اردوئے معلیٰ

گناہ قلب کو جب تار تار کرتے ہیں

گناہ قلب کو جب تار تار کرتے ہیں

درود دل کو رفو بار بار کرتے ہیں

 

بجز حضور شفاعت کا اذن کس کو ہے ؟

خدا کے حکم سے بس تاج دار کرتے ہیں

 

اے کاش خاکِ مدینہ میں دفن ہو جائیں

حضور دل سے دعا خاکسار کرتے ہیں

 

سجائے رکھتے ہیں عشاق خواب گھر اپنے

برائے دید وہ شب انتظار کرتے ہیں

 

بروزِ پیر ہوئی تھی کریم کی آمد

نذر درود کی ہر سوموار کرتے ہیں

 

قرار دیجیے تعبیرِ حاضری دے کر

حضور خواب مجھے بے قرار کرتے ہیں

 

پرندے صبح میں ذکرِ خدا کے بعد عطا

درود پڑھ کے چمن مشک بار کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ