنا
اس دنیا میں کم ایسے پرستار ملیں گے
ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے
دل کی جگہ سینے میں محبت ہے تمھاری
اب میری ہر اک سانس امانت ہے تمھاری
ہم بن کے تمہیں پیار کی مہکار ملیں گے
ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے
ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے
——
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات