کچھ بات مرے منہ سے نکلنے نہیں دیتے

کچھ بات مرے منہ سے نکلنے نہیں دیتے

اللہ رے غمزے کہ سنبھلے نہیں دیتے

 

کافر نہیں کرتے ہیں مسلماں نہیں رکھتے

دم بھر مجھے اک راہ چلنے نہیں دیتے

 

لبریز ہے دل جوش انا اللہ سے لیکن

اس کوزے سے دریا کو ابلنے نہیں دیتے

 

کر جاتے ہیں ہر درد میں آکر مری تسکیں

لخت دل صد پارہ اگلنے نہیں دیتے

 

عاشق ہوں مجھے عشق سے ترکیب دیا ہے

مٹی میں ملا کر مجھے گلنے نہیں دیتے

 

داغوں سے بنایا ہے مجھے سرو چراغاں

کیا غم ہے اگر پھولنے پھلنے نہیں دیتے

 

پامال کیا مجھ کو عزیز ان کی روش نے

آنکھیں کبھی ان تلووں سے ملنے نہیں دیتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ