اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف فارسی شاعر اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر خواجہ عبد الحمید عرفانی کا یوم وفات ہے

ڈاکٹر خواجہ عبد الحمید عرفانی(پیدائش:1907ء – وفات: 11 مارچ 1990ء)
——
خواجہ عبدالحمید عرفانی 1907ء میں پیدا ہوئے۔
1945ء میں ایران گئے اور 15 سال تک وہیں رہے, آپ کی رباعیات کا مجموعہ ایران سے شائع ہوا۔
ایران میں علامہ اقبال کو عمومی شہرت اس وقت حاصل ہونا شروع ہوئی جب عرفانی صاحب ایران میں پاکستانی سفارت خانہ کے پریس اتاشی مقرر ہو کر گئے ۔ وہ چونکہ فارسی بول چال سے بخوبی آگاہ اور خود فارسی کے شاعر تھے انہوں نے اس سلسلے میں بڑے جوش اور ولولے کا مظاہرہ کیا،
سعید نفسی نے عرفانی صاحب کی کتاب ” ترجمہ فارسی ضربِ کلیم و شرحِ احوالِ اقبال” کے دیباچہ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران میں اقبال کی شہرت تمام تر خواجہ صاحب کی ہی مرہونِ منت ہے ۔
ڈاکٹر خواجہ عبد المجید عرفانی کا انتقال 11 مارچ 1990ء کو اُن کے آبائی شہر سیالکوٹ میں ہوا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : محمد الدین فوق کا یوم پیدائش
——
عبد الحمید عرفانی از ڈاکٹر محمد سرور
——
1947 ء میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان وجود میں آئی اور ایران سے صدیوں کے ٹوٹے ہوئے سیاسی تعلقات از سرِ نو قائم ہوئے اور 1949 ء میں ڈاکٹر خواجہ عبد الحمید عرفانی پریس اور کلچرل اتاشی کی حیثیت سے ایران گئے ۔
اگرچہ اس سے قبل بھی انگریزوں کے دور حکومت کے زمانہ میں حکومتِ ہند کی جانب سے کلچرل نمائندہ کے طور پر ایران میں رہ چکے تھے لیکن ان کی موجودہ حیثیت نہ صرف جداگانہ تھی بلکہ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ممتاز بھی تھی ۔
انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد ایران میں جس تن دہی اور خوبی سے کام کیا وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔
ڈاکٹر عرفانی کی ایرانیوں میں بینظیر ہر دلعزیزی کا بیان میرے بس کی بات نہیں لیکن 1953ء میں جب میں پاکستانی وفد کے ہمراہ ایران گیا تو میں نے ایران کے ادبی حلقوں میں ان کی بڑی قدر و منزلت دیکھی ۔ بالخصوص اونچے طبقہ کے لوگ بھی ان کی وضعداری ، راست گفتاری ، سخن سنجی اور معاملہ فہمی اور ایران دوستی کے معترف تھے ۔
اس ضمن میں یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ مرحوم ملک الشعرا بہار عرفانی کو نہایت محبت اور احترام سے دیکھتے تھے اور ان کی مندرجہ ذیل دو بیتی جو انہوں نے بیماری کی حالت میں اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے کہی ایران میں زبان زد عام ہے :
——
دوش آمد پی عیادت من
ملکی در لباس انسانی
گفتمش چیست نام پاک تو ، گفت
خواجہ عبد الحمید عرفانی
——
اس کے علاوہ استاد سعید نفیسی نے ارمغان پاک کے مقدمہ میں عرفانی کو ادبیات فارسی معاصر کے ارکان میں شمار کیا ہے ۔ اپنے مقالات اور تحریرات میں استاد نفیسی ، ڈاکٹر خطیبی ، ڈاکٹر منوچہر اقبال ، ڈاکٹر شفق ، صادق سرمد ، آقائی حجازی ، ڈاکٹر کاظمی اور دیگر ایرانی مشاہیر نے عرفانی کو جو خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہ اس مختصر تعارف کی حدود میں نہیں آ سکتا ۔
خانم ڈاکٹر کاظمی ، روہی ، عصر کے مقدمہ میں فرماتی ہیں :
——
تو زکشمیر و خاک پاکستان
ارمغانی برائی ایرانی
——
ڈاکٹر عرفانی کی متعدد منثور و منظوم تالیفات ایران میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ۔ جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں ۔
رومی عصر یا شرح احوال و آثار اقبال
شرح احوال و آثار ملک الشعرا بہار
ایران صغیر یا تاریخ شعراء پارسی گوئی کشمیر
فارسی امروز
حدیث عشق و رباعیات عرفانی
لیکن ” رومی عصر ” جس میں اقبال کے کلام و پیام کو پیش کیا گیا ہے اب تک کئی بار چھپ چکی ہے اور اس کتاب کی مقبولیت ایران میں اقبال کی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے ۔
عرفانی صاحب کو میں بچپن سے جانتا ہوں ۔ ہم ایک جگہ رہے ، ساتھ کھیلے ہیں ، ساتھ پڑھا ہے اور اپنی زندگی کے ابتدائی قیمتی لمحات ساتھ گزارے ہیں ۔
1923ء میں عرفانی علامہ اقبال کی اسرار و رموز چکوال ہائی اسکول کے جلسوں میں اپنی مخصوص لَے میں ہمیں سنایا کرتے تھے ۔
ایران میں اقبال کے کلام سے بہت ہی کم لوگ آشنا تھے ۔ اور جیسا کہ ڈاکٹر عرفانی نے اپنے مقدمہ میں بیان کیا ہے کہ اس میں ایرانیوں کا کوئی قصور نہیں تھا ۔ قیامِ پاکستان سے پہلے اقبال کا کلام نہایت ہی کم اور محدود مقدار میں ایران تک پہنچا تھا مگر اب جب کہ حالات مساعد ہوئے تو نہایت تھوڑے عرصہ میں اقبال کا کلام ہر دلعزیزی حاصل کر چکا ہے اور یہ نہایت ضروری تھا کہ ابتدائی چند سالوں میں ایرانیوں کے تاثرات کو ضبط اور ثبت کر لیا جائے ۔
یہ کام میرے دیرینہ دوست نے نہایت خوبی سے انجام دیا ہے ۔
ہمیں نہایت خوشی ہے کہ عرفانی صاحب نے علامہ اقبال کے متعلق ایرانی ادبا اور فضلا کے خیالات کو اردو زبان میں ڈھال کر ہم تک پہنچایا ہے ۔
البتہ اس سلسلہ میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ایران میں طویل قیام کی بنا پر فارسی زبان عرفانی صاحب کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے ۔
وہ فارسی بولتے اور لکھتے تو ہیں ہی لیکن وہ جب کبھی اردو بولنے یا لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو بھی اس میں فارسی کا اثر نمایاں ہوتا ہے ۔
چنانچہ ہمارے دعوے کا ثبوت فارسی مقالوں اور تقریروں کے ترجموں میں ملے گا جو انہوں نے اس کتاب میں پیش کیے ہیں ۔
——
ڈاکٹر غلام سرور ایم اے ۔ پی ایچ ڈی علیگ
صدر شعبہ فارسی کراچی یونیورسٹی 20 مارچ 1957 ء
——
بحوالہ کتاب : اقبال ایرانیوں کی نظر میں ، صفحہ نمبر 8 تا 12
——
منتخب کلام
——
1953 ء میں روز اقبال کے موقع پر آقائی صفائی نے مندرجہ ذیل قطعہ پڑھا
——
روز اقبال ھمہ اھل ادب را عید است
نام اقبال بتاریخ ادب جاوید است
ترجمہ :
یومِ اقبال تمام ادبا کے لیے عید کا دن ہے ۔
اقبال کا نام ادبیات کی تاریخ میں جاویدان ہے

آسمانی است جہان ہنر و فضل و ادب
کہ در آن مرد ہنر مند مہ خورشید است
ترجمہ :
ہنر اور فضل و ادب کی دنیا ایک آسمان سے مشابہ ہے
اور اس آسمان پر مرد ہنر مند ماہ و خورشید کے مانند ہے

نظم اقبال از آن شہرت روز افزون یافت
کہ ھمہ بکر و بدیع و بری از تقلید است
ترجمہ :
اقبال کے اشعار کی روز افروزن شہرت کی وجہ یہ ہے
کہ اس کا تمام کلام تبع زاد ، جدید اور تقلید سے بری ہے

شعر اقبال بترویج زبان ایران
خدمتہ کردہ کہ شائستہ صد تمجید است
ترجمہ :
اقبال کے اشعار نے ایران کی زبان کو رواج دینے میں جو خدمت کی ہے وہ تعریف کے لائق ہے

چہ در ایران چہ افغان و چہ در پاکستان
روز اقبال ھمہ اہل ادب را عید است
ترجمہ :
ایران میں ہو یا افغانستان یا پاکستان میں
یوم اقبال تمام اہل ادب کے لیے عید کا دن ہے
——
یومِ اقبال 1954 ء کے موقع پر ایران کے مشہور کہنہ مشق شاعر اقائی عباس فرات نے ذیل کا قطعہ پیش کیا
——
ھست نوروز اھل شعر ادب
روز دکتر محمد اقبال
ترجمہ :
شعرا و ادبا کے لیے یومِ اقبال عید نوروز ہے ۔

چون بدو سرفراز شد دانش
چون بدو زندہ گشت فضل و کمال
ترجمہ :
چونکہ اس کے وجود سے دانش کا مرتبہ بلند ہوا
اور فضل و کمال اس کے دم سے زندہ ہوئے

جانب آسمان عز و شرف
میزند مرغ روح او پر و بال
ترجمہ :
اس کی روح کا پرندہ عز و شرف کے آسمان کی طرف پرواز کر رہا ہے ْ

گشتہ زین روز خوش پیالہ ما
از شراب سرور مالا مال
ترجمہ :
اس مبارک دن ہمارا پیالہ شراب سرور سے لبریز ہو گیا ہے

روز او ھم چو مہر دوست فراتؔ
میشود دلفروز تر ہر سال
ترجمہ :
یومِ اقبال محبوب کی محبت کی مانند سال بہ سال زیادہ دلفروز ہوتا جا رہا ہے ۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ