اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر اکبر حیدر آبادی کا یومِ وفات ہے ۔

اکبر حیدر آبادی(پیدائش: 20 جنوری 1925ء – وفات: 7 اکتوبر 2014ء)
——
لندن میں ایک طویل عرصے سے مقیم اکبر حیدر آبادی (اکبر علی خان) کا شمار غزل اور نظم کے اہم شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش حیدر آباد میں 1925 کو ہوئی، یہیں پر ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے وہ 1955 میں آکسفرڈ چلے گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ آرکیٹیک کے علمی اورعملی سفر میں وہ برابر شعر کہتے رہے، ان کے متعدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی شاعری کے انگریزی تراجم بھی دلچسپی کے ساتھ پڑھے گئے۔
——
اکبر حیدر آبادی از آصف جیلانی
——
میں آنے والے شب و روز کا قصیدہ ہوں۔
مجھے اس پر ناز ہے کہ میں نے اکبر حیدر آبادی کو دیکھاہے، ان کی پر تبسم شخصیت سے متاثر ہوا ہوں ، ان کی شاعری سے سر شار ہوا ہوں اور ان کے فکر انگیز کلام سے وجدان حاصل کیا ہے ۔ میرے ساتھ مجھے یقین ہے کہ برطانیہ کی ادبی دنیا کو بھی اس بات پر فخر ہے کہ اکبر حیدر آبادی اس کی شان رہے ہیں اور اس کی درخشا نی ان ہی کی مرہون منت رہی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
——
مشرقی تہذیب اور اردو ادب کے گہوارے حیدر آباد دکن میں پروان چڑھنے والے اکبر حیدر آبادی خوش قسمت تھے کہ جب وہ جے جے اسکول آف آرٹس میں تعلیم حاصل کرنے بمبئی پہنچے تو وہاں رومانیت کے خام دور کے بعد ان کی ذہنی نشو ونما ، ترقی پسند مصنفین کی کہکشاں کی ضو میں ہوئی جس میں ساحر، مجروح ، کیفی، انصاری اور سردار جعفری ایسے تابندہ ستارے شامل تھے۔ ان کی قربت اور ترقی پسند تحریک سے گہری وابستگی نے انہیں مقصدیت اور رجائیت سے بھرپور مثبت اور توانا نقطہ نظر عطا کیا۔
——
ہر لحظہ مری ذات کی تشکیل و نمو میں
ہر موڑ پہ تاریخ کے دھارے ہیں مرے ساتھ
——
اور پھر جب اکبر حیدر آبادی سن پچپن میں فنِ تعمیر کی اعلی تعلیم کے لئے گہوارہ علم آکسفورڈ آئے تو ایک نئی دنیا سے روشناس ہوئے اور اس کی اقدار ، اس کے طرز زندگی اور اندازِ فکر سے فیض یاب ہوئے ۔ سونے پر سہاگہ انگلستان میں انہیں ن،م راشد اور فیض احمد فیض کی صحبت حاصل رہی جس نے ان کی شعری تخلیقات کو ایک نئی جلا بخشی، ان کی سوچ میں آفاقیت در آئی اور شاعری میں انہوں نے ایسے نایاب موضوع متعارف کرائے جو اس سے قبل اردو شاعری میں دور دور تک نظر نہیں آتے تھے، خاص طور پر سائینس اور ٹیکنا لوجی کا ارتقاء علم فلکیات، علم نفسیات اور فلسفہ۔
اپنی جوت سے جس کی تابش ، اپنی آگ سے جس کی تپش اپنے مدار میں جس کی گردش وہ میرا سیارہ ہے
اوزون تہہ کے موضوع کا انتخاب اس لحاظ سے اکبر حیدر آبادی کا دلیرانہ اقدام تھا کہ اب تک اردو شاعری میں اس موضوع پرکسی نے طبع آزمائی نہیں کی۔ یوں انہوں نے خلا اور سائنس کے شعبہ میں ہونے والے تجربات کو اپنی شعری تخلیقات کے آینہ میں عوام کو آگہی کا روپ دیا۔
——
اکبر کرۂ ارض کی مسموم فضا سے
تہذیب کے اوزون کی چادر کو بچائیں۔
——
اکبر حیدرآبادی کے ہاں فکر ایک رود پیہم کی مانند نظر آتی ہے۔ تجسسِ کاینات ، وجود و زندگی اور زندگی بعد از موت ، کے بارے میں وہ بنیادی سوالات کو نہایت سنجیدگی سے غورو فکر کے احاطے میں لاتے ہیں۔
——
ہے کیا فنا میں بھی رنگِ ثبات، سوچتا ہوں
حیات ہے کوئی بعد حیات ؟ سوچتا ہوں
——
اکبر حیدر آبادی نے برطانوی معاشرہ میں اردو شاعری کی اس روایت کو زندہ رکھا جو خود اردو کے سواد اعظم میں دم توڑتی نظر آتی ہے۔ انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ آج کل زبان، محاورہ ، بندش اور قواعد سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے ۔ اپنے پانچویں مجموعہ ’’قرض ، ماہ و سال کے‘‘ میں انہوں نے لکھا ہے۔’’شاعری آج کل ایک نئی اور انوکھی نہج سے کی جارہی ہے۔بہت سی باتیں جو پہلے بدعت سمجھی جاتی تھیں اب تسلیم کی جانے لگی ہیں۔ فکر و خیال کے ارتقا میں جدت و انفرادیت کی بڑی اہمیت ہے مگر جہاں جدت برائے جدت ہو اور جس کا مقصد محض قاری کو چونکا دینا ہو وہ کسی غیر جانب دار اور صاحبِ نظر نقاد کو متاثر نہیں کر سکتی‘‘ ۔
——
یہ بھی پڑھیں : کیف عظیم آبادی کا یومِ پیدائش
——
جہاں اکبر حیدر آبادی اپنے دل کے لطیف احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔
——
یوں بھی اک جشن آرزو کرنا ، دل کو رو رو لہو لہو کرنا
جن سے اک آشنا مہک آئے ،ان ہواؤں سے گفتگو کرنا
——
وہاں اکبر صاحب اپنے اردگرد کے حالات اور مسائل سے پیوست نظر آتے ہیں۔ Serbs اور Croats کے ہاتھوں بوزنیا کے مسلمانوں کے قتل و غارت گری اور اقوام متحدہ کی بے اعتنائی کے تناظر میں اپنی نظم ’’مقتل ‘‘ میں لکھتے ہیں۔
——
سینہ وقت کا رستا ناسور،
مقتل بوزنیا
اک خزاں دیدہ چمن ایک زمینِ بے نور
مقتل بوزنیا
ہر دھڑکتا ہوا دل، ہر چہرہ
ملک الموت کے چہرے کا بھیانک پرتو
خوفِ بے پایاں کی وحشت سراپا رنجور
نحیف و مجبور
خون کس کس کا بہا کیسے بہا؟
خوں بہا کس سے طلب کیجیے
قاتل ہے کہاں؟
——
اکبر حیدر آبادی نے اپنی عمر کے باسٹھ سال برطانیہ میں گذارے لیکن ان کی شعری تخلیقات میں ترک وطن کا درد تازہ اور نمایاں رہا۔ یہ درد کسک کا تو باعث رہا لیکن اندوہناک نہیں ثابت ہوا۔ یہ درد در اصل اپنی زمین سے رشتہ اور وابستہ یادوں سے عبارت رہا۔
——
عمر گزری یہاں آدھی سے زیادہ لیکن
اجنبیت ہے مقدر میرا
نہ زمیں میری نہ ہے گھر میرا
——
اس کے باوجود اکبر حیدر آبادی کے کلام میں بلا کی رجائیت ہے او مستقبل کے مثبت اور توانا امکانات کی نوید نمایا ں ہے ۔ مری نظر میں ہے ماضی کا طمطراق مگر۔۔۔میں آنے والے شب و روز کا قصیدہ ہوں۔
اک کسک اکبر صاحب کے ہاں نمایاں رہی ہے۔
——
دولت ملی ، مکان ملا ، نوکری ملی
شہرت ملی، وقار ملا ، دوستی ملی
اک جسم تھا کہ جس کوملیں ساری نعمتیں
اک روح تھی کہ جس کو فقط تشنگی ملی
——
یہ بھی پڑھیں : اختر انصاری اکبر آبادی کا یومِ وفات
——
اکبر حیدر آبادی نے اردو شاعری کے کئی ادوار دیکھے اور نئی تحریکوں کو ابھرتے اور غروب ہوتے دیکھا ۔ انہوں نے وہ دور بھی دیکھا تھا جب نظم کا دور دورہ اور شاعری پر اس کی حکمرانی تھی لیکن اکبر صاحب نے غزل کا ساتھ نہیں چھوڑابلکہ اسے نت نئے موضوعات اور نئے انداز سے آراستہ کرکے اسے جلا دی اور ایک نئی تازگی بخشی۔ غزل کے میدان میں انہوں نے نئے اور منفرد موضوعات سے روایت پرستی کو للکارا۔ اس طرح انہوں نے نئی ترکیبوں اور استعاروں کا انمول اضافہ کیا۔
——
کسی سے پہلے پہل ہم جوآشنائے گئے
امید و بیم کے کتنے دیے جلائے گئے
کسے خبر کہ پرستش کے ہیں عوامل کیا
نہ جانے کیسے صنم تھے کہ جو خدائے گئے
کہاں وہ پہلا سا احساس گرم و سرد اکبر
کہ اب مزاج ہمارے بھی موسمائے گئے
——
اکبر حیدر آبادی کے پانچ شعری مجموعے ہیں۔ رہگزر ، نمو کی آگ، آوازوں کا شہر، ذروں سے ستاروں تک، اور قرض ماہ و سال کے ۔ ان کی انگریزی نظموں اور اردو نظموں کے منظوم انگریزی ترجموں کا مجموعہ جس کا پیش لفظ رالف رسل نے لکھا ہے چند سال قبل شائع ہوا ہے ۔
بلا شبہ اکبر حیدر آبادی کی یہ شعری تخلیقات عصری اردو ادب کا ایک انمول سرمایہ ہے جس پر برطانیہ کے رہنے والوں کو خاص طور پر فخر ہے کہ اکبر حیدرآبادی ان کے درمیان رہتے تھے۔
——
اے چرخ اپنا مد مقابل مجھے سمجھ
میں عقل بھی ہوں تو نہ فقط دل مجھے سمجھ
اکبر نہ ڈھونڈو مجھ کو حدوں کے حصار میں
رہتی ہے جو سفر میں وہ منزل مجھے سمجھ۔
——
منتخب کلام
——
فیضِ جاریہ
——
خدایا ، کرامات تیری ، نشانات تیرے
زمیں تا زمیں اور فلک تا فلک آشکارا
خدایا ، تری قدرت بے نہایت کے جلوے
ہوا ، آگ ، پانی ، مہ و آفتاب و ستارہ

تیری شانِ تخلیق ، تیری سخاوت کہ تو نے
زمیں کو شجر اور سمندر کو موتی دئیے ہیں
تری ذاتِ بے عیب کے ہیں یہ اعجاز سارے
کہ اجسامِ خاکی کو اوصافِ نوری دئیے ہیں

نباتات و حیوان و بشر اور ملائک
تصرف میں تیرے سبھی ، زندگی سے اجل تک
وجودِ زمان و مکاں تیرا ادنیٰ کرشمہ
تو ہی ازل سے ابد تک ، ابد سے ازل تک
——
یا رسول اللہ
——
ہے مرا فرض کہ میں حمد کے بعد
آپ کی شان میں بھی نعت لکھوں
ہر نفسِ لب پہ یہی ذکر رہے
یہی کلمات میں دن رات لکھوں
آپ کا دل ہے وہ آئینہ
کہ جس کے اندر
پرتوِ جلوۂ رب العزت
شخصیت آپ کی ، سرچشمۂ مہر و الفت
آپ کی ذات سراپا رحمت
دین اس وقت تک دین نہیں ہو سکتا
آپ کا نام نہ آئے جب تک
نام اللہ کے ساتھ
میرا ایمان بھی لاحاصل و ناقص جب تک
زندگی آپ سے منسوب نہ ہو جائے میری
آپ کے وصف بیاں کرنا سعادت میری
یہی سرمایۂ نایاب ہے دولت میری
آپ کی پیروی اعزاز میرا
میری نجات
آپ ہیں شمعِ ہدایت میری
——
ادا ہو قرضِ جمال مجھ سے یہ بات وہم و خیال کی ہے
میں منفرد لفظ ڈھونڈتا ہوں کہ مدح اُس بے مثال کی ہے
——
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے ، وہ لوٹا رہا ہوں میں
——
تاج محل کا حسن امر ہے لیکن یہ شہکار
جس کا ہُنر ہے ، اس کا ہی احوال نہیں ملتا
——
نفرتوں کے سائے بھی پیچ دار تھے لیکن
دور دور تک پہنچی روشنی محبت کی
——
وہ آدمی جو نئے ذہن کی علامت ہے
اس آدمی ہی کو اب رہنما بنا کے چلیں
——
عکس نادیدہ زمانوں کے ابھرتے ہی رہے
منعکس کیا مرے اندر کوئی آئینہ تھا
——
اچانک آ گیا فنا کا موڑ راہ میں
مسافتِ حیات جیسے ایک جست تھی
——
اُن حقائق کا بھی تھا دل سے علاقہ کوئی
میں پرکھتا تھا جنہیں عقل کے پیمانے سے
——
ہے میری روح میں مٹی کی تشنگی اکبرؔ
سمندروں سے جو رکھتی ہے ہمکنار مجھے
——
کب تک یونہی غم روح کی خلوت میں پلے گا
کب تک مرے ہمراہ یہ آسیب چلے گا
——
مرحلہ اپنی شناسائی کا آساں ہو جائے
مجھ میں جو شخص چھپا ہے وہ نمایاں ہو جائے
——
سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
جیتے جی ہی مر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی
خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
بجھے دلوں کو روشن کرنے سچ کو زندہ رکھنے
جان سے اپنی گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
عقل و خرد کے بل بوتے پر سب کو حیراں کر کے
کام انوکھے کر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
ہو بے لوث محبت جن کی غنی ہوں جن کے دل
دامن سب کے بھر جاتے ہیں ایسے ایسے لوگ
——
جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے
مائل ان کی سمت زمانہ کم کم ہوتا ہے
رستے ہی میں ہو جاتی ہیں باتیں بس دو چار
اب تو ان کے گھر بھی جانا کم کم ہوتا ہے
مشکل ہی سے کر لیتی ہے دنیا اسے قبول
ایسی حقیقت جس میں فسانہ کم کم ہوتا ہے
کبھی جو باتیں عشق کے سال و سن کا حاصل تھیں
اب ان باتوں کا یاد آنا کم کم ہوتا ہے
رند سبھی ساغر پر ساغر چھلکاتے جاتے ہیں
کیوں لبریز مرا پیمانہ کم کم ہوتا ہے
بات پتے کی کر جاتا ہے یوں تو کبھی کبھی
ہوش میں لیکن یہ دیوانہ کم کم ہوتا ہے
کتنی مقدس ہوگی اکبرؔ اس بچے کی پیاس
جس کی اک ٹھوکر سے روانہ زمزم ہوتا ہے
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب از آوازوں کا شہر 1988 ء ، قرض ماہ سال کے 2000 ء ، فردوسِ خیال 2002 ء
مصنف : اکبر حیدر آبادی ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات