اردوئے معلیٰ

Search

ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

ہے گنبد خضراء کی جھلک اور طرح کی

 

ہر آن خیالوں میں ہے اس شہر کی ٹھنڈک

چلتی ہے جہاں بادِ خنک ، اور طرح کی

 

جھونکا کوئی گزرا ہے مدینے کی ہوا کا

اطراف میں ہے آج مہک، اور طرح کی

 

جب لوٹ کے آتے ہیں مدینے کے مسافر

ہوتی ہے جبینوں پہ چمک، اور طرح کی

 

اشکوں کی جو برسات ہوئی یادِ نبی میں

پھیلی افقِ جاں پہ دھنک، اور طرح کی

 

یہ سرورِ عالم کی غلامی کی عطا ہے

رہتی ہے جو لہجے میں کھنک، اور طرح کی

 

پلکوں پہ جو روشن ہے مدینے کے سفر میں

یہ شمع ہے اے بامِ فلک اور طرح کی

 

کرتا ہوں میں جب مدحِ محمد کا ارادہ

ملتی ہے مدینے سے کمک اور طرح کی

 

سرور نے سنا ہے یہی شاہانِ سخن سے

ہے نعت کے لکھنے میں جھجک اور طرح کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ