اردوئے معلیٰ

Search

آج کراچی سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ عائشہ بیگ عاشی کا یومِ پیدائش ہے۔

عائشہ بیگ عاشی(پیدائش: 13 ستمبر 1988ء )
——
عائشہ بیگ عاشی نے 13 ستمبر کو ایک دینی سکالر کے گھر میں آنکھ کھولی۔ کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اس کے بعد ایک نجی بنک میں بطور درجہ اول آفیسر کے خدمات انجام دیں ۔ بچپن سے ہی انھیں شاعری سے لگاؤ تھا ۔ سکول کے زمانے میں عائشہ بیگ عاشی نے آزاد نظمیں کہیں ۔ لوگوں نے پسند کیں حوصلہ بڑھتا گیا ۔ شروع شروع میں انھیں غزل کہنے سے ڈر لگتا تھا مگر آخر کار ہمت کی غزلیں لکھنی شروع کی سوشل میڈیا (فیس بک) پہ پوسٹ کیں سینئیر شعراء کرام کی تنقید برداشت کی پھر علم عروض کی طرف توجہ دی سوشل میڈیا کی وساطت سے ہی علم عروض سیکھا اور غزلیں کہیں شعراء کرام اور سامعین نے سراہا ۔ خوش قسمتی سے عائشہ بیگ عاشی کو شوہر (نعمان بیگ مرزا) بھی شاعری کے دلدادہ ملے۔ انھیں نے مزید ہمت بندھائی اور حوصلہ افزائی کی دن بدن ان کی شاعری میں نکھار آتا آ گیا ۔ آزاد نظمیں ، نعتیں اور غزلیں کہیں ۔
——
عائشہ بیگ عاشی ، لطیف جذبوں کی شاعرہ از محمد صدیق نقوی
——
جدید اردو شاعری کے عہد میں اردو شاعری کے سرمائے میں اضافہ کرنے والی شاعرات میں عائشہ بیگ عاشی اس لیے اہمیت کی حامل ہیں کہ انہوں نے دیگر شاعرات کی طرح صرف صنفِ غزل اور صنفِ نظم پر ہی طبع آزمائی نہیں کی بلکہ حمد،نعت،مناقب،سلام وغیرہ کہنے پر بھی بھرپور توجہ دی۔ حمد گوئی میں بھی عاشی کو ایک خاص ملکہ حاصل ہے ۔ اُن کی ایک حمد
——
وہی بانٹے رحمتیں چار سُو، ہیں اُسی کی نعمتیں کُو بہ کُو
وہی تو ہے جلَّ جلال ہُو، وہی تو ہے جلَّ جلال ہُو
——
کے مطالعہ سے مظفر وارثی صاحب کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔ حمد لکھنے کے لیے بے انتہا علم و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے بہت سے فنکار حمد لکھنے سے کتراتے ہیں مگر عائشہ نے صنفِ حمد کو خوب نبھایا ہے اور اپنے سچے جذبات اور احساسات کے توسط سے خالق ِ کائینات کی ذات و صفات
کی تجلّیوں کے کمال کو ظاہر کیا ہے اور اُس کی قدرتوں اور قوّتوں کو کائینات کی ہر شئے میں دیکھنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ عائشہ بیگ عاشی کی شاعری دراصل احساس کی شاعری ہے جس میں فکر و جذبہ پھولوں سے خوشبو کی وابستگی کی طرح لطیف انداز میں ہم آہنگ ہوکر باطنی کیفیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اُن کے کمال فن میں یہ بھی شامل ہے کہ اُن کے تصوّرات میں بیک وقت کئی حسّی پیکر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں اور ایک دوسرے میں مدغم ہوکر نئی تجرباتی فضا قائم کرتے ہیں۔ایک ہی مصرعہ کے دو الگ ٹکڑوں میں دو الگ الگ قافیوں کو استعمال کرنے کا ہنر بھی عاشی کو خوب آتا ہے اور پہلے شعر کے قافیوں کی دیگر تمام بندوں میں معنوی تازگی کے ساتھ پابندی کرنے کے عمل سے بھی وہ خوب واقف ہیں ۔
نعت گوئی کے فن کو پل صراط پر چلنے سے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس میں تھوڑی سی بھی غلطی یا گستاخی در آئے تو شاعر کے ڈگمگانے اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے امکانات یقین کی سرحدوں کو چھو جاتے ہیں ۔ ایمان کی پیمائش کے لیے عشقِ رسول کا پیمانہ نعت کے فن میں ڈھل کر فنکاروں کی تخلیقی حسّیت میں شامل رہتا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس کی محبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ معیار اور بلندی پر فائز ہے ۔
کہتی ہیں۔
——
نور پیش ہر کوکب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے
وِرد آسماں ہر شب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے
مصطفےٰ نے بخشا ہے احترام انساں کو
احترام ہر مذہب مصطفےٰ کا کرتا ہے
——
آج کی جدید اردو شاعری میں شدّت سے متاثر کرنے والی نعت گو شاعرات میں عائشہ بیگ عاشی اس لیے منفرد مقام اور شناخت کی حامل ہیں کہ انہوں نے اپنے جذبہء عشق رسول سے اپنے کلام کو نہ صرف کُندن بنا دیا ہے بلکہ عقیدت اور محبت کے نئے نئے تصوّرات میں نازک خیالی کو پیوست کرتے ہوئے رسول کے اعلیٰ مقام و مرتبے کو ظاہر کرنے والی عظیم صفات کی پیش کشی کا حق ادا کردیا ہے کہ جس سے اُن کے ایمان کی تازگی اور عشقِ رسول کی مہک کااحساس نمایاں ہوتا ہے
نعت گوئی میں عاشی نے جس لفظیات کا سہارا لیا ہے وہ بڑے بڑے نعت گو اساتذہ کے ڈکشن کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کے علاوہ تراکیب کے اختیار اور استعمال کرنے کا جو فطری رجحان عاشی کے پاس نظر آتا ہے وہ بھی اُن کے علمی اور فنّی معیارِ حُسن کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ عاشی نے اپنے کلام میں جن بحروں کا استعمال کیا ہے اُن کا آہنگ نہ صرف عاشی کی رواں طبیعت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ کبھی دھیمے اورکبھی گھن گرج والے انداز سے قاری کے وجود میں جذب کی میٹھی کیفیت جگاتا ہے تو کبھی نیند سے بیدار کرنے کے لیے بجلیاں چمکاتا ہے۔
اگر چہ عاشی نے نعت گوئی میں اپنے کمال کا بہترین مظاہرہ کیا ہے تاہم وہ اپنے اِس تخلیقی اور فنی عمل میں خود کو ادھورا ہی سمجھتی ہیں اِسی لیے وہ آرزو کرتی ہیں کہ انہیں حضرتِ حسّان جیسا نعت ہنر مل جائے تاکہ اس کے توسط سے اُن کے جذبات اور احساسات کے اظہار میں حضرتِ حسّان کی صداقت، جراءت اور جوش کے ساتھ ساتھ نگاہ کی کشادگی، فکر کی بلندی اور عشق کی تڑپ بھی شامل ہوجائے جس سے نعت گوئی کا حق ادا ہوسکے اور اسی نسبت سے وہ دنیا اور آخرت میں سرخ رُو ہوجائیں اور تکمیلِ ذات کے مرحلے سے گزر کر ابدی زندگی حاصل کرلیں۔
اُن کی بعض نعوت میں عربی اور فارسی آمیز تراکیب اس خوب صورت انداز سے مستعمل ہوئی ہیں کہ نہ تو ثقالتِ زبان وبیان کا پتا چلتا ہے اور نہ ہی کہیں روانی میں رُکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہ کمال صرف اور صرف اُن کی اُس فطری صلاحیت کا نتیجہ ہے جسے قدرت نے اُن کے وجود میں خوشبو کی طرح بسا دیا ہے۔ الفاظ کی دروبست اور معنوی تاثیر سے جب عاشی کی نعت گلشن کی طرح مہکنے لگتی ہے تو اس سے گزرنے والے وجود بھی سراپا معطّر ہوجاتے ہیں اور جذب اور وجد کی کیفیات سے مغلوب ہوکر روحانی سرشاری حاصل کرتے ہیں اور تجلّیاتِ حُسن ازلی میں کھو جاتے ہیں۔
عاشی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت ہے اور اسی محبت کا تقاضا ہے کہ وہ آپ کے نام کو اتنا میٹھا اور شیریں بتاتی ہیں کہ شہد بھی اس پر رشک کرے اور کائینات میں آپ ہی ایک ایسے محبوب ہیں جو جفا سے پاک ہیں ۔ آپ کے وجودِ پُرنور پر صبحِ ازل فریفتہ ہے تو قوسِ قزح آپ کے حُسن وجمال کی شہیدِ ناز ہے۔ آپ کی رحمت سے دل کے غنچے کِھل جاتے ہیں تو آپ کی جبینِ پاک کی روشنی سے دو جہاں منوّر ہیں
حمد و نعت گوئی کے علاوہ عاشی نے صحابہء کرام کی شان میں بھی اپنا نذرانہء عقیدت پیش کیا ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر تحریر کیے گئے قطعات سے عاشی کی اُن سے دلی وابستگی اور والہانہ محبت کا ثبوت ملتا ہے ۔ عاشی کے اِن قطعات میں حدیثِ شریف کے مفاہیم کے روشن پہلو نمایاں ہیں جو صحابہ سے حُسنِ عقیدت کی بنا پر اُن کے تخلیقی عمل کا حصّہ بن گئے ہیں ۔ عاشی نے ان بزرگانِ دین کو محبت بھری نگاہ سے دیکھا ہے اور اُن کی حقیقی نورانی شخصیتوں پر قلم اُٹھا کر اپنی آگہی کے منوّر ترین گوشے کو ایمانی تجلّیات کی آماجگاہ بنا دیا ہے ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مناقب اور سلام کے ہدیے بھی انہوں نے پیش کیے ہیں جن میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک ذات کے کئی اوصاف دھنک رنگوں کی طرح سجے ہوئے ہیں.
عاشی کی غزلیہ اور نظمیہ شاعری کا جب مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کی شاعری کا خمیر ’’ عشق ومحبت ‘‘ سے اُٹھا ہے ۔ اُن کی شاعری کا محبوب حقیقی دنیا کا جیتا جاگتا محبوب ہے جس کی ذات سے عاشی کو بے حد لگاؤ اور پیار ہے اور جو تیرگی میں روشنی کا استعارہ اور سوچ راتوں میں چمکتا ہوا ستارہ ہے ۔
عاشی کا عشق یکطرفہ عشق نہیں ہے بلکہ اُن کے محبوب کے دل میں بھی اُن کے لیے محبت کا ایک بیکراں سمندر موجود ہے ۔اُن کے محبوب کا لطیف اور پاکیزہ لمس پاکر وہ جھوم اُٹھتی ہیں لیکن یہ لمس جنسی تلذّذ سے پاک روحانی سرشاری کا ضامن ہے۔
——
سبھی موسِم دکھاتا ہے تُمہارے عشق کا طوفاں
کبھی مجنوں، کبھی رانجھے، کبھی فرہاد کا موسِم
محبت میں بھی وحدانی عقیدہ میرا مسلک ہے
مجھے عاشی ملا ہے عشق کے اجداد کا موسِم
——
عاشی اپنے محبوب کی ذات میں اِس قدر جذب ہوچکی ہیں کہ جہاں اُن کا کرب و اضطراب سکون کی لہروں میں تبدیل ہوکر ساحل سے ہم آغوش ہوگیا ہے اور وہ محبوب کا سہارا پاکر دائمی زندگی کی لذّت سے فیضیاب ہوچکی ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی مجازی محبت شدّتِ احساس اور جوشِ جذبہ کے بازو لگائے عشقِ حقیقی کے فلک پر اُڑان بھر رہی ہے اور اپنی تکمیلِ ذات کے نورانی حوالے اور سہارے تلاش کررہی ہے ۔ اظہار کا یہ علامتی پہلو عاشی کی شاعری میں کئی معنوی تہیں اور جہتیں کھول کر اُن کی فطری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اُن کی فکر کی بالیدگی اور تخیل کی بلند پروازی کی نمائندگی کرتا ہے اور اُن کے ذاتی تجربہ کے احساس کو کبھی تجسیم سے وابستہ کردیتا ہے تو کبھی تجریدی کیفیتوں میں پیوست کردیتا ہے۔
عاشی کی غزلوں میں اُن کا اظہاری رویّہ کبھی مخاطب کے کردار کو جنم دیتا ہے تو کبھی خود کلامی کے رنگ کو اُبھارتا ہے ۔ دونوں ہی مرحلوں میں اُن کی تخلیقی قوّت داخلی احساسات کی ترجمانی کرنے میں فطری روش کو اختیار کرتی ہے اور اُن کے آگہی کے درد کو قطرہ قطرہ ٹپکاتے ہوئے شعری آہنگ میں سوز و گداز کی کیفیت پیدا کرتی ہے جس کی میٹھی میٹھی ہلکی سی آنچ میں تپ کر قاری کے تزکیہء نفس اور تصفیہء قلب کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ عاشی کی شاعری میں نظر آنے والا درد اُن کے تخیّل کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ اُن کے ذاتی تجربوں کا وہ تاثر ہے جو زندگی کے میدانِ کارزار سے ہوتا ہوا اُن کے وجود کی گہرائیوں تک پھیل گیا ہے ۔
——
اس گھر کی میں بنیاد ہی کسطرح بدل دُوں
میں نے تو کبھی گھر کے ملازِم نہیں بدلے
رشتوں کا بھرم رکھنے کو قربانی ء جذبات
اے عشق! ترے اب بھی لوازِم نہیں بدلے
——
عاشی کی شاعری مانگے کا اُجالا نہیں ہے بلکہ یہ اُن کے دل کی وہ آواز ہے جس میں اُن کے باطن سے پھوٹنے والا درد روشنی کی صورت میں ظاہر ہوکر زمانے کے دکھیاروں کے لیے مرہم اور راحتِ جاں بن جاتا ہے۔ زندگی کو رنگین اور شاداب رکھنے کے لیے خون کی ضرورت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے مگر زندگی ہی جب دشمنِ جاں بن کر حملہ آور ہوتو ایسی صورت میں کیا کیا جاسکتا ہے ۔
——
جو حقیقت کی تلخیاں جانے
وہ کہانی کی پیاس کو سمجھے
——
عاشی نے زندگی سے پیار بھی کیا ہے اور اُسے سرخ رُو رکھنے کے لیے اپنے خونِ جگر سے بھی اُسے سینچا ہے مگر وہ اِس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ پھر بھی زندگی کا چہرہ زرد زرد دکھائی دیتا ہے۔ اُن کی شاعری میں بعض جگہ حیرت کی لطافت کا خوب صورت اظہار بھی اُن کی تخلیقی فکر کی نمائندگی کرتا ہے اور سوچ کے نئے باب وا کرتا ہے۔
عاشی نے اپنی شعری کائینات کو پیکر تراشی کے عمل سے بھی وابستہ کیا ہے ۔ اُن کی غزلوں میں پیکر تراشی کے کئی نمونے حُسن و جمال سے رشتہ قائم کرتے ہوئے بیک وقت کئی حسّیات میں ارتعاش پیدا کرتے ہیں اور لفظی اظہار کے ایسے پیرائے اختیار کرتے ہیں کہ تخیّل کی فراوانی حسّی تجربوں میں ڈھل کر مجسّم شئے کا روپ دھار لیتی ہے اور نئی جمالیاتی کیفیتوں سے گزار کر باطن میں چراغاں کردیتی ہے۔عاشی جو ذہنی تصویریں پیش کرتی ہیں اُن کے تاثرات نہ صرف قاری کے حواسِ خمسہ پر مرتسم ہوتے ہیں بلکہ وہ لفظی پیکروں کی مشابہت معروضی اشیاء میں پالیتا ہے۔ آنکھوں سے خوشبو آنا، صبا میں تازگی ہونا ، شاخوں کا پرچم اُٹھانا، سانسوں میں خمار بھرنا، ہونٹوں پہ صدا کا لہرانا، رقص کرتے ہوئے وقت کی آنکھ پر اشک کا لرزنا کانپنا، خوشبو کا چاندنی اوڑھنا، گلوں سے رنگت کشید کرکے زمیں پر دھنک سجانا، ہوا سے خوشبو چُرانا، جُنوں کی روشنی کا اُڑنا، کمرہء جاں میں کرمکِ تنہائی کا ہونا، دھڑکنوں کے قدم کا بکھرنا، سوچ کے آہن کا تھکن سے چُور ہونا، اُداسیوں کی سرزمیں کی سنگلاخ برف پر گلابِ آرزو کا کِھلنا،خیالِ عاشی میں ہر گھڑی طلبِ جاناں کی حسیں رنگ تتلیوں کا رقصاں ہونا، خوشبوؤں کے تروتازگی کے پیراہن ہونا، سوچ جزیرے کی طرف بادباں کا کُھلنا، لبِ شب پر جلتا بُجھتا کسی جگنو یا دئیے کا ہونا، حرفوں کا لب پر دستک دینا، قلم میں چاندنی بھرنا، پلکوں پہ سورج کو روکنا اور ساحل پر محبوب کے ساتھ وقت کو امر کرنا، تخیّل کے فلک پر ستارے کا مسکرانا، وقت کے پیروں کی نبضوں کا ساکت ہوجانا، نم کناروں میں تشنہ رہنا، یہ اور اس طرح کے کئی شعری پیکروں نے عاشی کے منفرد جذبات و خیالات، تصوّرات واعمال اور اشیاء کے حسّی اور ماورائے حسّی تجربات کو محسوس و مدرک اجسام میں ڈھال دیا ہے جن کے مطالعہ سے زندگی کے حُسن کو دیکھنے کا ایک جمالیاتی وژن پیدا ہوتا ہے۔ عاشی کا احساسِ حُسن گہرا ہے اور اُن کے تخیّل کی بلند پروازی نے جو خوب صورت شعری پیکر تراشے ہیں اُن کے باطن سے گزر کر وجود پر ایک طلسمی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ایک انوکھا طرزِ احساس بھی بیدار ہونے لگتا ہے۔
——
ہوا سے خوشبو چرا رہی ہوں
دریچے دل کے سجا رہی ہوں
جو میری سوچوں کو روشنی دیں
نظر میں سورج اُگا رہی ہوں
سخن کی شاخِ خیالِ نو پر
میں رنگ و خوشبو کِھلا رہی ہوں
سجا کے حرفوں میں چاند تارے
رُخِ غزل جگمگا رہی ہوں
کشید کر کے گُلوں سے رنگت
دھنک زمیں پر سجا رہی ہُوں
حصار کر کے محبتوں کا
دِیے ہوا میں جلا رہی ہوں
ازل سے آبِ حیات عاشی
امیدِ جاں کو پلا رہی ہوں
——
عائشہ بیگ عاشی نے اپنے خوبصورت اندازِ فکر کو جس حسن و جمال کے ساتھ شعروادب کا روپ دیا ہے وہ انکی فکر کی بلندی کے ساتھ خیالات کی پاکی اور نظریات کے ستھرے پن کو نمایاں کرتا ہے۔۔ عاشی اس طرح نہ صرف پاک و صاف جذبوں کی شاعرہ ہیں بلکہ شعوری اعتبار سے حسن و لطافت کی پیکر تراشی کا ہنر بھی رکھتی ہیں اس لحاظ سے اردو کی جدید شاعرات میں وہ نہ صرف اپنے حسنِ خیال ، لطیف جذبوں ، شعور کی بلندی اور صاف ستھرے پن کی وجہ سے یاد کی جاتی رہیں گی بلکہ ان کا معیار دوسری شاعرات کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
——
مجھ کو جنت میں چاہے نہ جینا ملے
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
تیرگی سے اجالوں کے دستور تک
ہر طرف روشنی ہو جہاں دور تک
لے چلے جو مجھے ساحلِ نور تک
بحرِ ہجرت میں ایسا سفینہ ملے
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
بے عمل عشقِ کامل نہ کہلا سکے
یہ دیوانی بھی دربار تک جا سکے
سنت و سیرتِ شاہ اپنا سکے
اِس کو جینے کا احسن قرینہ ملے
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
اُجڑی اُجڑی ہوئی زندگی ہے یہاں
آتشِ ہجر کا ہے دھواں ہی دھواں
میرے آقا بدل جائے میرا جہاں
یثربی زندگی کو وہ زینہ ملے
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
سامنے ہو سدا قریہ ء مصطفیٰ
وا کرُوں تو ملے روضہ ء مصطفیٰ
بند ہوں تو ملے جلوہ ء مصطفیٰ
پُتلیوں کو وہ اِک آبگینہ ملے
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
جاہ و حشمت مری آرزو ہی نہیں
تُزک و رفعت مری جستجو ہی نہیں
زر پرستی تو عاشی کی خو ہی نہیں
صرف نعتِ نبی کا خزینہ ملے
بس مدینہ مدینہ مدینہ ملے
——
میں شہرِ مدینہ کا سفر مانگ رہی ہُوں
سرکار سے سرکار کا در مانگ رہی ہُوں
پہلے بھی کئی بار ملا اذنِ حضوری
پھر باعثِ تسکینِ نطر مانگ رہی ہُوں
بڑھتی ہی چلی جائے شبِ تِیرہ مسلسل
از مہرِ نبی نورِ سحر مانگ رہی ہُوں
لکھنی ہے مجھے نعت شہِ کون و مکاں کی
حسان سے میں نعت ہنر مانگ رہی ہُوں
کہنے کا سلیقہ مجھے آتا ہی نہیں ہے
مختار سے بادیدۂ تر مانگ رہی ہُوں
جس خاک نے چُومے تھے کبھی پائے مبارک
تزئینِ جبیں کو وہ دُرَر مانگ رہی ہُوں
جو پیش کرے سیّدِ لولاک کو عاشی
وہ تابِ سخن رشکِ قمر مانگ رہی ہُوں
——
کتابِ زیست کا ہر باب دیکھنا ہوگا
تمام باتیں تو عنوان میں نہیں ملتیں
——
عشق کے کیا عجب اصُول ہُوئے
پُھول بوئے تھے اور ببُول ہُوئے
جِن پہ کل روشنی کے ہالے تھے
راستے سب کے سب وہ دُھول ہُوئے
——
جس مٹی نے سب کو عاشیؔ ماں جیسی گود میسر کی
کیونکر نہ وہ مٹی سر پیٹے مٹی سے وفائیں چھلنی ہیں
——
لہُو جبیں کا ملا ہے حرَم کی چوکھٹ پر
میں کیسے اور کوئی آستاں تلاش کرُوں
——
خوشی کا اور راحت کا کبھی اِک پل نہیں دیتی
سدا بےچین رکھتی ہے محبت کل نہیں دیتی
——
عاشی نہ جانے کس گھڑی گِر جائے آسمان
تھامے تھا جو فلک، وہ سہارا نہیں رہا
——
کہا اُس نے
گلستاں کو محبت ہے بہاروں سے
کہا میں نے
خزاں تو پھر بھی آنی ہے
کہا اُس نے
محبت چاند سی روشن
کہا میں نے
کرن کب ہاتھ آتی ہے
کہا اُس نے
محبت کھیل دل کا ہے
کہا میں نے
محبت تو ہراتی ہے
کہا اُس نے
پتنگے کو کبھی دیکھا
کہا میں نے
محبت تو جلاتی ہے
کہا اُس نے
محبت اک نگینہ
کہا میں نے
دکھوں کا ایک زینہ ہے
کہا اُس نے
محبت تو ستارا ہے
کہا میں نے
اسے تو ڈوب جانا ہے
تو پھر کب یہ ہمارا ہے
کہا اُس نے
محبت میں جہاں کا حسن سارا ہے
کہا میں نے
یہ بہلاوا ہے اور بس استعارہ ہے
کہا اُس نے
اری پگلی
محبت کر کے تو دیکھیں
یہ رنگینی نگاہوں کو دکھاتی ہے
کہا میں نے
ارے چھوڑو
کہاں پھر دیکھنے کا وقت ملتا ہے
محبت مار جاتی ہے
——
درد سے چُور ہوتے جا رہے ہیں
زخم ناسُور ہوتے جا رہے ہیں
بدگُمانی کاکچھ سبب ہی نہیں
بے سبب دُور ہوتے جارہے ہیں
اشک مشکیزے ، غم کے کاندھوں پر
غم بھی مزدُور ہوتے جا رہے ہیں
انکسارُالمزاج ہم ہُوئے کیا
لوگ مغرُور ہوتے جا رہے ہیں
میری غزلوں کو اوڑھ کر مرے غم
کتنے مشہُور ہوتے جا رہے ہیں
دن کی آنکھوں سے جو بہے جگنو
شب کا وہ نُور ہوتے جا رہے ہیں
کھودے قبر اپنی ہر کوئی ، عاشیؔ
کیسے دستُور ہوتے جا رہے ہیں
——
دریا ہوئی ہے آنکھ تو صحرا ہوا ہے دل
کس کیفِ بے مراد میں ٹھہرا ہوا ہے دل
فولادِ غم نکالے گا دریائے دل سے کون
اب تو سمندروں سے بھی گہرا ہوا ہے دل
عکاسِ دردِ عالمِ کُل یونہی کب ہُوا
بھٹی میں صدیوں جل کے سنہرا ہُوا ہے دل
دھڑکن کی آرزو کوبھلا کس طرح سنے
سیسا بگوش یاس ہے ، بہرا ہوا ہے دل
اے کاش بے سبب نہ مچلتا، سنبھلتا کچھ
عاشی کا انتباہ تھا، پہرہ ہوا ہے ! دل
——
انسان کے کردار میں کیا ڈھونڈ رہی ہُوں
بکتے ہُوئےبازار میں کیا ڈھونڈ رہی ہُوں
برسوں سے خبر بدلی نہیں شہرِ وفا کی
پھر ڈُوب کے اخبار میں کیا ڈھونڈ رہی ہُوں
شیشے کی ہے دیوار کڑی دھوپ ہے سر پر
میں سایہ ء دیوار میں کیا ڈھونڈ رہی ہُوں
ہرحرف ہی مصنوعی ہے اس دورِ غرض کا
گُفتار کے پندار میں کیا ڈھونڈ رہی ہُوں
رنگت ، نہ نزاکت، نہ مہک کچھ بھی نہیں ہے
اب خانہ ء پُر خار میں کیا ڈھونڈ رہی ہوں
کچھ کرب کے لمحوں میں ہے صدیوں کی اذیت
میں وقت کی رفتار میں کیا ڈھونڈ رہی ہوں
تہذیب کھنڈرہوتی چلی جاتی ہے عاشی
مٹتے ہوئے آثار میں کیا ڈھونڈ رہی ہُوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ